10:06 am
 چوروں ، ڈکیتوں اور دھرتی ماں سے غداری کرنے والوں کی اولادیں کبھی تحریک نہیں چلا سکتیں

چوروں ، ڈکیتوں اور دھرتی ماں سے غداری کرنے والوں کی اولادیں کبھی تحریک نہیں چلا سکتیں

10:06 am

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )سابق صوبائی وزیر اطلاعت پنجاب اور ترجمان وزیراعلی پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی حالت اس بےاولاد بیوہ جیسی ہے جس کا نہ کوئی آگے ہے اور نہ کوئی پیچھے۔ انہوں نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چوروں ، ڈکیتوں اور دھرتی ماں سے غداری کرنے والوں کی اولادیں کبھی تحریک نہیں چلا سکتیں۔
انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک گڑوی والی لکشمی چوک یا راجہ بازار میں کھڑی ہو جائے اور گڑوی بجائے تو اتنے بندے اکھٹے ہو جاتے ہیں جتنے آل شریف اور آل زرداری مل کر بھی اکھٹے نہیں کرسکتے۔ انہوں نے مریم نواز کی ٹویٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 3 سال پہلے مریم نواز ٹویٹس کرتی تھیں کہ جیسے طیب اردگان کے لیے ترکی کی عوام ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئی تھی اسی طرح اگر ہمیں کچھ کہا گیا تو عوام باہر آئیں گے اور ٹینکوں کے نیچے لیٹ جائیں گے لیکن وہ ترکی کے طیب اردگان ہیں اور یہ پاکستان خردبرد گان ہیں۔فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ جب الیکشن کے بعد وزارتیں دی جارہی تھیں تو وزارت اطلاعات کی طرف کوئی نہیں جارہا تھا اور جیسے ہی انہوں نے اس وزارت کا حلف لیا تو 2 مہینوں کے بعد ہر وزیر کی خواہش تھی کہ وزارت اطلاعات اس کے پاس ہو۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ کچھ نہیں ہوتا بلکہ انسان کی شخصیت اور کارکردگی سب کچھ ہو تی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وزیر جو منتخب ہے لیکن ٹکے کا کام نہیں کر رہا ایسے وزیر کا اچار ڈالنا ہے؟۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ بنیاد ی چیز کارکردگی ہوتی ہے ، اب ایک وزیر جو منتخب ہے لیکن ٹکے کا کام نہیں کر رہا اور کارکنان اس پر تھوتھو کر رہے ہیں اور پارٹی کے لوگ اس کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں تو ایسے وزیر کا کیا اچار ڈالنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایک غیرمنتخب شخص اچھے طریقے سے اپنی ذمہ داری پوری کردیتا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو نظر آتا ہے کہ کون وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہا ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ انہوں نے سوا 6 مہینے میں 50دنوں میں سے ایک بھی چھٹی نہیں کی، انہوں نے کہا کہ وہ صبح 10 سے رات 10 بجے تک ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر کام کرتے تھے اور پچھلے بیس سالوں میں اتنا کام نہیں ہوا جتنا انہوں نے سوا 6 مہینوں میں کیا ہے۔

تازہ ترین خبریں