03:43 pm
افغان مہاجرین کےپاکستان میں قیام کی مدت 30جون كکو ختم

افغان مہاجرین کےپاکستان میں قیام کی مدت 30جون كکو ختم

03:43 pm

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان میں چالیس سال طویل عرصہ تک قیام پذیر افغان مہاجرین کے قیام کی مدت 30 جون2019 کو ختم ہورہی ہے اور ان کے قیام کی مدت پوری ہونے میں صرف 15دن باقی رہ گئے تاہم قوی امکان ہے کہ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں دسمبر2019 تک توسیع کی جائے گی جبکہ قوام متحدہ کے رضاکارانہ وطن واپسی پروگرام کے تحت گزشتہ تین ماہ کے دوران اب تک صرف 1663رجسٹرڈافغان مہاجرین پر مشتمل 430خاندان اپنے وطن واپس جاچکے ہیں۔ افغانستان پر 70 کی دہائی میں روسی سامراج کے
حملے کے بعد 1979 میں لاکھوں افغانی اپنا ملک اورگھربار چھوڑکرپاکستان آئے تھے جہاں مختلف کیمپوں میں ان مہاجرین کو آباد کیا گیا۔ان افغان مہاجرین کو پاکستان میں آباد ہوئے 40 برس بیت گئے جبکہ پاکستان میں ان افغان مہاجرین کے قیام کی مدت 30 جون 2019 کوختم ہورہی ہے اور ااْن کے قیام میں صرف 15 روزباقی رہ گئے ہیں تاہم باخبر ذرائع نے امکان ظاہرکیا ہے کہ ان مہاجرین کے قیام کی مدت چھ ماہ تک بڑھا کر 31 دسمبر2019 تک توسیع کی جائے گی۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین(یو این ایچ سی آر) کی جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یکم مارچ 2019 سے دوبارہ شروع کئے گئے وطن واپسی کا پروگرام کے تحت گزشتہ تین ماہ کے دوران عیدالفطر تک پاکستان سے1663 رجسٹرڈ افغان مہاجرین پر مشتمل430 خاندان واپس چلے گئے ہیں جن میں صوبہ خیبرپختونخوا سے234 جبکہ بلوچستان سے 196 خاندان شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق1663 میں سے1617افغان مہاجرین کو نقد مالی امداد فراہم کی گئی جبکہ باقی افراد پہلے ہی یہ امداد حاصل کرچکے ہیں۔پاکستان میں افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی پروگرام میں سہولت دینے کے لئے دو مقامات اضاخیل نوشہرہ (خیبرپختونخوا)اور بلیلی کوئٹہ(بلوچستان) میں مراکز قائم ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان میں 14لاکھ سے زائدرجسٹرڈ افغان مہاجرین ہیں جن میں سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں 8 لاکھ17 ہزار‘ بلوچستان میں 3 لاکھ 23 ہزار‘ پنجاب میں ایک لاکھ 64 ہزار‘ سند ھ میں 64 ہزار‘ دارالحکومت اسلام آباد میں 33 ہزار اور آزادکشمیر و گلگت/بلتستان میں 4 ہزارمقیم ہیں۔حکومتی دعویٰ کے مطابق پاکستان میں مزید 16لاکھ افغان مہاجرین بھی قیام پذیرہیں جن کی ابھی تک رجسٹریشن نہیں ہوئی اور اْن کے پاس پروف آف رجسٹریشن نہیں۔افغان مہاجرین کے معاملے چار فریقی اجلاس (آج)پیر کو اسلام آباد میں ہوگا جس میں پاکستان اور ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ایک روڈ میپ پر گفتگو کی جائیگی۔اجلاس میں شرکت کیلئے افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین حسین بلخی اور ایران کے نائب وزیر داخلہ حسن ذو الفقار اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور اجلاس سے پہلے دونوں وزراء نے پاکستان کے وزیر شہر یارآفریدی سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر)کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہونگے۔ذرائع کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً چودہ لاکھ رجسٹرڈ اور تقریباً دس لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں جو دنیا میں کسی بھی ملک میں مہاجرین کی تعداد زیادہ ہے۔پاکستانی حکومت نے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی مدت میں اس ماہ کی آخر تک توسیع کی ہے۔افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے پہلے دو سال تک افغان مہاجرین کورکھنے کی درخواست کی تھی اور یہ مدت بہت پہلے ختم ہو چکی ہے۔پاکستان کی نئی پالیسی کے مطابق وہ تمام مہاجرین کی رضا کارانہ طورپر پاکستان سے واپسی کا خواہاں ہے اور اسی موضوع پر پیر کو ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائیگا۔یو این ایچ سی آر کے ذرائع کے مطابق افغانستان میں سیکورٹی کی غیر تسلی بخش صورتحال کی وجہ سے اس سال اپریل سے رضا کارانہ طورپر مہاجرین کی واپسی کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔دوسری جانب۔افغانستان کے وزیر مہاجرین محمد حسین بلخی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کا مقصد ہے کہ افغان مہاجرین کو تمام سہولیات فراہم کرے۔ اسلام آباد ائیرپورٹ پر غیر رسمی ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے شہریارآفریدی نے کہا کہ چار رکنی مذاکرات کے دوران ان تمام نکات پر مذاکرات ہونگے جس پر ایران، پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے مہاجرین متفق ہیں۔ افغان وزیر کی پاکستان آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے وزیر سیفران شہریارخان آفریدی نے کہا کہ یہ سنت ہے کہ برادر ان اسلام کو اپنے گھر جیسی سہولیات فراہم کریں۔ افغان وزیر مہاجرین نے کہا کہ برادر ملک پاکستان کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے افغان مہاجرین کو بھائیوں کی طرح رکھا ہے۔ امید ہے دونوں ممالک اسی طرح مل کر کام کریں گے۔

تازہ ترین خبریں