09:45 am
 نقیب اللہ محسود کے والد نے بیٹے کے قتل پر سیاست کرنیوالوں کو منہ تور جواب دیدیا

نقیب اللہ محسود کے والد نے بیٹے کے قتل پر سیاست کرنیوالوں کو منہ تور جواب دیدیا

09:45 am

پشاور(نیوز ڈیسک)نقیب اللہ محسود کے والد نے بیرونی عناصر کے ایجنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نقیب اللہ کے قتل پر کچھ لوگ سیاست کر رہے ہیں لیکن میں نے کسی کو بیٹے کے قتل پر سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ نقیب کے نام پر فنڈز جمع کرنے والوں کو کسی طور اجازت نہیں دی۔ مجھے پاکستان کی عدالتوں اور انصاف پر پورا یقین ہے۔39، 39 سال تک کیسز چلتے ہیں
مگر مجھے ایک سال میں انصاف نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے راؤ انوار کی ضمانت مسترد کردی ۔ جو فوج کے خلاف بات کررہے ہیں وہ دراصل پاکستان کے خلاف ہیں۔ پاک فوج کی اپنے علاقے میں موجودگی کی حمایت کرتے ہیں۔ نقیب اللہ کے والد نے کہا کہ چند لوگوں کے یہ نعرے پاکستان کے خلاف ہیں۔میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ یہ تمہارا یا میرا نہیں بلکہ ہم سب کا پاکستان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ہمارے علاقے میں ترقیاتی کام کرکے امن بحال کیا، سیاست چھوڑ کر فوج کے ساتھ کھڑے ہوں تو کوئی مات نہیں دے سکتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال مئی میں نقیب اللہ محسود کے والد کا کہنا تھا کہ نقیب کو نہ بھولا جاسکتا ہے اور نہ اس کے خون کا سودا کرسکتے ہیں، محمد خان محسود کا کہنا تھا کہ اگر راؤ انوار طاقت ور ہے تو میں بھی محنت کش ہوں۔خیال رہے کہ گذشتہ سال جنوری میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نقیب اللہ کو تین ساتھیوں سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور نقیب اللہ کا تعلق شدت پسند تنظیموں داعش اور لشکر جھنگوی سے ظاہر کیا تھا۔ لیکن بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ یہ ان کاؤنٹر جعلی تھا۔ نقیب کے اہل خانہ نے ان الزامات کو مسترد کیا جس کے بعد ملک بھر میں نقیب اللہ کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے ہوئے۔اسی روز سندھ کے وزیر داخلہ نے اس مبینہ پولیس مقابلے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ 19 جنوری کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا۔ 20 جنوری کو راؤ انوار کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا جس کے بعد وہ روپوش ہو گئے۔ 4 فروری کو پشتون قبائل نے راؤ انوار کی عدم گرفتاری کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا جو ایک ہفتے تک جاری رہا۔جبکہ 21 مارچ کو راؤ انوار سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو گئے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا تاہم اب وہ ضمانت پر ہیں۔

تازہ ترین خبریں