07:58 am
’’ ہم ایسا بلکل نہیں کر سکتے چا ہے کچھ بھی ہو ‘‘

’’ ہم ایسا بلکل نہیں کر سکتے چا ہے کچھ بھی ہو ‘‘

07:58 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) مذاکرات کے 14ویں روز بھی قرضے کے معاملے پر آئی ایم ایف اور پاکستان اپنے اپنے موقف قائم۔ پاکستان نے افراط زرکے معاملے پر نرم شرائط رکھنے کا مطالبہ کر دیا ۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کی کئی شرائط مان لیں لیکن ٹیکس وصولی ہدف کم کرنے اور ٹیکس استثنیٰ رعایت کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان نے تمام شعبوں میں سبسڈی ختم کرنے کی شرط پر رضامندظاہر کر دی اور شرح سود میں اضافے کی شرط بھی مان لی، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے لگائی گئی انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی شرط بھی مان لی ہے۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کے کہنے پر خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ اپنے موقف کے حق میں وزیر اعظم عمران خان نے معاہدے کا سٹاف لیول مسودہ مسترد کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرضہ ملنے کی توقع ہے جس کی میعاد 3 سال ہوگی۔وزیراعظم عمران خان سے جمعے کے روز مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ اور دیگر اقتصادی ماہرین نے ملاقات کی جس میں مشیر خزانہ اور دیگر حکام نے وزیراعظم کو آئی ایم ایف سے ہونے والے حتمی معاہدے پر بریفنگ دی اور بیل آوٴٹ پیکیج سے متعلق آگاہ کیا۔ملاقات میں جب وزیراعظم عمران خان کو آئی ایم ایف کی شرائط سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا تو انہوں نے معاہدے کا سٹاف لیول مسودہ مسترد کر دیا۔ وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف مذاکرات کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کرچکے تھے لیکن جب یہ اس معاہدے کا مسودہ منظوری کیلئے وزیر اعظم کو پیش گیا تو عمران خان نے اسے مسترد کردیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم افراط زر کے معاملے پر آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی چاہتے ہیں اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو ٹیکس وصولی کا ہدف کم کرنے کیلئے بھی آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

تازہ ترین خبریں