07:16 am
علمائے کرام کے مطالبے پر کفارہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ۔ صوبائی وزیر اطلاعات

علمائے کرام کے مطالبے پر کفارہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ۔ صوبائی وزیر اطلاعات

07:16 am

پشاور (نیوز ڈیسک )وزیر اطلاعات خیبرپختونخواہ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ رکھا جائے اور ایک ہی دن عید منائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کے مطالبے پر ہم نے کفارہ ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ اس مرتبہ ہم نے اس مسئلے کو اُجاگر کر دیا ہے۔ اس اُمید کے ساتھ کہ اس کا حل نکلے اور اگلی مرتبہ ہم سب پاکستانی مل کر ایک ہی دن روزہ رکھیں اور ایک ہی دن عید منائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک جو علمائے کرام کی جانب سے بات آئی ہے اُس میں کہا جا رہا ہے کہ قضا روزہ رکھا جائے،
اگر کفارہ ادا کرنے کی بات آئی تو وہ بھی دیکھ لیں گے، ہم کفارہ ادا کریں گے کیونکہ ہم اسلام سے خارج تو نہیں ہیں، یہی علما ہیں جو ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان نے اعلان کیا کہ آئندہ سال ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ ہو گا اور عید بھی ایک ہی دن منائی جائے گی۔یاد رہے کہ خیبر پختونخواہ میں ملک کے باقی علاقہ جات سے ایک دن پہلے عید کر دی گئی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر اعلان بھی کیا گیا جس کے بعد خیبرپختونخواہ میں صرف 28 روزوں کے بعد 4 جون کو جبکہ ملک کے باقی شہروں میں 5 جون کو عید الفطر منائی گئی۔ جبکہ کراچی کے کچھ علاقوں میں بھی 4 جون کو عید الفطر منائی گئی تھی۔ عید الفطر کے معاملے پر وفاق اس سال بھی ناکام ہو گیا اور ہر سال کی طرح اس سال بھی ملک بھر میں دو عیدیں منائی گئیں ۔جس پر صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ہم نے روزہ مرکز کے ساتھ رکھا لیکن احساس ہوا کہ ایک روزہ کھا چکے ہیں۔ اب جو روزہ نہیں رکھا وہ عید کے بعد رکھیں گے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ صوبے میں ایک عید منائی جائے۔ پہلے فاٹا اور قبائلی علاقہ اپنی اپنی عید مناتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں چاند نظر آجاتا ہے ہمیں نہیں آتا، فاٹا میں چاند نظر آ جاتا ہے لیکن ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہمیں چاند کے مسئلے کو حل کرنا ہو گا۔

تازہ ترین خبریں