12:32 pm
مجھ پرتشدد کرنے والے ایس ایچ او کیخلاف کارروائی کی جائے،  یاسر ریاض

مجھ پرتشدد کرنے والے ایس ایچ او کیخلاف کارروائی کی جائے، یاسر ریاض

12:32 pm

مجھ پرتشدد کرنے والے ایس ایچ او کیخلاف کارروائی کی جائے، یاسر ریاض سہیل یوسف کو فوری معطل کیاجائے اور شفاف انکوائری یقینی بنائے جائے، پریس کانفرنس ڈڈیال (نمائندہ اوصاف) ایس ایچ او سہیل یوسف نے تشدد کانشانہ بنایا۔عدالت نے میرے حق میں فیصلہ سنایا ۔عدالتی حکم پر ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر تو درج ہوئی مگر کسی قسم کی معطلی یا گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی حکومت آزاد کشمیر مجھے انصاف دلائے اور محکمہ پولیس کو کورٹ کے احکامات پر عملددرآمد کرنے کا پابند کرے ان خیالات کا اظہار یاسر ریاض سکنہ بلتھی خادم آباد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا یاسر ریاض نے اخبار نوسیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہمحکمہ پولیس نہ صرف سیشن کورٹ ، ہائی کورٹ بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے مجھ پر جھوٹا کیس بنا کر نہ صرف مجھ پر تشدد کیا گیا بلکہ میری تذلیل کی گئی ایس ایچ او سہیل یوسف سمیت باقی اہلکاران پر ایف کوٹلی سٹی تھانہ میں ایف آئی آر درج ہے ایس ایچ او سہیل کی ڈڈیال میں تعیناتی لمحہ فکریہ ہے میری جان کو خطرہ ہے اعلیٰ حکام فی الفور ایس ایچ او سہیل کو معطل کریں اور صاف شفاف انکوائری کو یقینی بنایا جائے اگر ایسا نہ ہوا تو زبر دست احتجاجی تحریک چلائیں اور دھرنا بھی دیں گے ہ اُس وقت دسمبر 2016کو کوٹلی تھانہ کے ایس ایچ او سہیل یوسف مجھے ڈڈیال سے غیر قانونی طور پر اغواء کر کے ہمراہ اے ایس آئی مہتاب احمد ، تفتیشی محمد شہزاد و دیگر نفری ایک نجی عمارت میں بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا جس سے میرے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی بعد میں نے اس زیادتی کے خلاف پہلے سیشن کورٹ پھر ہائی کورٹ میں مقدمہ کیا اور سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں سے بھی میرے حق میں فیصلہ آیا تینوں عدالتوں نے اُس وقت کے کوٹلی کے ایس ایچ او سہیل یوسف سمیت دیگر اہلکاران کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم جاری کیا سپریم کورٹ کے احکامات پر ایس ایچ او سہیل یوسف سمیت دیگر اہلکاران کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی لیکن بعد میں محکمہ پولیس کے آفیسران اپنے پیٹی بھائیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ بلکہ محکمہ پولیس توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں یاسر ریاض نے بتایا کہ مجھے مسلسل دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ میں صلح کر لوں مجھے آئے روز فون کالز کی جار ہی ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کے خلاف کہ قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئند ہ کسی شریف شہری کو ذلیل نہ کیا جا سکیلیکن FIRدرج ہوئے 6ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک سہیل یوسف اپنے عہدے پر براجمان ہے اور کھلم کھلا سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین ہے بلکہ ریاست کے ماتھے پر بھی ایک کلنک ہے اور دنیا کے لیے جگ ہنسائی کا موجب بن رہا ہے کہ آزاد خطہ میں سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی یاسر ریاض نے کہا کہ اب سہیل یوسف کو ڈڈیال میں تعینات کر دیا گیا ہے اور اب میری جان کو بھی خطر ہ لاحق ہو گیا ہے کہ ایک بار پھر وہ مجھے کسی جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر میرے خلاف انتقامی کارروائی کر سکتا ہے اس لیے میری نہ صرف آزاد حکومت ، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر ، آئی جی آزاد کشمیر سمیت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے معزز ججوں سے گزارش ہے کہ میرے ساتھ انصاف کرتے ہوئے محکمہ پولیس کو پابند کیا جائے کہ ہائی کور ٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے سہیل یوسف کو نوکری سے معطل کرکے ان کے خلاف سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے بصورت دیگر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل در آمد نہ کرنے کے حوالے سے ڈڈیال شہر میں نہ صرف احتجاجی مظاہرہ سمیت دھرنا دیا جائے گا اور یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سردار سہیل یوسف کے خلاف قانونی کارروائی نہیں لائی جاتی ۔ سہیل یوسف

تازہ ترین خبریں