09:28 am
بھارت بات چیت کے لیے تیار نہیں تو ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں،وزیر خارجہ شاہ محمود

بھارت بات چیت کے لیے تیار نہیں تو ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں،وزیر خارجہ شاہ محمود

09:28 am

بشکیک (نیوز ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود کا کہنا ہے کہ بھارت بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے تو ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بشکیک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہندوستان کے وزیراعظم سے کوئی ملاقات طے نہیں تھی۔شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ بھارت ابھی تک الیکشن کے ہینگ اوور سے باہر نہیں نکلا ہے۔ہندوستان کی سرکار بھی ابھی تک الیکشن کے موڈ سے باہر نہیں آئی کیونکہ انتہا پسندی اور ہندو توا کی بنیاد پر انہوں نے الیکشن جیتا ہے
وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے ساتھ آگے بڑھنا ان کے لیے مناسب نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا موقف ساری دنیا کے سامنے ہے پاکستان انتظار کر سکتا ہے،بھارت بات چیت کے لیے تیار نہیں تو ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں۔مذاکرات ہوں گے تو باوقار طریقے سے ہوں گے۔ہم نے امن کی بات کی لیکن بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا جس کا ہم نے منہ توڑ جواب دیا۔وزیر خارجہ نے اس حوالے سے مزید کہا کہ بھارت مذاکرات کرنا چاہے گا تو ہم مذاکرات کریں گے لیکن انہوں نے راہ فرار اختیار کی تو ہم بھی ان کا تعاقب نہیں کریں گے۔جب کہ جمعرات کو بشکیک میں پاکستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کرغزستان میں تقریباً 2600 پاکستانی طلباء زیر تعلیم ہیں جو یہاں پاکستان کے چلتے پھرتے سفیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ یہ طلباء بیرون ممالک پاکستاں کے مثبت تشخص کو اجاگر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیاء کی تمام ریاستیں ہماری لئے اہم اور قریبی ہمسایہ ہیں، ہم وسطی ایشیاء کے تجارتی منڈیوں تک رسائی چاہتے ہیں، وسطی ایشیاء کی نوجوان نسل اپنے مسلم تشخص کو بحال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان ممالک کی آبادی انتہائی کم ہے لیکن ہم ان کی بہت سی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ وسطی ایشیاء کے ساتھ آمدورفت کے مسائل موجود ہیں لیکن جیسے جیسے افغانستان کے حالات میں بہتری آئے گی تو وسطی ایشیاء کے ساتھ زمینی راستے کے ذریعے آمدورفت کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرغزستان قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہے اگر آمدورفت میں اضافہ ہو تو پاکستان کے شہری یہاں آ سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں امن و سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وسطی ایشیاء کے لوگ یہاں آئیں، تعلقات کو وسعت ملے گی۔وزیر خارجہ نے ملکی بجٹ کے حوالہ سے کہا کہ ہم نے مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا، ہماری مجموعی محاصل کا نصف ماضی کے قرضوں کے چکانے پر خرچ ہوتا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ آزاد ہوا لیکن آج چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ انہوں نے مسلسل گروتھ کے ذریعے غربت پر قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کی ترقی ہماری لئے انتہائی اہم ہے، موجودہ بجٹ میں ہم نے قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے 152 ارب روپے مختص کئے ہیں۔

تازہ ترین خبریں