03:48 pm
ریاست پر قطعی طورپر کوئی بھی سمجھوتا نہیں ہوگا

ریاست پر قطعی طورپر کوئی بھی سمجھوتا نہیں ہوگا

03:48 pm

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے افسران کو جاسوسی اور کرپشن کے جرائم ثابت ہونےپر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے سینئر ملکی صحافی اور تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہناتھا کہ پاک فوج کی قیادت کی جانب سے ان سزائوں کے ذریعے جو پیغام گیا ہے ایک تو فوج کے اندر احتساب کا نظا م ہے۔ لیکن اس سے بھی جو زیادہ اہم پیغام ہے وہ یہ کہ باقی کئی معاملات اوپر نیچے ہوسکتے ہیں لیکن ریاست پر قطعی طورپر کوئی بھی سمجھوتا نہیں ہوگا۔
ان میں سے ایک بریگیڈئیر تھے جو پڑھنے باہر گئے تھے اور شاید " ہنی ٹریپ " ہو گئے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ہو گا کہ باہر گئے واپس بلا لیا او رسزا دے دی ۔اس معاملے پر مکمل طور پر اور بار بار دیکھا گیا ہو گا اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس پر باضابطہ طور پر ایک رپورٹ دی ہو گی۔اس بارے میں بات کرتے ہوئے جنرل (ر) امجد شعیب کا کہناتھا کہ عام طور پر جن لوگوں کو حساس علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے ان کی بڑی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کی بڑی سخت مانیٹرنگ کرتی ہیں ۔جاسوسی کرکے معلومات فراہم کرنا اتنا آسان نہیں ہوتالیکن بعض اوقات غفلت برتنے پر سزا مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی خفیہ دستاویزات کھلے چھوڑ کر کہیں چلے گئے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر اسی کی رپورٹ نکل گئی اور دشمن کے پاس پہنچ گئی تو بے شک آپ اس کو پکڑ بھی لیں اورسزا دے دیں تو ملک کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں