06:06 am
یاسین ملک کی جیل میں خرابی صحت پر پاکستان کا اظہار تشویش

یاسین ملک کی جیل میں خرابی صحت پر پاکستان کا اظہار تشویش

06:06 am

اسلام آباد(وقائع نگار ) پاکستان نے مستقل حراست محمد یاسین ملک کی صحت خراب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔دفتر خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ حریت رہنما کی دوران حراست صحت خراب ہونے کے باوجود ان کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جبکہ حریت رہنما کی بیماری کو ان کے اہل خانہ سے کئی روز تک چھپایا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ماضی میں بھارت کی حکومت کی جانب سے حریت رہنمائوں کیخلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کو مد نظر رکھتے ہوئے، جن میں ان پر تشدد اور غیر قانونی گرفتاریاں بھی شامل ہیں، یسین ملک کے اہل خانہ کا ان کی زندگی اور صحت سے متعلق خدشات کا اظہار بلکل درست ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ حریت رہنما یسین ملک کی حراست خود بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے خلاف بھارتی کارروائیوں کی آئینہ دار ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے کالے قوانین، جس میں پبلک سیفٹی ایکٹ بھی شامل ہے، انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے جبکہ قابض بھارتی فورسز کی جانب سے بغیر کسی ٹرائل کے کشمیریوں کو حراست میں رکھنے پر انسانی حقوق کے ہائی کمشنر اور برطانیہ کی آل پارٹیز پارلیمنٹیری کشمیر گروپ نے تنقید کی ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ قابض بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیریوں کے خلاف بے دریغ طاقت کے استعمال اور ان کے حق خود ارادیت کو دبانے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں سے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت ختم نہیں ہوسکتی بلکہ یہ صورت حال کو مزید خراب کردے گی۔جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، بھارت کی حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ یسین ملک کو صحت کی تمام بہتر سہولیات فراہم کرے گی۔ پاکستان