04:58 pm
 بیرونی قرضوں سے کس کس کو اور کتنا کتنا نوازا گیا، اہم اداروں نے ثبوت حاصل کر لیے

بیرونی قرضوں سے کس کس کو اور کتنا کتنا نوازا گیا، اہم اداروں نے ثبوت حاصل کر لیے

04:58 pm

اسلام آباد (ویب ڈیسک) گذشتہ دور حکومت میں بیرونی قرضوں سے کس کس کو اور کتنا کتنا نوازا گیا اس حوالے سے اہم اداروں نے ثبوت حاصل کر لیے ہیں۔ اس حوالے سے بھی کافی ثبوت اور شواہد موصول ہوئے ہیں کہ کن من پسند کمپنیوں کو ادائیگیاں کی گئیں ۔ کتنے ایسے پراجیکٹ ہیں جن کے نام پر رقوم کی ادائیگی تو کر دی گئی مگر پراجیکٹ آ ج تک نہیں بن سکے ۔اہم اداروں نے اس ضمن میں نہ صرف اہم شواہد اکٹھے کر رکھے ہیں بلکہ اس پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آ نے کے کچھ عرصہ بعد ہی باقاعدہ کام شروع کر دیا گیا تھا۔
قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے تمام رپورٹس اور اس حوالے سے جاری کام کو دیکھتے ہوئے انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو اس حوالے سے جو رپورٹس پیش کی گئی تھیں ان میں کئی خوفناک انکشافات ہیں اور ایسی چیزیں سامنے آئی ہیں جس میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیرونی ممالک سے لئے گئے قرضے سے سابقہ حکمران خاندان، تگڑے وزرا اور کئی سرکاری افسران کو نوازا گیا۔اس ضمن میں کئی ایسی چیزیں بھی سامنے آ ئیں کہ اربوں روپے کی ایسی رقوم جو حقیقت میں پاکستان میں مختلف پراجیکٹس میں خرچ ہو رہی تھیں۔ ان رقوم کو مختلف افراد نے مختلف ذرائع سے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کروایا بلکہ ایسی ایسی کمپنیز کو بھی ادائیگیاں کی گئیں جنہوں نے نہ صرف غیر معیاری کام کئے بلکہ اتنی رقوم بنتی نہیں تھیں جتنی ان کو دی گئیں۔اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ 1122 جیسے بڑے پراجیکٹس بھی اس میں شامل ہیں جن پر رقوم کی ادائیگی تو ہو چکی لیکن وہ پراجیکٹ حقیقت میں نظر نہیں آ رہے جبکہ 27 ایسے پراجیکٹ بھی ہیں جن کے لئے بیرونی قرضے کے ساتھ ساتھ کئی غیر ملکی این جی اوز سے بھاری فنڈنگ بھی کروائی گئی،قرضے کی رقم سے حکومتی، سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ غیر ملکی افراد نے بھی حصہ وصول کیا۔ذرائع کے مطابق 3 سابق وزیر و مشیر خزانہ، 22 اہم سرکاری شخصیات ، چار بڑے سیاسی خاندان اس میں ملوث پائے گئے۔ اس حوالے سے سے بننے والی انکوائری کمیشن کو نئے سرے سے ان تمام شواہد کو دیکھنے اور میرٹ پر اس حوالے سے کام کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔ ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس حوالے سے وزیر اعظم سمیت اہم ترین ذمہ داران میں یہ بات بھی طے ہو چکی ہے کہ اس میں جو بھی ملوث ہو گا، چاہے اس کا تعلق حکومتی پارٹی سے کیوں نہ ہو، اس کو ہرگز کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کمیشن پر کوئی دباؤ ڈالا جائے گا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ قانونی ٹیم کو ، اس حوالے سے جلد از جلد کام مکمل کرنے ، رپورٹ کو جلد از جلد پبلک کرنے اور رپورٹ مکمل ہونے پر جن جن افراد نے غلط استعمال کیا اور کرپشن میں ملوث رہے، اُن کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے قانونی نقطہ نظر سے کیا ایکشن کیا جا سکتا ہے ، اس پر بھی کام کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے ۔

تازہ ترین خبریں