01:18 pm
یہاں کوئی انگریزی بول سکتاہے

یہاں کوئی انگریزی بول سکتاہے

01:18 pm

کابل (ویب ڈیسک )افغانستان سے فرار ہوکر پاکستان اور ایران جانے والے پناہ گزین خود کو اسمگلروں کے رحم و کرم پر مشکلات میں گھرا دیکھتے ہیں۔بلوچستان کے مغربی کنارے پر واقع سیاہ پہاڑ خاموش نظر آتے ہیں جہاں نیلے آسمان پر سفید بادلوں کے ٹکڑے نقطوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔ان پہاڑوں میں سیانی بلوچ قبیلے کے چھوٹے گاؤں کے علاوہ میلوں دور تک کوئی انسانی آبادی موجود نہیں، یہ علاقہ پاک-ایران سرحد کے قریب ہے۔پاکستانی سرحد کے برعکس ایرانی سرحد کے حصے پر فوج تعینات ہے اور وہاں دیو قامت پہاڑوں کے
اوپر چیک پوائنٹس موجود ہیں، بعض مقامات پر کسی کو اندازہ نہیں ہوسکتا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ایران میں۔تاہم یہاں تک کہ پاکستان سے ایران کی سرحد پار کرنے والے گدھوں پر بھی فائرنگ کی جاتی ہے۔جودر بلوچستان کے غریب ترین ضلع واشک میں واقع ہے، اس ضلع میں 3 تحصیلیں ہیں، جن کی آبادی ایک لاکھ 76 ہزار 2 سو 6 افراد پر مشتمل ہے، اس علاقے میں کوئی موبائل نیٹ ورک بھی نہیں۔میں ان ناقابل اعتبار علاقوں میں افغان پناہ گزینوں کے گروپ سے ملنے گیا، جہاں پاکستان کی جانب سے ایران میں داخل ہونے والے افغان پناہ گزینوں کو ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے گرفتاری کا خطرہ رہتا ہے۔12 مئی کی رات کو 26 افغان پناہ گزینوں کے گروپ کو ٹویوٹا پک اپ میں جودر لایا گیا تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت تمام افراد پاک افغان بارڈر کے قریب دکی کے علاقے میں موجود تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ 'کیا کوئی انگریزی بول سکتا ہے؟ وہ ہنسے اور فارسی میں مجھے 'انگریز' بلایا، میرا بلوچ ڈرائیور جو بہت اچھی فارس جانتا ہے اس نے ان سے بات کرنے میں میری مدد کی۔پناہ گزین نے کہا کہ 'اگر ہمیں انگریزی آتی ہوتی تو کیا ہم یہاں ہوتے؟سفید طالبی ٹوپی سر پر پہنے ہوئی باری نامی شخص نے پناہ گزینوں کو درپیش حالات کی روداد سنائی۔انہوں نے بتایا کہ '2 دن سے ہم بغیر پانی اور خوراک کے یہاں موجود ہیں، کابل سے یہاں آنے میں تقریبا ایک ماہ کا عرصہ لگا۔باری کے مطابق ان کا ایجنٹ شام میں ان سے ملاقات کرے گا، اس نے گروپ کو اس مقام پر رکنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ 'اس مقام پر ہمیں یقین نہیں کہ ہوسکتا ہے اور شاید نہیں ہمیں دھوکا دے دیا جائے، ہم تاحال پرامید ہیں کہ ہم اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔دو روز قبل پناہ گزین گروپ واشک کی تحصیل مشخیل کی خواب گاہ (ریسٹ ہاؤس) گیا تھا۔مشخیل میں ایک گاڑی کے ڈرائیور کے مطابق، اس علاقے میں 30 کے قریب خواب گاہیں موجود ہیں۔علی نے مشخیل میں اپنے قیام کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ 'ان خواب گاہوں میں ہر چیز بہت مہنگی ہے، ڈبل روٹی کی قیمت 100 روپے ہیں، اب ہمارے پاس کوئی چیز خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں'۔باری اور دیگر 25 افغانوں کو سفر کرتے 30 دن سے زیادہ ہوگئے ہیں، وہ وقت اور تاریخ کا حساب بھی بھول گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 'افغانستان مستقبل میں بھی امن نہیں ہوگا، وہاں جنگ ہے، بیروزگاری اور کئی مشکلات ہیں'۔باری نے کہا کہ آنے والے دن ہمارے لوگوں کے لیے مزید تکلیف دہ ہوں گے، اس لیے ہم جارہے ہیں۔ان کے گروپ میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، رمضان کے مہینے میں ان کے پاس پانی نہیں ہے، ایک ازبک پناہ گزین نے میری گرم پانی کی بوتل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پانی پینے کی درخواست کی۔جمال نے کہا کہ 'ہماری زندگیاں مشکل میں ہیں، ہم اسمگلروں کے رحم و کم پر ہیں، ان اسمگلروں کو ہمارا خیال رکھنے کے لیے پیسے دیے گئے ہیں لیکن وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے'۔بلوچستان کے مغربی علاقوں کے علاوہ افغان شہریوں کو دیگر روٹس سے بھی اسمگل کیا جاتا ہے۔اپریل 2009 میں کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کے قریب کنٹینر ملا تھا جس میں 100 افغان شہری (ازبک، تاجک اور ہزارہ) شامل تھے، چونکہ ہزار گنجی ایک مصروف جگہ ہے لہذا دکانداروں اور ڈرائیوروں کو جلد ہی اس کی موجودگی کا علم ہوا تھا اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دی تھی۔وہ کنٹینر کو بولان میڈیکل کمپلیکس لائے تھے جہاں 50 افغان شہریوں کو مردہ قرار دیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کنٹینر بلوچستان کے شمالی علاقے میں واقع چمن سے آیا تھا، کنٹینر کو ہزار گنجی اس لیے جایا گیا تھا کیونکہ ایجنٹس کئی کوششوں کے باوجود ایران پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ایک ڈرائیور جو دکی اور مشخیل کے درمیان گاڑی پر افغان شہریوں کو پہنچاتا ہے اس نے بتایا کہ 'اس علاقے میں چور موجود ہیں، ایک دفعہ مجھے 40 افغانیوں کو مشخیل لے جانے کا کہا گیا تھا ہمیں وہاں پہنچنے سے پہلے ہی لوٹ لیا گیا تھا'۔پتھر سے ٹیک لگائے ہوئے پناہ گزین جمال نے کہا کہ 'ہم برداشت کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں'۔

تازہ ترین خبریں