03:14 pm
 ’’جو پاکستان کا دشمن ہے وہ امریکہ کا بھی دشمن ہے‘‘

’’جو پاکستان کا دشمن ہے وہ امریکہ کا بھی دشمن ہے‘‘

03:14 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان کی سربراہی میں آخر پاکستانیوں نے یہ عظیم تاریخی جملہ بھی سن لیا ، زبردست خبر ، بھارت سیخ پا ۔۔امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء ایلس ویلز نے کہا ہے کہ جو پاکستان کا دشمن ہے وہ امریکہ کا بھی دشمن ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کی طرف سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد خوش آئند ہے۔ افغانستان کے ابرے میں وزیراعظم عمران خان کا پالیسی بیان خوش آئندہے۔اگر افغانستان میں امن ہو گا
تو سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا، اسی لیے پاکستان اور افغانستان کو باہمی معاملات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ زلمے خلیل زاد کی ملاقاتوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔پاکستان میں معاشی استحکام علاقائی استحکام کیلئے ضروری ہے،بھارت کی طرف سے افغان سرزمین کوپاکستان مخالف استعمال کرنے کے شواہد نہیں،جو پاکستان کا دشمن ہے وہ امریکہ کا بھی دشمن ہے۔پاکستان امریکہ کے درمیان بہترین تجارتی تعلقات ہیں،تجارت کا حجم 6۰6 بلین ڈالر ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں افغانستان اہم ترین مسئلہ ہے،پاکستان ایک بڑا اور ایٹمی ملک ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔سی پیک پر صرف یہ تحفظات ہیں کہ منصوبوں میں شفافیت ہونی چاہیے۔ ایٹمی طاقتیں تنازعات کا شکار نہیں ہو سکتیں،کسی بھی ملک کو نان سٹیک ایکٹرز کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے، آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان میں ہے ،وزیراعظم پاکستان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے، امریکہ پاکستان میں کسی علیحدگی پسند تحریک کی حمایت نہیں۔منگل کو امریکی سفارتخانے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ بھارت کی طرف سے افغان سرزمین کو پاکستان مخالف استعمال کرنے کے شواہد نہیں ہیں۔کسی بھی ملک کو نان سٹیک ایکٹرز کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے۔ آئی ایم ایف ٹیم پاکستان میں ہے۔پاکستان میں معاشی استحکام علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے۔وزیراعظم کے نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف کارروائی کے بیان کو سپورٹ کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستانی حکومت کی طرف سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد خوش آئند ہے۔لاقائی تنازعات نے سارک کے مؤثر کردار کو متاثر کیا ہے۔وزیراعظم پاکستان کا بیان خوش آئند ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ انٹرا افغان ڈائیلاگ کے لیے تمام شراکت داروں کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔ ایف اے ٹی ایف پروگرام کے تحت کالعدم تنظیموں کے خلاف جو اقدامات لئے گئے ہیں وہ خوش آئند ہیں۔آزادیِ اظہارِ رائے کسی بھی ملک کی جمہوریت کی خوبی ہے۔

تازہ ترین خبریں