01:33 pm
آصف زرداری کی گرفتاری کے وقت قمر الزمان کائرہ اور پولیس کے درمیان شدید لڑائی

آصف زرداری کی گرفتاری کے وقت قمر الزمان کائرہ اور پولیس کے درمیان شدید لڑائی

01:33 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) نیب کی ٹیم نے سابق صدرآصف علی زرداری کو گرفتار کر لیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو اور اور آصف زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو بھی موجود تھیں جنہوں نے والد دکو گلے لگا کر رخصت کیا۔۔تاہم اس موقع پر قمر زمان کائرہ اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آصف زرداری کی گرفتاری
کے موقع پر پولیس اور قمر زمان کائرہ کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جس کے بعد قمر زمان کائرہ نیچے گر گئے۔ لیا۔خیال رہے کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہفریال تالپور کے ہمراہ آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ڈپٹی پراسیکیوٹرنیب سردارمظفر اور اسپشل پراسیکیوٹرجہانزیب بروانا پیش ہوئے جبکہ آصف زرداری کی جانب سے فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔نیب کی جانب سےاسپیشل پراسیکیوٹر جہانزیب بروانا نے دلائل دئے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب نے مکمل طور پر دلائل دئے، کوئی چیز رہ گئی ہے توعدالت کو بتایا جائے جبکہ نیب کے تفتیشی افسر مکمل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب کے وکیل کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے جوابی دلائل دئے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا براہ راست اکاؤنٹس کھلوانے کا تعلق نہیں ہے۔ نیب کا روزانہ کی بنیاد پر آصف زرداری کے خلاف آپریشن جاری ہے، پہلے جواب الجواب کے ساتھ دستاویزات دیئے ہیں، جعلی اکاؤنٹ کھولنے کی حد تکآصف زرداری ملزم نہیں ہیں۔ وکیل فاروق ایچ نائیک نے چئیرمین نیب کی آئینی اختیارات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا چئیرمین نیب آرڈیننس 26 کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرسکتا، چئیرمین نیب کے پاس سپلیمنٹری ریفرنس کا اختیار نہیں ، آصف زرداری کو اس موقع پرگرفتار نہ انکوائری کی جاسکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں