01:44 pm
جو کام نہ ہو سکا وہ نواز شریف نے جیل میں رہتے ہوئے کر دکھایا

جو کام نہ ہو سکا وہ نواز شریف نے جیل میں رہتے ہوئے کر دکھایا

01:44 pm

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) جو کام نہ ہو سکا وہ نواز شریف نے جیل میں رہتے ہوئے کر دکھایا ، شام گئے بہت بڑی خبر آگئی ۔۔۔۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر تجزیہ کار ذوالفقار راحت نے کہا کہ شہباز شریف ڈیل کر کے باہر جا چکے ہیں ، ان کی ڈیل فائنل ہے اب ادائیگیاں کب ہونی ہے اس حوالے سے ابھی کچھ معلوم نہیں ہے، مکینزم بن رہا ہے۔ شہباز شریف مک مکا کر چکے ہیں۔ نواز شریف بھی جیل کے اندر اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں جن میں ان کے اہم دوست بھی شامل ہیں۔ نواز شریف نے پیغام دیا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج کی کال رک سکتی ہے،
مجھے لندن جانے دیں اور مریم نواز کو پارٹی ہینڈ اوور کرتا ہوں انہیں پارٹی چلانے دیں۔ اس کا جواب یہ آیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پیسے لیے بغیر کسی قسم کا کوئی ریلیف ، این آر او یا چھوٹ دینے پر تیار نہیں ہیں۔ ان کو کہا گیا ہے کہ آپ کلیئر بات میں آجائیں اور نیب کے ساتھ معاملات طے کر کے پلی بارگین کی طرف آجائیں۔ کھُل کر ساری بات کریں ، جتنے پیسے دینے ہیں وہ سامنے رکھیں۔ لیکن مسلم لیگ ن اس بات پر آمادہ نہیں ہے۔ پہلے وزیراعظم عمران خان نہیں مان رہے تھے لیکن اب صورتحال مختلف ہے، اب وزیراعظم پر احتجاج کا ایک دباؤ آئے گا، احتجاج کے لیے مولانا فضل الرحمان کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ دس ہزار لوگوں کو لا کر اسلام آباد میں بٹھائیں گے۔ لاک ڈاؤن ہو گا جس کے بعد کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بالآخر عمران خان اس بات پر آمادہ ہو جائیں گے کہ نواز شریف کو لندن جانے دیں اور اس کے بعد مریم نواز کو پارٹی چلانے کی اسپیس دی جائے گی۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو حکومت سے سب سے زیادہ مسئلہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ہو سکے حکومت گر جائے۔ زرداری صاحب اور نواز شریف حکومت کو کچھ وقت دینا چاہ رہے تھے، لیکن چونکہ مولانا فضل الرحمان اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں، نہ وہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی پوزیشن ہے لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ صبح ہی حکومت کا خاتمہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ مرکز اور صوبہ پنجاب میں ہے جبکہ پیپلز پارٹی بھی صوبہ سندھ میں ہے لہٰذا وہ چاہ رہے تھے کہ حکومت کو کچھ وقت دیا جائے۔ لیکن اس کے بعد احتساب کا عمل تیز ہو گیا ، نواز شریف جیل میں ہیں اور آصف علی زرداری بھی گرفتار ہونے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ساری لڑائی میں مائنس آصف زرداری اینڈ کمپنی اور مائنس نواز شریف اینڈ کمپنی ہو چکا ہے۔ نواز شریف جیل میں ہیں، ان کی پارٹی کو مریم نواز نے ٹیک اوور کر لیا ہے جبکہ دوسری جانب آصف علی زرداری کی جگہ اب پارٹی کو بلاول بھٹو زرداری نے ٹیک اوور کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف احتجاج نئی شکل اختیار کر لے گا۔

تازہ ترین خبریں