07:49 am
ڈالر کی قدر میں اضافہ کیوں اور کیسے ہوا،قرض کی قسط کی ادائیگی کی آڑ میں کس طرح مافیا نے گھنائونا کھیل کھیلا

ڈالر کی قدر میں اضافہ کیوں اور کیسے ہوا،قرض کی قسط کی ادائیگی کی آڑ میں کس طرح مافیا نے گھنائونا کھیل کھیلا

07:49 am

کراچی (نیوز ڈیسک) گذشتہ دو روز سے ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈالر کی اس قدر اونچی اُڑان نے عوام کو بھی پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ ڈالرکی قیمت میں اضافہ کیوں اور کیسے ہوا اس حوالے سے اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق قرض کی قسط کی ادائیگی میں مافیا نے ایک گھناؤنا کھیل کھیلا ۔وزارت خزانہ کی جانب سے ایک ارب روپے کے قرض کی ادائیگی کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ، وزارت خزانہ کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو کی گئی اس ہدایت کی خبر لیک ہوئی
اور قسط کی ادائیگی کی خبر لیک ہونے پر شیڈول بینکوں نے ڈالر چُھپا لیے۔ ڈالر کی مصنوعی پرواز کے ذریعے مافیا نے دو روز کے دوران اندھی کمائی کی۔قرض کی ادائیگی کے لیے اسٹیٹ بینک کو ڈالر درکار تھے۔شیڈول بینکوں اور منی چینجرز نے خبر لیک ہوتے ہی ڈالر کی دستیابی کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا اور اسٹیٹ بینک کو بلیک میل کر کے ڈالر مہنگا بیچا گیا۔ جس کے تحت اسٹیٹ بینک کو فی ڈالر ایک چونی کمیشن ادا کرنا پڑی۔ ڈالر کا سرکاری ریٹ 148 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 146 روپے رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈالر اسکینڈل میں اسٹیٹ بینک ،شیڈول بینک اور سرکاری حکام ملوث پائے گئے ہیں۔ اس معاملے پر اسٹیٹ بنک کی اِن ہاؤس انکوائری کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی انکوائری رپورٹ 3 دن میں وزیراعظم کو دی جائے گی۔ اسٹیٹ بنک حکام نے بتایا کہ انٹربینک میں بڑھتی ہوئی ڈالر کی قیمت پالیسی کا حصہ نہیں، ڈالر کی قیمت واپس نہ آنے کی صورت میں متعلقہ بنکوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جبکہ وزارت خزانہ کے اندرونی ذرائع نے نجی بینکوں کو ڈالر کی اونچی اڑان کا ذمے دار قرار دے دیا ہے۔

تازہ ترین خبریں