01:30 pm
مریم اوربلاول کی پہلی ملاقات

مریم اوربلاول کی پہلی ملاقات

01:30 pm

اسلام آباد(ویب ڈیسک )حکومت کے خلاف اپوزیشن ممکنہ طور پر آج سے گرینڈ الائنس کے مشن کا آغاز کرنے جارہی ہے جہاں حکومت مخالف تمام بڑی سیاسی جماعتیں آئندہ کی حکمتِ عملی طے کریں گی۔زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے افطار ڈنر میں مریم نواز کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا وفد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرے گا۔
افطار ڈنر کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئیں۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے وفد میں مریم نواز کے ہمراہ پارٹی کے نائب صدر حمزہ شہباز، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پارٹی رہنما پرویز رشید موجود ہیں۔مسلم لیگ (ن) کا وفد براستہ موٹروے جاتی امرا اور ماڈل ٹاؤن لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔راستے میں مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام دیا جس میں انہوں نے تصویر شائع کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کو یہ خوبصورت تحفہ دینے والے کو جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کر رکھا ہے!‘انہوں نے سوال کیا کہ ’ہے اور کوئی جس کی انتھک محنت اور خدمت کی گواہی پاکستان کا چپہ چپہ دیتا ہو؟ آج ہر چیز وہی ہے مگر ایک نواز شریف کے نا ہونے سے ملک کا یہ حال ہوا پڑا ہے۔‘واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اپوزیشن کو ایک پیج پر لانے کی کوششوں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفندیار ولی خان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور مذہبی رہنما شاہ اویس نورانی بھی حصہ بنیں گے۔اپوزیشن کے افطار ڈنر میں حکومت کے خلاف تحریک سمیت آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کیے جانے کا امکان ہے۔ادھر مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آج بیفشریز ’لوٹ کا مال‘ بچانے اور اسے تحفظ دینے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کریں گے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ’انہیں پاکستان کے عوام کا نہ کوئی دکھ ہے نہ درد، آج افطار پر صرف اپنی بیرون ملک دولت کو ٹھکانے لگانے اور اومنی گروپ کے باب کو تحفظ دینے کی ترکیب سوچیں گے۔‘اپنے ایک اور پیغام میں مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’سیاسی بہروپیے معصوم عوام کو کئی سالوں سے ورغلا کر اپنے کاروباری مفادات کے لیے انہیں استعمال کرنے کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ملکی اور عوامی مفادات کے لیے کوشاں وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت 22 کروڑ عوام ان سیاسی بہروپیوں کے دیے زخموں سے آزاد ہو چکے ہیں اور ان کے جھانسے میں اب نہیں آئیں گے۔‘ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی پی پی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات کا کوئی ایجنڈا طے نہیں کیا گیا، لیکن چیئرمین پی پی پی تمام اپوزیشن جماعتوں سے ہم آہنگ ہونا چاہتے ہیں۔فرحت اللہ بابر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب سیاست دان ملتے ہیں تو سیاست پر بات کرتے ہیں، آپ اسے اپوزیشن کی ایک گرینڈ میٹنگ کہہ سکتے ہیں، اور یہ مستقبل کی بڑی بیٹھک کے لیے ایک قدم ہے‘۔سیکریٹری جنرل پی پی پی کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین نے تمام سیاسی جماعتوں کو افطار ڈنر کے لیے مدعو کیا جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی شرکت کی توقع ہے۔پی پی پی کے افطار ڈنر میں جماعت اسلامی سراج الحق کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم کراچی میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے انہوں نے اس افطار ڈنر میں شرکت سے معذرت کرلی تھی۔تاہم امیر جماعت اسلامی سراج الحق افطار پارٹی میں پارٹی کا وفد بھیجیں گے، جبکہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت گرانے سے متعلق کسی بھی مہم کا حصہ نہیں بنے گی۔واضح رہے کہ مذکورہ افطار ڈنر میں 2 سابق وزرائے اعظم کے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے سیاسی جانشینوں مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی باقاعدہ طور پر پہلی ملاقات ہوگی۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز ایسے وقت میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرنے کے لیے جارہی ہیں جبکہ ان کے والد اور پارٹی قائد نواز شریف جیل میں ہیں جبکہ ان کے چچا اور پارٹی کے صدر شہباز شریف ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملاقات کے دوران ملکی معاشی صورتحال، ڈالر کی قدر میں اضافے اور مہنگائی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جبکہ ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ بھی دی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں