06:06 am
 کراچی کے بعدلاہور، 15 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کاانکشاف

کراچی کے بعدلاہور، 15 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کاانکشاف

06:06 am

لاہور( نیوزایجنسی )کراچی کے بعد لاہور میں منی لانڈرنگ کا نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے۔ مختلف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے نجی بنک کے ذریعیلگ بھگ 15 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کاانکشاف ہو اہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک نجی بنک کو استعمال کرکے لگ بھگ 15 ارب روپے سے زائد کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ بنک کے ذریعے بیرون ممالک غیرقانونی طریقے سے ادائیگیاں کی گئی ہیں۔پاکستان سے مختلف جعلی اکائونٹس اور کمپنیوں کے ذریعے 110 ملین ڈالر بیرون ملک بھیجے گئے۔مبینہ منی لانڈرنگ میں جعلی کمپنیوں کیلئے لگ بھگ 51 جعلی اکاؤنٹس استعمال ہوئے۔ منی لانڈرنگ میں بڑی کاروباری اور سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں ۔ 2 سال سے ایک بل آف لیڈنگ پر متعدد بارامپورٹ ایکسپورٹ کی مد میں ادائیگیاں ہوئیں۔ منی لانڈرنگ لاہورریجن کے ایک بنک کی مختلف برانچز سے کی گئی ۔جن برانچز سے منی لانڈرنگ ہوئی ان میں بنک کی داتار دربار،لیک روڈ ایریا،چونامنڈی،کرشن نگربرانچز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے نے اسکینڈل میں ملوث 9 بنک ملازم اور2 پرائیویٹ افراد کو گرفتارکرلیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں آپریشنز مینیجرز،برانچ مینیجرز،کریڈہیڈ اور ایریا مینیجرز شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اسکینڈل میں ملوث بنک ملازمین کونوکری سینکال دیا گیاہے۔نجی بنک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انٹرنل آڈٹ میں 2015 سے 2017 کے دوران بنک کوغیر قانونی ٹرانزیکشنز کا پتہ چلا۔ بنک انتظامیہ نے خود ان ٹرانزیکشن کی تحقیقات کیلیے ایف آئی اے کو درخواست دی۔ منی لانڈرنگ میں ملوث تمام ملازمین کو محکمانہ کارروائی میں برخاست کر دیا ہے۔ایف آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں بنک کی انتظامیہ نے تحقیقات کے لیے درخواست دی تھی،ترجمان ایف آئی اے کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں،مبینہ بنک کے ملازمین بھی اس معاملے میں ملوث ہیں۔ انکشاف