03:35 pm
تبدیلی سرکار نے عوام سے کیے وعدے ہوا میں اڑادیئے

تبدیلی سرکار نے عوام سے کیے وعدے ہوا میں اڑادیئے

03:35 pm

مطابق پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ( پی پی ایل) نے ناشپا فیلڈ سے پیدا ہونے والی ایل پی جی جس کی مالیت دو ارب روپے ہے۔ اپریل 2019ء میں بغیر شفاف نیلامی اپنی سات منظور نظر کمپنیوں کو فروخت کی۔اس حوالے سے قومی اخبار کو دستیاب دستاویزات کے مطابق پاکستان کا گیس اور تیل پیدا کرنے والاصف اول کا ادارہ جو پاکستان سٹاک ایکس چینج کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ اس نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی( اوگرا) کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے’’ سیگ نیچر بونس‘‘ کی بنیاد پر فروخت پر اصرار کیا، اوگرا نے جون 2018ء کے فیصلے میں اس سے منع کیا تھا۔
سیگ نیچر بونس کا واحدمتبادل جو پی پی ایل نے پیش کیا وہ غیر شفاف ایڈ ہاک فروخت ہے ، جس کی بڑی تعداد میں لوگوں کو دعوت دینے کے لیے کوئی تشہیر نہیں۔ ناشپا سے ایڈ ہاک فروخت جاری ہے، پی پی ایل کے ایک اعلیٰ افسر نے کمپنی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ناشپا کے حوالے سے ہم اس وقت نئی ایل پی جی پالیسی پر عمل کرنے کے پابند تھےاور عدالت کی طرف سے جاری کردہ حکم امتناعی کے باعث ہم ٹینڈر جاری نہیں کر سکتے تھے اور او جی ڈی سی ایل سے شاشپا آپریٹر نے درخواست کی کہ پی پی ایل کے ایل پی جی شیئر کو ختم کر دیا جائے۔یہ ایک نیا فیلڈ ہے جس سے جنوری 2018ء میں گیس کی پیداوار شروع ہوئی، اس کے سو فیصد شیئرز 150مارکیٹنگ کمپنیوں میں سے صرف سات میں تقسیم کیے گئے ہیں ۔ قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ فروخت کی پیش کش کو کبھی بھی ایڈورٹائز نہیں کیا گیا۔ اس نے اس سارے عمل کی شفافیت کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس میں صرف سات خوش قسمت کمپنیوں کے لیے گنجائش پیدا کی گئی ۔اوگرا ذرائع کے مطابق ریاستی پروڈیسر ایل پی جی کی فروخت ایسے کر رہا ہے جیسے یہ عدالتوں، ریگولیٹر اورمشترکہ مفادات کونسل میں یہ ثابت کرنے کی کوئی لڑائی ہے کہ کون زیادہ طا قتور ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل ایک آئینی ادارہ ہے ،ایل پی جی کے بارے میں پالیسی بنانے کا اختیار اس کے پاس ہے، پی پی ایل نے اوگرا کے سیگ نیچر بونس پر پابندی کے فیصلے کو کئی حوالوں سے چیلنج کر رکھا ہے، اس میں ایک بنیاد یہ ہے کہ اوگرا کو اس با ت کا کوئی اختیار نہیں کہ وہ پروڈیسر کو یہ ہدایت دے کہ وہ کسی مخصوص طریقے سے نیلامی کرے۔اوگرا کے سامنے یہ پوزیشن لینے کے بعد یہ کہا گیا کہ سیگ نیچر بونس کے ذریعے مسابقتی بولی کے علاوہ شفاف نیلامی کا کوئی اور طریقہ نہیں ،ا تھارٹی کی سماعت کے دوران اوگرا نے پی پی ایل سے اتفاق نہیں کیا اور بولی کا فیصلہ واپس لینے کا کہا اور اس پارٹی کو ٹھیکہ دینے کا کہا گیا جو صارفین کو سب سے زیادہ ڈسکاؤنٹ دیتی ہے وہ وقتاً فوقتاً ایل پی جی زیادہ سے زیادہ نوٹی فائی قیمت پر اُٹھائے، یہ ایل پی جی پالیسی اور ایل پی جی رولز کی تعمیل کا بہترین طریقہ ہے۔ اس نمائندے کے پاس وی ای میلز بھی موجود ہیں ایل پی جی رولز کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھیجی گئی ہیں ۔

تازہ ترین خبریں