09:50 am
شاہ جی آپ منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، یہ مناسب نہیں کہ۔۔۔۔

شاہ جی آپ منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، یہ مناسب نہیں کہ۔۔۔۔

09:50 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مابین تلخی پر وزیراعظم عمران خان نے بھی ناراضی کا اظہار کیا اور شاہ محمود قریشی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ شاہ جی آپ پارٹی کا اثاثہ،منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ،یہ مناسب نہیں کہ گھر کی باتیں میڈیا پر کی جائیں ۔ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کے کابینہ اجلاس میں کہا کہ وزیر اعظم نے کہا کیا نواز شریف کو نا اہل نہیں کیا گیا ؟وہ جیل نہیں گیا؟ کیا ان کی پارٹی نے اس کی کردار کشی کی ہے ؟جہانگیرترین ہمارے ساتھی ہیں، اگر انہیں نا اہل قرار دیا گیا ہے
تو کیا ہم انہیں چھوڑ دیں ؟ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے دونوں رہنماؤں کو معاملات درست رکھنے کی ہدایت کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو معاملہ پر بیان بازی سے بھی روک دیا۔قومی اخبار میں شائع میڈیا رپورٹ کے مطابق جبکہ وزیر اعظم دونوں رہنماؤں میں سیز فائر کروانے کے لئے جلد ہی ان کی ملاقات بھی کرا سکتے ہیں، ملاقات وزیر اعظم کی موجودگی میں ہو گی ،جس میں دونوں کی حدود کو واضح کر دیا جائے گا ،اسکے علاوہ دونوں رہنما ایک دوسرے کے کیمپ کے سپورٹر توڑنے کی کوشش نہیں کریں گے ،پنجاب میں شاہ محمود قریشی گروپ کا اثر بھی بڑھایا جا جا سکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ قریشی ،ترین لڑائی سے حکومت اور پارٹی میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی مرکز اور پنجاب میں مخلوط حکومتیں انتہائی دباؤ کا شکار ہیں جن کی وجہ حکومتی پالیسز اور بیڈ گورننس ہے ،وزیر اعظم معاملات سے باخبر ہیں اور ہر محاذ پر معاملات کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کسی کابینہ اجلاس یا کسی اور حکومتی معاملے میں مشاورت وزیر اعظم کی اجازت سے دیتے ہیں۔دوسری طرف یہ بات بھی درست ہے کہ پارٹی کے اندر دو سے تین دھڑے موجود ہیں، دو دھڑے تو جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے ہیں ۔ جبکہ نعیم الحق بھی ایک دھڑے کے رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مابین اختلافات 2018ء سامنے آئے تھے۔ جس کے بعد گذشتہ دنوں میں شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کے دوران جہانگیر ترین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔جس کے بعد کئی رہنما اور وفاقی وزرا نے جہانگیر ترین کی حمایت کی۔ جبکہ شاہ محمود قریشی کے حق میں ایک ہی وزیر سامنے آئے اور باقی سب نے فون پر شاہ محمود قریشی کو حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ اُمید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان دونوں رہنماؤں کے مابین اختلافات اور لڑائی کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

تازہ ترین خبریں