06:34 am
آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے استعفیٰ کا مطالبہ

آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے استعفیٰ کا مطالبہ

06:34 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آصف علی زرداری کی گرفتاری کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں دوسری مرتبہ مجھےبولنے نہیں دیا گیا۔ پچھلے سیشن میں بھی مجھے بولنے نہیں دیا گیا تھا۔ سی ای سی اجلاس کے بعد دوبارہ میڈیا سے بات کروں گا۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے یقین دلایا تھا کہ آئندہ اجلاس میں مجھے بولنے دیا جائے گا۔ لیکن آج بدقسمتی سے قومی اسمبلی میں دوسرا سیشن ہے کہ مجھے بولنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے رویے کی مذمت کرتا ہوں۔ اور اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سےاستعفے کا مطالبہ کرتا ہوں۔اُن کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ کے ایم این اے کوقومی اسمبلی میں بولنے نہیں دیا گیا۔جناب اسپیکر ایوان کی دو خواتین ارکان کا تعلق سندھ سے ہے۔دونوں خواتین ارکان اسمبلی پراسلام آباد کی سڑکوں پرپولیس نے تشدد کیا۔ آج تین وزرا کوبات کرنے کا موقع دیا گیا مگرمجھے بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ایسا رویہ پرویزمشرف، ضیاء الحق کے دورمیں بھی نہیں دیکھا لیکن آج نئے پاکستان کی اسمبلی میں دیکھ رہے ہیں۔ بتایا جائے کہ ضیا ، مشرف ، ایوب دور اور آج کے دور میں کیا فرق ہے؟ ایوب،ضیا،مشرف کے دورمیں بھی بولنے کی اجازت نہیں تھی آج بھی نہیں ہے۔سنگین الزامات کے باوجود شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت مارتی بھی ہے اور رونے بھی نہیں دیتی۔ یہ حکومت سلیکٹڈ میڈیا، سلیکٹڈ اپوزیشن اورسلیکٹڈ عدلیہ چاہتی ہے۔ ایک سازش کے تحت عدلیہ پربھی حملہ کیا گیا ۔ پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت آزادی اظہار رائے پربھی پابندی عائد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آصف علی زرداری نے بطور احتجاج گرفتاری دی ہے۔ نئے پاکستان میں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔یہ وہی سلسلہ ہے جو ہم نے پہلے بھی دیکھا ہے۔ کیسے اس بچے کو ڈرائیں گے جس کا باپ گیارہ سال جیل میں رہا ہو۔ موت سے اس بچے کو کیسے ڈرائیں گے جس کی والدہ کو شہید کیا گیا۔ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ یہ بزدل اور کٹھ پتلی حکومت ہے۔

تازہ ترین خبریں