04:32 pm
حامد میر اور ٹویٹر صارف کے مابین لفظی جنگ چھڑ گئی

حامد میر اور ٹویٹر صارف کے مابین لفظی جنگ چھڑ گئی

04:32 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئرملکی صحافی اور تجزیہ کار حامدمیر کہتے ہیں کہ اگر مجھے پھانسی پر لٹکاکر 40دن تک کرین سے نہ اتاراجائے اور اگر پھر بھی مسائل حل نہ ہوئے تو کیا ہوگا۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر فیصل واڈا نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انھوںنے کہا تھا کہ پانچ ہزار کرپٹ افراد کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا جائے ۔ ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے ۔
اس پر حامد میر نے ایک ٹویٹ کی جس میں ان کا کہناتھا کہ کیا پانچ ہزار لوگوں کو پھانسی دینے سے بھی مسائل حل نہ ہوسکتے ہیں؟ حامد میر کے اس سوال پر اعجاز بھٹہ نامی صارف نے کہا کہ ’ اگر 5 ہزار کے بجائے صرف ایک حامد میر کو سر عام لٹکادیا جائے اور لاش کو 40 روز تک کرین سے نہ اتارا جائے تو تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ چوروں اور غداروں کی تربیت گاہ ، نرسری اور سہولت کار ہے‘۔ حامد میر نے اس صارف کو جواب دیا ’ آپ نے دو طاقتور حضرات کی تصویر لگا رکھی ہے لہٰذا ان سے گذارش کیجئے کہ مجھے سرعام لٹکا دیا جائے اور لاش کو چالیس روز تک کرین سے نہ اتارا جائے‘۔ خیال رہے کہ جس شخص نے حامد میر کو لٹکانے کی تجویز دی تھی اس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے کور پر وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تصویر لگا رکھی ہے۔حامد میر نے مزید کہا کہ اگر انہیں پھانسی پر لٹکا کر 40 روز تک کرین سے نہ اتارا جائے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے محبوب جنرل پرویز مشرف کی طرح ملک سے نہیں بھاگوں گا لیکن اگر میری موت سے بھی ملک کے مسائل حل نہ ہوئے تو پھر؟۔

تازہ ترین خبریں