02:52 pm
، شہباز شریف نے عمران خان کو تاریخ کا جھوٹا ترین وزیر اعظم قرار دیدیا

، شہباز شریف نے عمران خان کو تاریخ کا جھوٹا ترین وزیر اعظم قرار دیدیا

02:52 pm

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس مسلسل دوسرے روز حکومتی ارکان کے شور شرابے کی نذر ہو گیا۔وزراء اور حکومتی ارکان نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے دوران احتجاج کیا اور کہا کہ چور کو نہیں بولنے دیں گے۔حکومتی ارکان نے قاتل قاتل کے نعرے لگائے۔سپیکر اسد قیصر کی جانب سے احتجاج نہ کرنے کے احکامات کو حکومتی ارکان نے ہوا میں اڑا دیا اور مسلسل احتجاج کرتے رہے
،سپیکر کے منع کرنے کے باوجودلیگی ارکان سپیکر کی ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے پی ٹی آئی ارکان کی ویڈیو بناتے رہے،حکومت کی جانب سے مسلسل احتجاج پر سپیکر نے اجلاس (آج)منگل کی صبح تک ملتوی کر دیا۔اجلاس کے بعد لیگی ارکان نے بھی حکومت مخالف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان نے سابق صدر آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر احتجاج کیا ،پی پی ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ،جس پر پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ بی این پی مینگل نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے عمران خان کو تاریخ کا جھوٹا ترین وزیر اعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے جھوٹے ترین وزیراعظم نے رات کے اندھیرے میں قوم سے خطاب کیا، ریاست مدینہ میں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی مگر وزیراعظم دن رات جھوٹ بولتا ہے، (ن) لیگی حکومت نے 11ہزار میگاواٹ کے توانائی منصوبے لگائے ،ہم نے معیشت کو پی ٹی آئی کی تمام سازشوں، دھرنوں اور جلائو گھیرائو کے باوجود دن رات محنت کر کے ترقی دی ، ہماری حکومت نے مہنگائی کو 12فیصد سے ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 3فیصد پر لائی ، ہماری حکومت نے تعلیم اور صحت عامہ کے میدان میں انقلاب برپا کیا اور پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی سمت پر ڈالا ،ملک میں امن بحال کیا۔پیر کو قومی اسمبلی کے ایوان میںپیپلزپارٹی کے ارکان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیرقیادت آصف علی زرداری پروڈکشن آرڈر جاری کرو کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئے ، اس سے قبل پیپلزپارٹی کے ارکان نے سپیکر اسد قیصر کے چیمبر کے باہر بھی پروڈکشن آرڈر جاری کرو کے نعرے لگائے ۔قومی اسمبلی کا اجلاس اپنے مقررہ وقت سے 50 منٹ تاخیر سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس شروع ہوتے ہی بلاول بھٹو زرداری اور پیپلزپارٹی کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور سابق صدر آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران سپیکر اسد قیصر نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بجٹ پر بحث کا آغاز کرنے کا کہا ۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا کہ آج بجٹ پر تقریروں کا دن ہے اس لئے آصف علی زرداری ، خواجہ سعد رفیق اور دیگر گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں جس پر سپیکر نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے معاملے پر قانونی رائے لے رہا ہوں ، میاں صاحب آپ اپنی بجٹ پر بحث شروع کریں ، اس دوران پیپلزپارٹی کے ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا جس پر سپیکر نے کہا کہ مہربانی فرما کر اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں اور شہبازشریف کو بجٹ پر بحث کرنیدیں ، سپیکر کی ہدایت کے باوجود پیپلزپارٹی کے ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے نعرے لگائے ۔ پیپلزپارٹی کے ارکان نے ہاتھوں میں پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے جس پر پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے نعرے درج تھے ، شہبازشریف نے دوبارہ کہا کہ یہ بجٹ اجلاس ہے ،ہر اس رکن کا حق ہے کہ وہ اس ایوان میں اپنے حلقے کے مسائل اٹھائے اس لئے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں،پیپلزپارٹی کے ارکان پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے بات کرنا چاہتے ہیں اس لئے راجہ پرویز اشرف کو دو منٹ کیلئے مائیک دیا جائے ۔ اس موقع پر حکومتی ارکان نے نو نو کے نعرے لگائے ۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی کے رکن راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اسمبلی کا رول 108اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اگر کوئی رکن گرفتار ہے تو اس کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جانے چاہیئں اس لئے بجٹ اجلاس کے دوران جو رکن گرفتار ہے اس کو اپنے حلقے کی نمائندگی کیلئے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں ، آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنا جانبدارانہ رویہ ہے۔ اس موقع پر حکومتی ارکان نے ''کراچی کو پانی دو کراچی کو پانی دو ''کے نعرے لگائے ۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ایوان چلانا صرف حکومت کا کام نہیں اپوزیشن اور حکومت مل کر ایوان چلاتے ہیں ، اپوزیشن اپنی ذمہ داری پوری کرے ۔ اس موقع پر سپیکر نے دوبارہ شہازشریف کو بجٹ پر مائیک دیا ۔جیسے ہی اپوزیشن لیڈرنے بجٹ پر بحث کا آغاز کیا تو حکومتی ارکان اور وزراء نے ایک بار پھر احتجاج شروع کردیا جس دوران شہبازشریف نے اپنا خطاب جاری رکھا ، شہبازشریف کا کہنا تھا کہ تاریخ کے جھوٹے ترین وزیراعظم نے رات کے اندھیرے میں قوم سے خطاب کیا، سلیکٹڈ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں اپوزیشن کو دھمکیاں دیں ، وزیراعظم نے اپنی تقریر میں دو اہم باتیں کیا، وزیراعظم نے ریاست مدینہ کا ذکر کیا ، ریاست مدینہ میں وہ وقت بھی آیا تھا جب ریاست مدینہ میں زکوٰة لینے والا نہیں تھا ، ریاست مدینہ میں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی مگر جھوٹا ترین وزیراعظم اور تاریخ کا جھوٹا وزیراعظم دن رات جھوٹ بولتا ہے ۔ اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے وزیراعظم عمران خان کے جھوٹا کے الفاظ ایوان کی کارروائی سے ہذف کردیے جس پر اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج کیا ۔شہبازشریف نے کہا کہ جھوٹا غیر پارلیمانی لفظ نہیں ہے ، ہمیں جھوٹا کا لفظ ہذف کرنے پر شدید اختلاف ہے ۔ اس دوران حکومتی ارکان نے ڈاکو ،چور اور قاتل قاتل کے نعرے لگائے ،حکومتی ارکان سپیکر کی ڈائس کے سامنے آگئے اور شدید نعرے بازی کی ۔ اس دوران سپیکر مسلسل حکومتی ارکان کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کرتے رہے ۔ سپیکر نے کہا کہ حکومتی ارکان اپنی نشستوں پر جاکر بیٹھ جائیں ، اگر ایسا نہ کیا تو میں اجلاس ملتوی کردوں گا یہ کوئی طریقہ نہیں ،حکومتی ارکان نے سپیکر کی مسلسل ہدایات کو ہوا میں اڑا دیا اور احتجاج جاری رکھا اور کہا کہ چور کو نہیں بولنے دیں گے ۔ اس دوران اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے بھی اپنا خطاب جاری رکھا۔ حکومتی ارکان نے شہبازشریف کو چور اور ڈاکو کہا جس پر شہباز شریف نے حکومتی ارکان کو کہا کہ چور تمہارا لیڈر ہے اور ڈاکو اس کی بہن ہے ۔شہبازشریف نے کہا کہ ہماری حکومت نے چار قومی خدمات سرانجام دیں ، (ن) لیگی حکومت نے 11ہزار میگاواٹ کے توانائی منصوبے لگائے ، ہماری حکومت سے پہلے ملک میں بیس بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ تھی ، مشرف کے زمانے کا بہت بڑا چیلنج نوازشریف کی قیادت میں ہم نے پورا کیا ، ہم نے معیشت جس کا حال برا تھا پی ٹی آئی کی تمام سازشوں اور دھرنوں ، جلائو گھیرائو کے باوجود دن رات محنت کر کے معیشت کو ترقی دی ، ہم معیشت کو 3 سے 5.8 تک لے گئے ، مہنگائی جس سے آج لوگ مر رہے ہیں ، ہماری حکومت نے مہنگائی کو 12فیصد سے ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 3فیصد پر لائی ، ہماری حکومت نے تعلیم اور صحت عامہ کے میدان میں انقلاب برپا کیا اور پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی سمت پر ڈالا ، اس ملک میں دہشت گردی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے اور دنیا میں لوگ یہ کہتے تھے کہ پاکستان خطرناک جگہ بن گئی ہے ، میں سلام پیش کرتا ہوں نوازشریف جو جس نے سیاسی فیصلے سے اور ردالفساد، ضرب عضب کے ذریعے ملک کا امن بحال کیا اور دہشت گردی کو ختم کیا۔ اس دوران حکومتی ارکان نے مسلسل اپنا احتجاج جاری رکھا ۔ اس موقع پر شاہد خاقان عباسی سمیت (ن) لیگی ارکان سپیکر کی ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے حکومتی ارکان کی ویڈیو بناتے رہے ۔ سپیکر مسلسل لیگی ارکان کو ویڈیو بنانے سے منع کرتے رہے ، لیگی ارکان نے ویڈیو بنانے کا عمل جاری رکھا ، ۔ اسپیکر نے سارجنٹ سے کہہ کر ویڈیو بنانے والے اراکین اسمبلی سے موبائل فون لے لیں۔حکومتی ارکان کی جانب سے مسلسل احتجاج پر سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس (آج) منگل کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا،اجلاس ختم ہونے کے بعد لیگی ارکان بھی سپیکر کی ڈائس کے سامنے آگئے اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔لیگی ارکان نے گل گل میں شور ہے علیمہ باجی چور ہے کہ نعرے لگائے۔ واضح رہے کہ جمعے کو بھی وفاقی بجٹ پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس شور شرابے اور ہنگامہ آروائی کی نذر ہوگیا تھا۔(رڈ)

تازہ ترین خبریں