07:51 am
غلط فیصلے اورسست عدالتی نظام کا اعتراف کرتے ہیں،لاہور سیشن کورٹ نے معافی مانگ لی

غلط فیصلے اورسست عدالتی نظام کا اعتراف کرتے ہیں،لاہور سیشن کورٹ نے معافی مانگ لی

07:51 am

لاہور (نیوز ڈیسک) سیشن کورٹ لاہور نے غلط فیصلے اور سست عدالتی نظام پر معافی مانگتے ہوئے 5 دن قید کے خلاف اپیل پر 6سال بعد ملزم باعزت بری کر دیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج کا سماعت کے دوران کہنا تھا کہ عدالت اپیل کنندہ کی تکلیف کا مداوا نہیں کر سکتی۔ملزم جمشید اقبال کو احترام رمضان آرڈیننس کے تحت غلط سزا ملی۔عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپیشل مجسٹریٹ نے خلاف قانون 5 دن قید سنائی،جس دفعہ کے تحت سزا ملی وہ آرڈیننس میں موجود ہی نہیں۔سیشن کورٹ نے سپیشل مجسٹریٹ کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے
ریمارکس دئیے کہ مستقبل میں اہل افسران کو سپیشل مجسٹریٹ لگایا گیا۔جب کہ سیشن کورٹ لاہور نےغلط فیصلے اور سست عدالتی نظام پر معافی مانگ لی۔واضح رہے کچھ عرصہ قبل لاہور ہائیکورٹ کے بارے میں غلط فیصلے دینے کا تاثر پیدا ہو تھا۔یہاں تک کہ جسٹس عظمت سعید نے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے تھے کہ یہ لاہور ہائیکورٹ نہیں جہاں شور مچا کر فیصلہ لے لو ۔واضح رہے لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کی تھی جس کے بعدن لیگ کے مخالفین کی جانب سے یہ بھی کہا کہ لاہور ہائیکورٹ شریف خاندان کو ریلیف دینے کے لیے بنی ہے۔منی لانڈرنگ کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں توسیع کی تھی۔د لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 17 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نےحمزہ شہباز سے رپورٹ اور شق وار جواب بھی طلب کر لیا جبکہ نیب کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔جب کہ حکومت جماعت کی طرف سے بھی اکثر یہ کہا جاتا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ شریف خاندان کے حق میں فیصلے دیتی ہے۔

تازہ ترین خبریں