03:51 pm
آصف زرداری کی بھری عدالت میں چھوٹی سی خواہش

آصف زرداری کی بھری عدالت میں چھوٹی سی خواہش

03:51 pm

اسلام آباد (نیو زڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری نے ذاتی معالج اور خدمت گزار کے لیے درخواست دے دی ۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے سامنے پیش کیا۔ دوران سماعت سابق صدر خود ہی روسٹرم پر آگئے اور ایک ذاتی معالج اور خدمت گزار دینے کی درخواست کر دی۔ انہوں نے کہاکہ میں شوگر کا مریض ہوں،
مجھے ذاتی معالج اور خدمت گزار چاہئیے۔ایک شخص ہونا چاہئیے جو میری شوگر چیک کرتا رہے۔ نیب نے کہا کہ آصف زرداری کی صحت کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جس پر آصف زرداری نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ایک بندہ میرے ساتھ حوالات میں رہے، ایک بندے کی اجازت دی جائے جو نیب کے باہر گاڑی میں موجود ہو۔ ضرورت پڑنے پر میں شوگر چیک کرنے کے لیے اُسے اندر بلا لوں گا۔نیب نے کہا کہ پہلے ریمانڈ پر ہم کسی شخص کی اجازت نہیں دے سکتے البتہ اگر دوسرے ریمانڈ پر اگر عدالت نے کہا تو اجازت دے دیں گے جس پر آصف علی زرداری نے کہا کہ ارے بھائی کتنی بار ریمانڈ لینا ہے میرا؟ آصف زرداری کے اس سوال پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اُٹھے۔خیال رہے کہ میگا منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے عدالت سے سابق صدر آصف علی زرداری کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر رکھی ہے جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو اب سے کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔ خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو سخت سکیورٹی میں نیب کورٹ لایا گیا۔ سابق صدرآصف علی زرداری کو ایک ایمبولینس اور 19 گاڑیوں کے حصار میں نیب راولپنڈی آفس سے نیب کورٹ لایا گیا۔اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ احتساب عدالت کو جانے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیا تھا جب کہ جوڈیشل کمپلیکس کے اردگرد سکیورٹی کے لیے 1500 اہلکاروافسران تعینات کیے گئے ۔ پولیس کی جانب سے جوڈیشل کمپلیکس میں غیر متعلقہ افراد اور سیاسی کارکنوں کو داخلے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ نیب کورٹ لانے سے قبل ان کا میڈیکل چیک اپ بھی کروایا گیا ۔پولی کلینک کے میڈیکل بورڈ نے آصف زرداری کو جسمانی ریمانڈ کے لیے فٹ قرار دے دیا تھا ۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی درخواست ضمانت کو مسترد کردیا تھا جس کے بعد نیب نے آصف زرداری کو حراست میں لے کر نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کر دیا تھا۔

تازہ ترین خبریں