06:29 am
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

06:29 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مالیاتی پیکج طے پا گیا، بال اب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے کورٹ میں ہے، جس نے پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے اسٹاف لیول معاہدے کی حتمی منظوری دینی ہے۔ بجلی مہنگی ہوگی، خرچے کنٹرول کرنا ہوں گے اور مالیاتی خسارہ ہر سال 0.6 فیصد کم کرنا ہوگا۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے معاہدہ طے پانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا
کہ آئی ایم ایف تین سال کے دوران پاکستان کو چھ ارب ڈالر قرض دے گا جبکہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے علاوہ دیگر مالیاتی ادارے بھی دو سے تین ارب ڈالر قرضہ دیں گے۔مشیر خزانہ نے مہنگائی مزید بڑھنے کا عندیہ بھی دیا تاہم واضح کیا کہ غریب طبقے کے لیے بجلی مہنگی نہیں ہو گی۔ عبدالحفیظ شیخ نے دعویٰ کیا کہ یہ قرض کم شرح سود پر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ملک میں سٹرکچرل ریفارمز لائیں گے جس سے ملکی معیشت بہتر ہو گی اور معیشت سے متعلق دنیا کو بہتر پیغام جائے گا، اس سے ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔مشیر خزانہ نے موجودہ پروگرام کو ماضی کے پروگراموں سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں لیے گئے آئی ایم ایف پروگرام میں نقائص تھے۔ ماضی کے پروگراموں میں اصلاحات کو مدنظر نہیں رکھا گیا تھا بلکہ اخراجات کیے گئے۔ کئی شعبوں میں استطاعت سے بڑھ کر خرچ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت کو کچھ اشیا کی قیمتیں بھی بڑھانا ہوں گی۔ بجلی کی قیمتیں بڑھیں گی تاہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ ماہانہ تین سو یونٹ استعمال کرنے والے بجلی کے صارفین پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور 216 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور احساس پروگرام جیسے عوامی منصوبے بھی جاری رکھے جائیں گے اور غربت میں کمی کے لیے 180 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ادھر آئی ایم ایف نے بھی اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستان کو 6 ارب ڈالر 39 ماہ میں قسطوں میں جاری ہوں گے۔ پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کم ہو رہی ہے۔پاکستان میں مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے اور اسے قرضوں کے بوجھ کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ہے۔ پاکستان کو قرضوں کا بوجھ اتارنا ہوگا اور ٹیکس آمدن بڑھانا ہوگی۔پاکستان آئندہ بجٹ کے خسارے میں 0.6 فیصد کمی لائے گا۔ ڈالر کی قیمت مارکیٹ کے طے کرنے سے مالی شعبے میں بہتری آئے گی۔ پاکستان آئندہ 3 سال میں پبلک فنانسنگ کی صورتحال میں بہتری لائے گا۔ ٹیکسوں کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں لاگو ہو گا۔

تازہ ترین خبریں