05:40 pm
کیا بینکوں کا رمضان المبارک میں زکوٰۃ کی مد میں کٹوتی کرنا درست ہے؟

کیا بینکوں کا رمضان المبارک میں زکوٰۃ کی مد میں کٹوتی کرنا درست ہے؟

05:40 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ہر سال ملک بھر کے بینکس زکوٰۃ کی کٹوتی کرتے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا بینکوں کی جانب سے کی جانے والی اس کٹوتی سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے ؟ اس حوالے سے مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ بینک کو لوگوں کی رقوم سے زکوٰۃ کا ٹنے کی اجازت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔مثلا ًحکومت کو نقدی سے زکوٰۃ وصول کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس طریقے سے حکومت جو زکوٰۃ وصول کرتی ہے
وہ جبراً وصول کرتی ہے۔ جس میں مالکوں کی اجازت نہیں ہوتی اور زکوٰۃ کاٹنے میں ضروری تفصیل کو بھی مد نظر نہیں رکھا جاتا۔ مزید یہ کہ زکوٰۃ کی کٹوتی اس کھاتے سے ہوتی ہے جس میں نفع ملتا ہے اور جو نفع ملتا ہے، وہ سود ہوتا ہے ، اسی نفع کا ایک حصہ زکوٰۃ کے نام سے کاٹ لیا جاتا ہے۔گویا حکومت سودی رقم میں سے کچھ روک لیتی ہے اور کھاتہ دار کو نفع کچھ کم دے دیتی ہے ۔ پھر صحیح یا غلط جو کچھ وصول کرلیتی ہے، اسے درست مصرف میں استعمال نہیں کرتی، ان وجوہات کی بناء پر بینک جو زکوٰۃ کاٹتا ہے ،اس سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی حکومت نے زکوٰۃ کا نصاب مقرر کر رکھا ہے۔ رواں سال کے لیے زکوٰة کا نصاب 44 ہزار 415 روپے مقررکیا گیا ہے۔یکم رمضان کو بینکوں کی جانب سے 44 ہزار 415 روپے یا اس سے زائد رقم پرازخود زکوٰة کی رقم منہا کر لی گئی تھی۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے رواں سال کے لیے زکوٰۃ کا نصاب 39 ہزار 198 روپے مقرر کیا گیا تھا۔ وزارت مذہبی امور کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی کے بینک اکاؤنٹ میں زکوٰۃ اور عشر کے قانون کے رو سے یکم رمضان المبارک تک 39 ہزار 198 روپے سے کم رقم موجود ہوگی تو اس پر زکوٰۃ کی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق رمضان المبارک کے پہلے دن کو ''کٹوتی کا دن'' قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق 2017ء کے مقابلے میں 2018ء میں زکوٰۃ کے نصاب میں 793 روپے اضافہ کیا گیا ، 2017ء میں زکوٰۃ کا نصاب 38 ہزار 405 روپے تھا۔ جبکہ 2019ء میں بھی 2018ء کے مقابلے میں زکوٰۃ کے نصاب میں اضافہ کیا گیا جس کے تحت رواں برس زکوٰة کا نصاب 44 ہزار 415 روپے مقرر کیا گیا۔

تازہ ترین خبریں