01:23 pm
مالی سال 2019-20ء کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا

مالی سال 2019-20ء کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا

01:23 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) مالی سال 2019-20کے وفاقی بجٹ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگیا ہے اور وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر قومی اسمبلی میں مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کر رہے ہیں. وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بجٹ تقریر میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ایک نئے سفر کا آغاز ہوا ہے، تحریک انصاف نئی سوچ، نیا عزم اور ایک نیا پاکستان لائی ہے، پاکستان کے لوگوں کی مرضی ہمیں یہاں لائی ہے، اب وقت ہے لوگوں کی زندگی بدلنے کا،
اداروں میں میرٹ لانے کا اور کرپشن ختم کرنے کا انہوں نے کہا کہ ہم سب اس ملک اور آئین کے محافظ ہیں، اس حکومت کے منتخب ہوتے وقت پائی جانے والی معاشی صورتحال کو یاد کریں اور کچھ حقائق بتانے کی اجازت دیں.انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مجموعی قرض اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھی اور 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات اور ادائیگیاں تھی اور بہت سے تجارتی قرضے زیادہ سود پر لیے گئے، گزشتہ 5 سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں تھا، جبکہ حکومت کا مالیاتی خسارہ 2 ہزار 260 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا. وزیر مملکت نے بتایا کہ 'ہم نے فوری خطرات سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے لیے چند اقدامات کیے درآمدی ڈیوٹی میں اضافے سے یہ 49 ارب ڈالر سے کم ہوکر 45 ارب ڈالر تک آگئی ترسیلات زر میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ 38 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھنے والے قرضوں میں 12 ارب ڈالر کی ماہانہ کمی آئی، چین اور دوست ممالک سے 2 ارب ڈالر کی امداد ملی.انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوگیا ہے، اس سے معیشت کو استحکام حاصل ہوگا جبکہ سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی، ان اقدامات کی بدولت اس سال جاری اکاؤنٹ خسارے میں 7 ارب ڈالر کی کمی آئے گی.حماد اظہر نے بتایا کہ ان سب بیرونی اقدامات کے علاوہ حکومت نے دیگر اقدامات کیے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروائی گئی.مالی سال 20-2019 کے بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بیرونی خسارے میں کمی کا ہدف رکھا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 ارب ڈالر تک کم کرکے 6.5 ارب ڈالر تک کم کیا جائے گا، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے گا، آزادانہ تجارتی معاہدوں کو دیکھا جائے گا، سول و عسکری حکام نے اپنے اخراجات میں مثالی کمی کا اعلان کیا ہے. انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکس وصولی کم ہے، نئے پاکستان میں اس کو بدلنا ہوگا، جب تک ٹیکس نظام میں بہتری نہیں آئی گی پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، سول و عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے بچت کی جائے گی. وفاقی وزیر نے بتایا کہ تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے،برا?مدات میں اضافے سے مالی خسارے کو کم جائے گا، درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے،ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپےسے کم کرکے26ارب روپے تک لے آئے ہیں . آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیاہے، ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے،احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں.97ارب ڈالرکے بیرونی قرضوں کاسامنا ہے،برا?مدات میں اضافے کیلئے حکومت نے اقدامات کیے ہیں، بجلی کے گردشی قرضوں میں 12 ارب روپے کی کمی آئی. سابق حکومت نے زیادہ شرح سود پر قرضے لیے، جب ہم آئے تو مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے ہم نے تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کم کیا. انہوں نے بتایا کہ گردشی قرضہ 1200 ارب تک پہنچ گیا تھا، مالیاتی خسارہ 2260 ارب تک پہنچ گیاتھا، مالیاتی نظام میں بے نظمی کی وجہ سے خسارہ بڑھا،جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا.بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود ہیں . حماد اظہر نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے.حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالرکےمعاہدہ ہوگیاہے ، چین سے313اشیاکاڈیوٹی فری برآمدات کافیصلہ کیاگیا جب کہ 95منصوبے شروع کرنے کیلئے فنڈزجاری کئے گئے‘ بجٹ کا حجم 67 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ٹیکس وصولیوں کا ہدت 550 ارب رکھا گیا ہے. بجٹ میں وفاقی وزیروں کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری افسران کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا چارلاکھ سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس دینا ہوگا.گزشتہ برس ترقیاتی کاموں کے لیے دس کھرب تیس ارب روپے وفاقی سطح پر مختص کیے گئے تھے ، رواں برس اٹھارہ کھرب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے.انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنے مخصوص جغرافیے کے سبب سیکیورٹی خدشات کا شکار ہے، دفاع پر کثیر رقم خرچ کرنا ہماری سلامتی کے لیے ضروری ہے گزشتہ برس دفاع کے لیے 11 کھرب روپے مختص کیے گئے ، پاک فوج کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس سال دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں لیا جائے گا. پاکستان میں توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے مستقل اقدامات کی ضرورت ہے گزشتہ برس اس مد میں 138 ارب روپے رکھے گئے تھے‘پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا حصول ایک انتہائی مشکل امر ہے اور اس مد میں بہت کم رقم مختص کی جاتی ہے، گزشتہ برس اس میں میں 57 ارب روپے مختص کیے گئے تھے. اٹھارویں ترمیم کے بعد سے صحت صوبائی معاملہ ہے لیکن وفاق بھی صحت کی سہولیات کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے گزشتہ برس صحت کی مد میں37 روپے مختص کیے گئے تھے. پاکستان کی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے گزشتہ سال اس شعبے کی دی جانے والی سبسڈی صوبوں کی صوابدید پر چھوڑی گئی تھی اور زرعی قرضوں کی مد میں 1100 ارب روپے رکھے گئے تھے.

تازہ ترین خبریں