04:45 pm
پاکستان کیلئے زبردست خوشخبری

پاکستان کیلئے زبردست خوشخبری

04:45 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی کم شرح سود پر قرض ملے گا،عا لمی اور ایشین ڈویلپمنٹ بینکوں سے 2 تا 3 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے،ریفنڈز کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گا،ملک کو معاشی مسائل سے نجات دلانے کیلئے مشکل فیصلے کیے جا رہے ہیں
،قرضوں کا بوجھ عوام پر کم از کم رکھنے کی کوشش کی جائیگی، بجٹ میں اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف دینا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہائوس لاہور میں بزنس کمیونٹی کے لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود، وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر، ڈاکٹر سلمان شاہ، خاقان نجیب، الماس حیدر ،خواجہ شہزاد ناصر، فہیم الرحمن سہگل ،افتخار علی ملک، شاہد حسن شیخ، فاروق افتخار، محمد علی میاں، ملک طاہر جاوید، نبیل ہاشمی،گوہر اعجاز اور فاروق نسیم سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ملاقات تین گھنٹے تک جاری رہی جس میں بزنس کمیونٹی نے اپنے مسائل بارے آگاہ کیا ۔ اس موقع پر بجٹ کے حوالے سے تجاویز بھی دی گئیں۔ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی مجبور یاں ہیں ملک کو معاشی طور پرمضبوط کر نے کیلئے حکومت مشکل فیصلے کر رہی ہے آ ئی ایم ایف پروگرام میں جانا اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہی'عا لمی اور ایشین ڈویلپمنٹ بینکوں سے 2 تا 3 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہی'نئے ٹیکسز اور پٹر ولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے جیسے اقدامات سے عوام کو مشکل آئیگی مگر پاکستان کا مستقبل ترقی یافتہ اور خوشحال بنا رہے ہیں۔عبد الحفیظ شیخ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی کم شرح سود پر قرض ملے گاجس سے ملک کی معاشی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی وزیر اعظم عمران خان سے میری جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کیلئے لانگ ٹر م پالیساں بنائی جارہی ہیں جسکی وجہ سے ہم معاشی استحکام کی جانب آرہے ہیںحکومت مشکل فیصلے کر رہی ہے آ ئی ایم ایف پروگرام میں جانا اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالا تو معاشی حالات اچھے نہیں تھے 'عالمی مالیاتی فنڈ سے معاہدے میں تین چار چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے کمزور طبقے کے فائدے میں ہیں آئی ایم ایف نے این ایف سی ایوارڈ پر بات کی اور نہ یہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی قیمت میں اضافے سے 300یونٹس سے کم بجلی استعمال کر نیوالوں کو بوجھ سے بچانے کیلئے 216 ارب روپے رکھے جارہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے تجارتی خسارہ کم کیا ہے،زرمبادلہ پر دبا ئوکم ہوا،کمزور طبقہ کی معاونت کیلئے تمام سکیموں کو ملا کر احساس پروگرام بنایا معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے متعدد اقد ا مات کیے،حکو مت نے گورننس بہتر کی،حکومت پر کرپشن کے الزام نہیں ہیں بجٹ میں تین بڑی ترجیحات ہیں،اول مشکل حا لا ت میں عوام کی بنیادی ضر و ر ت پوری کرنا،دوم معاشی بحران حل،سوم اخراجات میں کمی اور ٹیکس وصولیاں بڑ ھا نا شامل ہیں،قرضوں کا بوجھ عوام پر کم از کم رکھنے کی کوشش کی جائیگی، بجٹ میں اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف دینا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی ہدایت ہے تمام پالیسیاں عوامی مفاد کیلئے بنائی جائیں۔گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ گور نر ہائوس میں ایک ہی وقت میں مشیر خزانہ 'وزیر ریونیو اور وزیر ٹیکساٹل سمیت دیگر حکومتی نمائندگان یہاں تین گھنٹے سے موجود ہے جنہوں نے سب کے مسائل سنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ہماری حکومت نے عام انتخابات سے پہلے اور حکومت میں آنے کے بعد جو بھی بزنس کمیمونٹی سے وعدے کیے ہیں ان پر ہر صورت عمل کیا جائیگا اوراس میں کوئی شک نہیں کہ آج ملکی ترقی کیلئے حکومت اور بزنس کیمونٹی ایک پیج پر آچکی ہے اور ہماری حکومت ڈنگ ٹپائو پالیسی نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کو محفوظ اور خوشحال بنانے کیلئے لانگ ٹر م پالیساں بنا رہی ہے ۔وزیر مملکت میاں حما داظہر نے کہا کہ ایف بی آر میں بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے، اس کو تھوڑا بہت ٹھیک کرنے سے بات نہیں بنے گی' وفاق جو ٹیکس جمع کر تا ہے اس کا 57فیصد صوبوں کو چلا جاتے ہیں حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس ریونیو کا نیا ٹارگٹ فائنل کر لیا اور مجھے یقین ہے کہ ہم اس کو حاصل کر نے میں کامیاب بھی ہوجائیں گے اور معاشی چیلنج سے نمٹنے کیلئے ٹیکس ریونیومیں اضافہ ضروری ہے ہماری حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ماضی کی اسکیموں سے مختلف ہے جس کے تحت جو جائیداد ظاہر ہوگی وہ موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہوگی بے نامی اکانٹس اور جائیداد ظاہر نہ کرنے کی سزا سات سال ہے اور اب حکومت ایک بے نامی قانون لارہی ہے جس کے تحت اس اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تاجروں نے وزیراعظم عمران خان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کوئی اس نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھائے گا تو تاجر برادری حکومت کی جانب سے کسی ایکشن کی مخالفت نہیں کرے گی۔وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبد الرزاق دائود نے کہا کہ شہریوں کی خوشحالی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے سرمایہ کاری کا فروغ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کا محور ہے پاک چین بزنس فورم سے تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور کاروباری برادری کے درمیان رابطے بڑھیں گے۔وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داد نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور تاجر برادری کے لئے حکومت آسانی پیدا کر رہی ہے اس حوالے سے ڈی ٹی آر ای کے نظام کو مزید سہل کیا جا رہا ہے۔لاہور چیمبر کے صدر الماس حیدر ، سینئر نائب صدر خواجہ شہزاد ناصر اور نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ خام مال پر زیادہ ٹیکسز ، لیویز ، ایڈوانس اور ودہولڈنگ ٹیکسز کی وجہ پاکستانی صنعتیں عالمی منڈی میں مشکلات سے دوچار ہیں۔انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈز جلد ادا کیے جائیں کیونکہ صنعتوں کو سرمائے کی قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ صنعتوں کے لیے زیرو ریٹنگ کی سہولت کسی بھی صورت ختم نہ کی جائے کیونکہ ان سیکٹرز کے ریفنڈز حکومت کی ٹیکس کلیکشن سے کہیں زیادہ ہیں، اس سہولت کی منسوخی سے حکومت کی طرف ریفنڈز میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا جس کو ادا کرنے میں سالوں لگ جائیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ خام مال پر ڈیوٹیاں اور ٹیکسز کم سے کم کیے جائیں۔ تمام خام مال پر کسٹم ڈیوٹیز ختم یا انتہائی کم ہونی چاہیے۔ حکومت خام مال پر سے ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ختم کرے تاکہ لوکل انڈسٹری ان مسائل پر قابو پا سکے ۔ اس سے حکومت کو بہت سے ایس آر اوز ختم کرنے اورکرپشن کے دروازے بند کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز ٹیکس دہندگان سے حاصل ہونے والی رقم پر چل رہے ہیں، حکومت ان کے بارے میں خصوصی منصوبہ بندی کرے۔

تازہ ترین خبریں