03:51 pm
بیٹی کے خون کی قیمت 25 لاکھ روپے

بیٹی کے خون کی قیمت 25 لاکھ روپے

03:51 pm

لاہور(نیوز ڈیسک) ملک پاکستان میں ایسے ایسے اندوہناک اور لرزہ خیز واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔ایسے میں سبھی لوگوں کی آواز اور ہمدردی مظلوم کے حق میں بلند ہو جاتی ہے مگر کچھ عرصہ بعد جب واقعے پر ٹھنڈ پڑتی ہے تو کئی کیسز داخل دفتر ہو جاتے ہیں یا پھر مدعی پارٹی کے ساتھ صلح ہو جانے کے بعد ملزمان کو بری کر دیا جاتا ہے۔ثبوت بھی موجود ہوتے ہیں
گواہ اور مدعی بھی اور ملزمان کا اقرار جرم بھی مگر اس کے باوجود بھی قانون میں موجود شق سے فائدہ اٹھا کر مدعی کے ساتھ راضی نامہ کرتے ہوئے صلح کر لی جاتی ہے۔ ویسے ایسے ہی کیسز سے متعلق کسی شخص نے کیا خوب کہا تھا کہ اگر اپنی اولاد کے خون کی قیمت والدین وصول نہیں کریں گے تو وہی قیمت اچھا وکیل یا بکاؤ جج وصول کرلے گا۔افسوس ناک واقعہ عظمیٰ قتل کیس کا لاہور کے علاقے سبزہ زار میں پیش آیا تھا جہاں مالکن نے ایک 16سالہ ملازمہ کو کافی عرصہ بھوکا پیاسا رکھا اور تشدد کرنے کے بعد اسے مار ڈالا تھا۔یہی نہیں بلکہ اپنی بیٹی اور نند کی مدد سے 16سالہ عظمیٰ کی لاش کو گندے نالے میں بھی پھینک دیا تھا۔لاش مل جانے اور تفتیش کے بعد قاتل مالکن اور اسکی بیٹی اور نند کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔مقتولہ کی لاش دیکھ کر روح کانپ گئی تھی اور ہر شخص نے عظمیٰ کے انصاف کے لیے آواز بلند کی تھی۔تاہم کافی دن کیس چلنے کے بعد اب گزشتہ دنوں ملزمان خواتین کو لاہور سیشن کورٹ سے رہائی کا پروانہ مل گیا ہے۔یہ رہائی مدعی کے ساتھ صلح نامہ ہونے کے بعد عمل میں آئی جس میں مقتولہ کے والد نے ملزمان پارٹی سے اپنی بیٹی کے قتل کے خون بہا کے طور پر25لاکھ روپے وصول کیے ہیں۔اگرچہ یہ شق قانون میں موجود ہے کہ مدعی کے ساتھ راضی نامہ ہو جانے پرملزمان کو آزادی مل جاتی ہے مگر عظمیٰ جیسے کیسز ایک دو یا چند ایک نہیں ہیں۔عظمیٰ سے پہلے بھی کئی کیسز سامنے آئے اور بعد میں بھی، اور ہو سکتا ہے کہ آئندہ بھی ایسا کچھ سننے یا دیکھنے کوملے۔کیا اس سلسلے میںکوئی موثر قانون سازی نہیں ہو سکتی جس میں مدعی والدین کی بجائے ریاست بنے اور ثبوتوں کی موجودگی میں ملزمان کو سزا دی جائے جس میں مقتول کے والدین کو بھی صلح کی اجازت نہ ہو۔کیونکہ اگر تشدد پسند مالکان کے ذہن میں یہ بات سرایت کر گئی کہ یہ غریب لوگ پیسوں کے عوض معاف کردیتے ہیں توایسے تشدد اور قتل کے واقعات کبھی رک نہیں پائیں گے۔اس سلسلے میں ریاست کو موثر قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے معاشرے میں کسی اور عظمیٰ کا کیس سامنے نہ آئے۔

تازہ ترین خبریں