07:44 am
زرداری نے چئیرمین نیب کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا اعلان کر دیا ہے

زرداری نے چئیرمین نیب کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا اعلان کر دیا ہے

07:44 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے انٹرویو کے حوالے سے اہم خبر سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے چئیرمین نیب کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ چئیرمین نیب کا عہدہ ان کو انٹرویو دینے کی اجازت نہیں دیتا۔چئیرمین نیب کے خلاف کاروائی کریں گے۔
سابق صدر نے مزید کہا کہ شک کا فائدہ سب سے زیادہ ملزم کودیا جاتا ہے۔ملزم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عدالت کا لاڈلا ہوتا ہے۔خیال رہے معروف صحافی و کالم نگار جاوید چودھری نے حال ہی میں چئیرمین نیب سے ہونے والی ملاقات کے احوال پر مبنی دو کالمز لکھے جس کی نیب نے سختی سے تردید کر دی تھی۔ قومی احتساب بیورو میں مؤرخہ 16 مئی اور 17 مئی کو ''چیئرمین نیب سے ملاقات'' کے عنوان سے شائع ہو نے والے جاوید چودھری کے کالموں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ کالم نگار نے حقائق کو درست انداز میں پیش نہیں کیا بلکہ بعض افراد اور مقدمات کے حوالے سے غلط نتائج بھی اخذ کئے ۔مقمات کا فیصلہ کرنا عدالت مجاز کا اختیار ہے۔ نیب کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے صرف یہ کہا تھا کہ ہر تیار کردہ ریفرنس آئین اور قانون کے مطابق بلا تخصیص معزز عدالت مجاز کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ نیب ہر شخص کی عزت نفس کا خیال رکھتا ہے۔ نیب آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض ادا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ نیب کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ نیب سے متعلقہ ریکارڈ کی گمشدگی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ریکارڈ کو نیب سے باہر لے جانے پر مکمل پابندی عائد ہے اور یہ نا ممکنات میں سے ہے۔نیب نے میڈیا سے کہا کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔ خیال رہے کالم نگار جاوید چودھری نے اپنے حالیہ کالمز میں چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے ملاقات کا احوال بتایااور اس ملاقات میں ہونے والے مبینہ انکشافات پر بھی بات کی۔ انہوں نے اپنے کالمز میں بتایا کہ چئیرمین نیب کا کہنا تھا کہ مجھ پر کافی دباؤ ہے ، مجھے عہدہ چھوڑنے اور صدر پاکستان بنانے کی پیشکش بھی کی گئی لیکن میں نے انکار کر دیا۔ اپنے کالم میں جاوید چودھری نے ملاقات کی تفصیلات بیان کیں لیکن اب نیب نے ان کالمز کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

تازہ ترین خبریں