11:01 am
درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

11:01 am

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔ عدالت کی طرف سے فیصلہ آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ ضمانت کی درخواست ہے اسے اپیل یا ٹرائل نہ بنایا جائے، اتنے لمبے دلائل ٹرائل میں ہی دیے جاتے ہیں۔وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ میں
صرف 20 منٹ میں اپنے دلائل مکمل کر لوں گا۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ کو مخاطب کرتے ہوئے عدالت نے استفسار کیا کہ آپ تو دلائل دے چکے ہیں ؟ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ سارا دن دلائل دے چکے ہیں اب کوئی چیز رہ گئی ہے تو وہ بتائیں۔جہانزیب بھروانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ میں صرف 10 منٹ ہی دلائل دوں گا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ساڑھے چار ارب روپے کی رقم کیا صرف اے ون اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رقم مختلف اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی ہے اور عدالت کو اس حوالے سے فہرست بھی فراہم کر دی گئی ہے جبکہ چارج شیٹ کو ریفرنس میں تبدیل کر دیا گیا ہے مگر 28 جعلی اکاؤنٹس پر تحقیقات جاری ہیں۔پراسیکیوٹر نیب کی جانب سے پارک لین کیس کے تذکرے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پارک لین کو چھوڑ دیں، یہ بتائیں کہ جعلی اکاؤنٹس سے کیا تعلق ہے ؟ عدالت سمجھ نہیں رہی کہ آپ کیس کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں جبکہ ہم نے اس کیس کو سننے کے لیے تمام کیس ملتوی کر دیے ہیں۔ آپ صرف ضمانت کی حد تک محدود رہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عدالت صرف غیر معمولی حالات یا ہارڈ شپ کی صورت میں ضمانت دے سکتی ہے اور اس کیس میں کوئی خاص حالات ہیں نہ ہی ہارڈ شپ۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں طے شدہ معیار کے مطابق ضمانت نہیں دی جا سکتی۔جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آصف زرداری کمپنی کے 25 فیصد کے شیئر ہولڈر ہیں اور اس میں ان کی فیملی کے بھی شیئرز ہیں۔ بینک افسر کرسٹوفر نے اے ون کا جعلی بینک اکاؤنٹ بغیر طریقہ کار اپنائے بند کر دیا۔پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن گزشتہ 4 سماعتوں سے چار ارب 40 کروڑ روپے کی بات کر رہی ہے تاہم آصف زرداری کا اس رقم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور زرداری گروپ کو اس میں سے صرف ڈیڑھ کروڑ روپے منتقل ہوا۔انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن کی دستاویزات سے تصدیق ہوتی ہے کہ اے ون اومنی گروپ کا اکاؤنٹ ہے یہاں چالان میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ زرداری گروپ کو 3 کروڑ روپے منتقل ہوئے جبکہ یہ رقم بینک سے بینک کو منتقل ہوئی اور اس میں کوئی بات چھپائی نہیں گئی، آصف زرداری کو ایف آئی آر میں ملزم قرار دیا گیا اور نہ ہی ان کا کردار بتایا گیا۔فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے نیب کو دو ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اب تک ریفرنس دائر نہیں ہوا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے وقت میں توسیع کی۔ اب توسیع نہ ہونے کے بعد نیب کی تفتیش کا اختیار ختم ہو جاتا ہے۔آصف زرداری کے وکیل نے نیب کی کارروائی کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے اس کیس میں آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں لیکن اس کیس میں وارنٹ جاری کرنا چیئرمین نیب کا اختیار نہیں ہے۔گزشتہ سماعت میں فریقین کے دلائل مکمل ہو گئے تھے اور عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے مطمئن نہ کرنے پر سماعت 10 جون تک ملتوی کی تھی۔آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے گزشتہ سماعت میں عدالت کو بتایا تھا کہ ریفرنس کی متعلقہ عدالت مچلکے جمع کرانے کا حکم دے چکی ہے۔گزشتہ سماعت میں آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ کیا ہمیں نیب کی دستاویزات مل سکتی ہیں ؟ ہمیں وقت دے دیں کہ ہم ریکارڈ دیکھ کر جواب الجواب دیں۔جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ کم از کم میں اپنی جانب سے سختی سے مسترد کرتا ہوں اور جو کچھ آ چکا ہے اسی کی بنیاد پر اب فیصلہ کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں