09:15 am
سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 63 برس کردی گئی

سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 63 برس کردی گئی

09:15 am

پشاور (نیوز ڈیسک )خیبرپختونخواہ حکومت نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں تین سال کا اضافہ کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے سالانہ 24 ارب روپے کی بچت کے لیے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر اضافہ منظور کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 63 برس کردی گئی ہے۔ مذکورہ فیصلہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔
جس کے بعد صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں موجود ملازمین کی عمر 65 سال سے زائد جبکہ کچھ ممالک میں یہ 67 سال سے زائد ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 240 (ب) کے تحت صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اس بارے میں صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کی جاسکے۔ابتدا میں سول سرونٹ ایکٹ 1973 میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 50 سال مقرر کی گئی تھی جس کے بعد اسے بڑھا کر 60 برس کردیا گیا تھا۔ پاکستان میں اوسط عمر 1973ء میں 55 برس سے بڑھ کر 2018ء میں 63 سال ہوچکی ہے تقریباً 5 ہزار ملازمین ہر سال ریٹائر ہوتے ہیں جبکہ قبل از وقت ریٹائر منٹ کی شرح بھی 50/50 ہے۔ یاد رہے کہ بجٹ آنے سے قبل وفاق میں موجود سرکاری ملازمین کی پنشن ختم جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے کم کر کے 55 سال کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے مطالبے پر حکومت کی جانب سے قومی سطح پر اخراجات میں کمی کی نئی حکمت عملی پر غور شروع کیا گیا تھا۔ جس کے تحت پنشن ختم کرنے اور ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد 60 سال سے کم کر کے 55 سال کرنے کی پالیسی پر غور کیا گیا۔تاہم اب خیبرپختونخواہ حکومت نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں 3 سال کا اضافہ کر دیا ہے۔

تازہ ترین خبریں