11:48 am
تنخواہوں میں 50فیصد اضافہ اور مزدور کی تنخواہ 20ہزار کی جائے

تنخواہوں میں 50فیصد اضافہ اور مزدور کی تنخواہ 20ہزار کی جائے

11:48 am

اسلام آباد (آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام اور ملک دشمن بجٹ فی الفور مسترد کرتے ہیں، حکومت نے بجٹ میں ترمیم غریبوں کی امنگوں کی عکاسی کرنے والا بجٹ نہ لایا تو اس کو چلنے نہیں دیں گے، گریڈ16 تک سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 50فیصد اضافہ کیا جائے، مزدور کی تنخواہ 20ہزار کی جائے، ایک لاکھ تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ لینے والوں کو ٹیکس چھوٹ دی جائے، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو 31مئی 2018کی قیمتوں پر واپس لایا جائے،
صحت اور تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے، برآمدگان کے لئے زیروایٹڈ میکنزم بحال کیا جائے، حکومت نے 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کر کے ایک گھر نہیں بنایا لیکن بنی گالا کو ریگولرائز کر دیا، سٹاک مارکیٹ سے 20ارب سٹے بازوں کی نذر کر دیئے، ہمارا ووٹ چوری کر کے جعلی مینڈیٹ سے حکومت نہ بنائی جاتی تو ہر سال غریبوں کیلئے 10لاکھ گھر بناتے، حکومت چاہے ساری اپوزیشن گرفتار کرے بجٹ کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے، حکومت تین ماہ بعد پھر آئی ایم ایف کے پاس جا کر قومی مفاد پر سمجھوتہ کرے گی اور ریلیف مانگے گی، دھاندلی زدہ حکومت نے معیشت کا بھٹہ بنا دیا ہے، ملک کو معاشی جہنم بنا دیا، قرضوں کا حساب دینے کیلئے تیار ہیں، حکومت کو مشرف دور اور خیبرپختونخوا حکومت کے لئے ہوئے قرضوں کا حساب بھی لینا پڑے گا، عمران خان بتائیں ان سے کس نے این آر او مانگا ہے، ان کو بدنام زمانہ ریلیف آرڈر دینے کا اختیار نہیں ہے، لاہور، ملتان، راولپنڈی کے میٹرو بس کے منصوبے 70کلو میٹر سے زائد کے ہیں یہ 100ارب میں بنے لیکن پشاور میٹرو بس کا 27کلو میٹر کا منصوبہ پر 100ارب خرچ ہوچکے ہیں لیکن کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے، بھارت کے ساتھ قومی وقار اور قومی ضمیر کا سودا کر کے امن کی بھیک نہیں مانگنے دیں گے، چیئرمین نیب کی ویڈیو پر تحقیق کے حوالے سے پارلیمانی کمیشن بنایا جائے۔وہ بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر پر اظہار خیال کر رہے تھے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ بجٹ سیشن بہت اہم ہوتے ہیں، معاشی فیصلے کئے جاتے ہیں، ہفتہ سے زائد ہو گیا ہے ایوان کے چار نمائندوں کے پروڈکشن نہیں جاری ہورہے ہیں، آصف زرداری ملک کے صدر رہے ہیں، ہر کیس میں بری ہوئے، سات سات جیل میں رہے، اس کیس میں بری ہوں گے، شمالی وزیرستان کے نمائندوں کو اپنے حق سے محروم ہو رہے ہیں،ہمارے حق اور ایوان میں چلنے والی روایت کو پورا کریں۔ شہباز شریف نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری، خواجہ سعد رفیق، محسن داوڑ اور ان کے ساتھی ایوان کے منتخب رکن ہیں، ہم اپنے علاقوں سے لاکھوں ووٹ لے کر آئے ہیں، بجٹ سیشن اہم ترین موقع ہے، آپ (سپیکر)کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے، بار بار پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست کر رہے ہیں، امید ہے کہ آپ آج پروڈکشن آرڈر جاری کریں گے، گزشتہ روز حکومتی بینچوں سے کہا گیا کہ پی ٹی آئی جب حکومت میں تھی تو قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر کو سکون سے سنا، اس بات سے اختلاف ہے، قومی اسمبلی کے واقعات سب جانتے ہیں، پنجاب اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کی اپوزیشن نے طوفان بدتمیزی برپا کی اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا، گزشتہ چار دن بجٹ پر بات نہ کر سکا، قیمتی وقت ضائع ہوا، 2013میں عوام نے حقیقی ووٹ سے ہماری جماعت کو منتخب کیا تو سر منڈھاتے ہی اولے پڑ گئے، بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ تھی، جو جنرل مشرف کے دور سے چل رہی تھی، جنرل مشرف نے بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھنے کی کوشش کی اور ایک دمڑی تھی اس کیلئے مختص نہ کی اور عوام کو دھوکہ دیا، 2014کے آغاز میں دھرنے شروع ہو گئے، کنٹینر پر آکر افراتفری کا ماحول پیدا کیا گیا،7ماہ دھرنوں میں ضائع ہوئے،تمام تر سازشوں اور منفی ہتھکنڈوں کے باوجود ہم نے کام جاری رکھا، چین کے صدر پاکستان آ رہے تھے، چین کے سفارت خانے کی طرف سے درخواست کی گئی کہ 3 دن کیلئے ڈی چوک سے اٹھ جائیں لیکن انہوں نے انکار کیا اور چین کے صدر کا دورہ ملتوی کیا گیا، پی ٹی آئی کا یہ دھرنے جاری رکھنے کا فیصلہ ملک دشمنی کے مسترادف تھا، چین کے صدر کا دورہ 7 ماہ تاخیر کا شکار ہوا، بجلی کے بحران اور افراتفری کے دور میں دوست ممالک میں سے چین ہماری مدد کیلئے آیا اور سی پیک کے تحت 60ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا اعلان کیا، اس وقت کوئی ہماری مدد کرنے کیلئے تیار نہیں تھا، آج چین کے ساتھ اگر ہم سرد مہری کا مظاہرہ کریں گے تو پھر کون ہماری مشکل وقت میں مدد کرے گا، پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ سب فرضی کہانیاں ہیں اور کہا کہ یہ مہنگا قرضہ ہے، 8فیصد کا سود ہے، یہ قرضہ نہیں تھا کہ یہ توانائی کے شعبہ میں براہ راست سرمایہ کاری تھی، اسد عمر نے بی بی سی کے انٹرویو میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری ہے اور 15فیصد سود پر ہے، نامساعد حالات کے باوجود نواز شریف کی قیادت میں 11ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی، پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا میں اتنی بجلی پیدا کریں گے کہ سارا پاکستان خود کفیل ہو جائے گا اور ایکسپورٹ بھی کریں گے،2013 سے 2018 تک خیبرپختونخوا میں منفی6 میگاواٹ بجلی پیدا کی، ہمارا دور پاکستان کی تاریخ کا سنہرا دور تھا، حکومت نے قرضوں کے حوالے سے کمیشن بنایا ہے، نیلم جہلم جس کی ابتدائی لاگت 800ملین ڈالر تھی بڑھ کر 5ارب ڈالر ہو گئی، ہماری حکومت نے بجلی کے منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت کی، 2013میں گروتھ 3.3تھی جس کو بڑھا کر 5.8 فیصد پر لائے، تمام ادارے پاکستان کی ترقی کو تسلیم کر رہے تھے، 13 سالہ ریکارڈ تھا جب پاکستان کی اقتصادی ترقی 5.8 تک پہنچ گئی، مہنگائی کی شرح 12 فیصد تھی جب ہماری حکومت آئی، ہماری حکومت نے دن رات محنت کی اور مہنگائی 3 فیصد پر آ گئی اور 12فیصد ریکارڈ توڑا، تعلیم اور صحت کے میدان میں انقلاب لایا، 40یونیورسٹیوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا، ہائر ایجوکیشن کا بجٹ 13ارب سے بڑھا کر 47ارب پر لے آئے، چین کے تعاون سے پاکستان کی پہلی ٹیکنیکل یونیورسٹی لاہور میں بنائی گئی، دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ضرب عضب شروع کیا گیا، کراچی سمیت ملک میں امن قائم ہوا اور آج دہشت گردی نہ ہونے کے برابر ہے، فوج کے شہیدوں نے عظیم قربانیاں پیش کیں، ہم نے ایک بہترین حالات میں ملک تاریخ کی بدترین دھاندلی زدہ حکومت کے حوالے کیا، آج یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کا پاکستان بہتر ہے یا ایک سال پہلے کا پاکستان بہتر تھا، خطے کے چھوٹے ممالک سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں، فی کس آمدن بنگلہ دیش پاکستان سے آگے ہے، جس کو 1971ء میں ہم نے بوجھ سمجھ کر اتار دیا تھا، افغانستان کی کرنسی پاکستان سے کئی زیادہ مضبوط ہے، ہندوستان کے ساتھ ہمارا ہر شعبہ میں مقابلہ تھا، آج مقابلہ شرط صرف دو میدان میں رہ گیا، مودی جو ہزاروں مسلمانوں کا قاتل ہے، فروری میں ایک معرکہ ہوا، بھارت نے اگر میلی آنکھ سے دیکھا تو قوم بھارت کی آنکھیں نوچ لے گی اور پائوں تلے روندھ دیں گے، اگر حکومت اور اپوزیشن مل کر ملک کیلئے سوچیں تو ملک ترقی کر سکتا ہے، پہلے دن کہا تھا کہ میعشت کیلئے آئو، میثاق معیشت کریں، لیکن اس کو پیشکش کو حقیر سمجھ کر دھتکارا گیا، سپیکر نے کہا کہ اس پر اب بھی بات ہو سکتی ہے، شہباز شریف نے کہا کہ میثاق معیشت پر بات ہو سکتی ہے، حکومت کو احساس ہو گیا ہے کہ قوم کو وقت ضائع کیا ہے، ایک سال میں آمدنی بڑھی یا کم ہوئی، حکومت کے اخراجات کے حوالے سے عمران خان نیازی کنٹینر سے پکار پکار کر کہتے تھے کہ اخراجات کم کریں گے، کیا وہ بڑھے ہیں یا کم ہوئے ہیں، بجٹ آتا تھا کوئی طبقہ خوش ہوتا تھا اور کوئی ناراض ہوتا تھا، پہلا موقع ہے سب احتجاج کر رہے ہیں، امیر، غریب اور تاجر سب چیخ اٹھے ہیں، یہ حالات دیکھتی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھے، پوری معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے، دس ماہ یہ حالات ہو گئے ہیں، روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہیں، ایک وقت کی روٹی غریب کیلئے نا ممکن ہوتی جا رہی ہے، عمران خان نے کنٹینر پر چڑھ کر لوگوں کو ورغلایا اور سہانے خواب دکھائے کہ پاکستان کو جنت بنائیں گے لیکن حکومت کی نااہلی نے جنت کو جہنم بنا دیاہے، صنعتوں کی قیمتوں سے دھواں نکلنا بند ہو گیا ہے، ڈالر آسمانوں پر پہنچ گیا ہے،ڈالر 157 تک جا پہنچا ہے، خدانخواستہ تقریر ختم ہونے تک 160تک پہنچ جائے گا، کاروبار بند ہو رہے ہیں، لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں، عمران خان نے دس ماہ میں عوام کی چیخیں نکال دی ہیں،10 ماہ کی دلخراش کارکردگی ہے، کاروبار جام ہیں، یہ حکومت کے وژن کے دیوالیہ پن کا ثبوت ہے، چند روز پہلے سلیکٹڈ وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا، سلیکٹڈ کے لفظ کو سپیکر نے حذف کر دیا، شہباز شریف نے کہا کہ مجھے صحیح پتا چلا تو پوچھا خدانخواستہ مودی نے شرارت کر دی، لیکن انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور نواز شریف کو نہیں چھوڑیں گے، قرضوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنے گا، میں نے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، قرضوں کے حوالے سے تمام ادارے دیکھتے ہیں، عمران خان شوق سے کمیشن بنائیں، ہم جواب دیں گے،مشرف دور اور خیبرپختونخوا حکومت کے قرضے بھی لانے ہوں گے، عمران خان دن رات دھمکیاں دیتا ہے، آج تک سنا کہ وزیراعظم اپنے ارکان کو کہیں کہ اپوزیشن کو پڑ جائیں، عمران خان نے این آر او کا بھی ذکر کیا، عمران خان کو یہ بدنام زمانے ریلیف آرڈر دینے کا اختیار نہیں ہے، ان کو کوئی قانون یہ اختیار نہیں دیتا کہ ایوان کو گواہ بنا کر کہتا ہوں، عمران خان بتائیں کہ کب کسی نے ان سے این آر او مانگا ہے اور کون اس کا گواہ ہے، وہ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں، وہ دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں، سپیکر نے دروغ گوئی کا لفظ حذف کرلیا، شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان ٹی وی پر اگر نہیں بتا سکتے تو سپیکر کے کان میں کہہ دیں کہ کس نے این آر او مانگا، میرے بارے میں انہوں نے چیخ چیخ کر کہا کہ شہباز شریف نے پانامہ کے کیس کے حوالے سے 10 ارب آفر کئے تھے، ملتان میٹرو میں چینی کمپنی کے حوالے سے کہا تھا شہباز شریف نے 17 ملین ڈالر کمیشن کھایا، ایک اور الزام لگایا کہ ریٹائر کاروباری شخصیت نے 27ارب دیئے، میں نے قانونی نوٹس دیئے جس کا انہوں نے جواب نہیں دیا، عدالتوں میں ان کو بلایا لیکن عمران خان نے جواب نہیں دیا، اب حربہ استعمال کیا کہ یہ کیس اسلام آباد منتقل کیا جائے، جو وزیراعظم دن رات غلط بیانی کرے اس پر دنیا کیسے اعتبار کرے گی، بات انڈے مرغی اور کٹے پر رہ جائے گی، عمران خان کو یہ میرا پیغام دیں ، غلط بیانی اور الزام تراشی چھوڑیں پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھیں ہم دو قدم آگے بڑھیں گے، بجٹ عوام کیلئے مایوسی کا پیغام لے کر آیا ہے، عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے اور غریبوں سے روزگار چھیننے کیلئے آیا ہے، یہ لوگوں سے ان کا حق چھیننے کیلئے آیا ہے، ہم عوام دشمن اور ملک دشمن بجٹ کو فی الفور رد کرتے ہیں، یہ ظلم کی تلوار ہے جو عام آدمی کی گردن کاٹنے کیلئے لایا گیا ہے، عوام کیلئے روزگار کے مواقع بجٹ میں پیدا کرنا ضروری تھا، مہنگائی کو کم کرنے، جی ڈی پی کو بڑھانے، برآمدات کو بڑھانے اور سماجی اور معاشی انصاف بجٹ فراہم کرتے جو بجٹ میں نہیں کیا گیا، بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ہے، پے رول پر افراد کو لایا گیا ہے، آئی ایم ایف نے مصرکی معیشت اور وینزویلا کی معیشت کا بھٹہ بٹھایا ہے، یہ بجٹ عوام کی امیدوں پر پانی پھیرنے آیا ہے، عمران خان نے کہا تھا کہ ریونیو کا ٹارگٹ 8ہزار تک پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن 4ہزار کا ٹارگٹ نہیں پورا کر سکے، 5500 کا ٹارگٹ کیسے پورا کرے گا، ہم نے جو 4000 ارب کا ہدف پورا کیا تھا ،اس میں سے بھی 500 ارب کا حکومت کا شارٹ فال ہے، یہ کہتے تھے کہ ان ڈائریکٹ ٹیکس زیادتی ہے، یہ یوٹرن کے ماسٹر ہیں، 70فیصد ان کے ٹارگٹ میں ان ڈائریکٹ ٹیکس ہیں، بدترین اقدامات سے یہ ملک کو معاشی جہنم کی جانب دھکیل رہے ہیں، بڑے پیمانے پر صنعتوں کی شرح پیداوار 6.5 فیصد تھی جو کم ہو کر منفی 2ہو گئی ہے، رواں سال حکومت نے 2منی بجٹ پیش کئے، ہر تیسرے ماہ پھر آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے، یہ قومی مفاد پر سمجھوتے کریں گے، ملک کی معاشی صورتحال خراب کریں گے، سندھ حکومت احتجاج کر رہی ہے کہ فنڈز نہیں مل رہے، حکومت نے ایک اینٹ نئے منصوبے کیلئے نہیں رکھی، گولڈ میڈل دینا چاہتا ہوں ہمارے دور کے منصوبے پر تختیاں اتار کر آپس میں لڑائیاں کر رہے ہیں، ایک کہہ رہا ہے کہ میں لگائوں گا دوسرا کہہ رہا ہے کہ میں لگائوں گا، ان کی یہ کامیابیاں ہیں کہ تختیاں اتار کر اپنی تختیاں لگارہے ہیں، پی ٹی آئی سماجی سیکٹر کے چیمپیئن بننے کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں، عمران خان کہتے تھے کہ میگا پراجیکٹ کمیشن کیلئے بنائے جاتے ہیں،ہم غلط فہمی میں آ گئے کہ حکومت کچھ کر دیکھائے گی، حکومت نے دو مسلم لیگ (ن) کے بنائے ہوئے 2ایل این جی کے منصوبے بیچنے کا منصوبہ بنایا ہے، اگر کسی منصوبے میں کرپشن ہو تو اس کی تحقیق ہو گی یہ بیچے گئے، یہ ہماری دیانت کی گواہی ہے،2013سے 2018 تک پی ٹی آئی نے کوئی ہسپتال اور یونیورسٹی نہیں بنائی، سپیکر نے کہا کہ 7یونیورسٹیاں بنی ہیں، شہباز شریف نے کہا کہ ابھی ثبوت پیش کرتا ہوں، ہماری آخری سال میں تعلیم کیلئے 97ارب مختص تھے انہوں نے 20ارب کم کئے، صحت کے شعبہ میں وفاق کا بجٹ 13ارب تھا، اس پر کٹ لگا کر 11ارب کر دیا، یہ یوٹرن کے ماسٹر ہیں یہ ان کا اوڑنا بچھونا ہے، یہ کہتے تھے کہ میٹرو بس جنگلہ بس ہے، 70 ارب لگائے ہیں، کرپشن کی ہے، پشاور میں میٹرو بس نہیں بنائوں گا، پھر اچانک بی آر ٹی پشاور کا اعلان کیا، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے قرضہ لیا، وفاق کی گرانٹ لینے سے انکار کیا، بتایا جائے اس قرضہ کا کیا جواز تھا جب وفاقی حکومت گرانٹ دے رہی تھی، بی آر ٹی کھنڈرات کا نمونہ پیش کر رہی ہے، اس کی لاگت 100 ارب تک پہنچ گئی ہے، لاہور، ملتان، راولپنڈی میٹرو پر 70کلومیٹر ہیں، یہ سب مل کر 100ارب میں بنی ہیں،پشاور میٹرو 27کلو میٹر ہے اور 100ارب میں بنی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہم نے اس طرح کی حرکت پنجاب میں کی ہوتی تو نیب ہم پر ایک اور ریفرنس بنا چکی ہوتی، چند ماہ میں نیب کے 2لوبیز کے پی کے میں بدلے جا چکے ، ہم پر بار بار الزام لگایا گیا کہ ہم نے بہت قرضے لئے، میں آج ان قرضوں پر بھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنا چاہتا ہوں، حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 10 ہزار 600 ارب کے قرضے لئے، 31 مئی 2018 تک گزشتہ ادوار کے قرضوں کو ملا کر 24,952 ارب قرضوں کا حجم تھا، جو قرضے ہم نے لئے اس سے تاریخی منصوبے ملک میں لگے، قرضوں سے ملک بھر میں منصوبے لگائے گئے، توانائی، انفراسٹرکچر و دیلگر منصوبے مکمل کئے، جب تک پشاور میٹرو مکمل نہیں ہوتی یہ اورنج لائن نہیں چلائیں گے، منصوبوں میں تاخیر پر کوئی نوٹس نہیں لیا، نیب اور پ ٹی آئی میں چولی دامن کا ساتھ ہے،قرضوں کے حوالے سے تحقیق کی شروعات پشاور بی آر ٹی سے ہونا چاہیے، عمران خان نے کہا تھا کہ خود کشی کرلوں گالیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائوں گا، انہوں نے عوام کو خود کشی کے قریب پہنچا دیا ہے، عمران خان درست کہتے تھے کہ قرضہ لینا بھکاری پن ہے، 10 ماہ حکومت نے 5ہزار ارب کے قرضے لئے، ہم نے ان کے اعداد و شمار کے مطابق 10 ہزار ارب کے قرضے لئے، ہماری نسبت انہوں نے 50فیصد قرضہ 10ماہ میں لے لیا ہے، ایک منصوبہ نیا شروع نہیں کیا ہے، 30 لاکھ گھروں کا وعدہ عمران خان نے کیا تھا، یہ ہمارے منشور سے یہ آئیٹم چوری کیا تھا، گیارہ ماہ ہو گئے ہیں ایک اینٹ نہیں رکھی اور بجٹ میں گھروں کیلئے ایک دھیلہ نہیں رکھا، 19 ارب یومیہ یہ قرض لے رہے ہیں، کمیشن بنایا ہے جس کی نگرانی ڈپٹی چیئرمین نیب کریں گے، یہ ایک قانونی معاملہ بن گیا ہے، ہم جوا بدینے کیلئے جائیں گے، حکومت نے الزام لگایا کہ ڈیم نہیں بنایا، دیامر بھاشا ڈیم کیلئے 128ارب سے زائد رقوم خرچ کر ے زمین خریدی، داسو ڈیم کیلئے ہمارے ڈر سے ورلڈ بینک سے فنڈنگ منظور ہوئی تھی، انہوں نے کاروبار کو تالے لگائے، کوئی استحقاق نہیں کہ ہم سے پوچھیں کہ کیا بنایا ہے، عمران خان نے کہا تھا کہ روپے کی قدر ڈالر کے مقابلہ می ایک روپیہ کم ہو تو 100ارب قرضہ بڑھ جاتا ہے، ہزاروں ارب قرضہ بڑھ گیا،یہ ہمارا ووٹ ینک چوری نہ کرتے اور جعلی ووٹ سے حکومت نہ بنتی تو غریب آدمی کیلئے ہر سال دس لاکھ گھر بناتے اور وعدہ پورا کرتے، حکومت نے ایک گھر نہیں بنایا اور لاکھوں گھر مسمار کئے اور بنی گالہ ریگولائز کر دیا، یہ ہے نیا پاکستان اور صاف چلی اور شفاف چلی پارٹی کا حال، نواز شریف ، آصف زرداری، سعد رفیق گرفتار ہیں، ساری اپوزیشن گرفتار کریں، بجٹ کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے، عمران خان نے کہا تھا کہ اربوں ڈالر آئیں گے، وہ کہاں ہیں، اپیل کے باوجود نااہل حکومت کو ڈال نہیں ملے، ڈیم کے حوالے سے دیارغیر سے پاکستانیوں سے کتنے پیسے لئے گئے یہ بتایا جائے، عمران خان نے کہا تھا کہ لوگ ٹیکس نہ دیں تو اس وقت کا وزیراعظم چور ہوتا ہے، یہ بات انہوں نے کنٹینر پر چڑھ کر کہی تھی، زندگی کی زیادہ باتیں عمران خان نے کنٹینر پر چڑھ کر کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چھوٹے کسانوں کو اربوں روپے قرضے دیئے، انہوں نے کسانوں کو سبسڈیز بند کر دیں، مگر سٹاک ایکسچینج کو اوپر چڑھانے کیلئے 20 ارب روپے جھونک دیئے، دعا ہے کہ اللہ معاشی آئینی ہدایت دے اور آئی ایم ایف کے مشوروں سے نکلیں، وزیراعظم نئے بجٹ میں 43کروڑ روپے اپنے طیارے کی مرمت کیلئے رکھے ہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں مگر عوام کی سائیکل کو جو پنچر لگ گئے ہیں اس کا بھی خیال رکھیں، حکومت عوام دشمنی اقدامات سے خونی انقلاب آ سکتا ہے،تب یہ بھاگنے کی کوشش کریں گے مگر ہم ان کو بھاگنے نہیں دیں گے ان سے ایک ایک پائی کا حساب لیں گے،2018کو ڈالر کی قیمت 115.78 تھی ،آج ڈالر کی قیمت 157روپے ہے، اسی طرح پٹرول 20فیصد، گیس 143فیصد مہنگی کی، اگست کے مہینے میں بل ادا کرنے کیلئے غریب لوگوں کی تنخواہ ختم ہو جائے گی، جنوبی پنجاب کے فنڈز میں کٹوتی کی، ہم جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کیلئے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ ترقی کی ایک فیصد شرح کم ہونے سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جاتے ہیں، ترقی کی رفتار کم ہونے سے 10 سے 12لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ، عوام اور روزگار کا قتل عام 70سالہ ملکی تاریخ میں نہیں ہوا جتنا ان دس ماہ میں ہو چکا ہے، حکومت نے پالیسی دینا 12.2فیصد رہا ہے، جس سے شرح سود 15فیصد پر چلی جائے گی، ایسے اقدامات سے ہماری معیشت آئی سی یو میں چلی جائے گی، عمران خان کو مشورہ دوں گا کہ وہ تمام الفاظ واپس لے لیں، میں اپوزیشن کی جانب سے انہیں ایک دفعہ استعفیٰ دے دیں گے،وہ ایک بار قوم کے سامنے اعتراف تو کریں، وہ قوم سے معافی مانگیں اور اعتراف کریں کہ ہم سے بلنڈرز ہوئے،اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی طرف سے میرا مطالبہ ہے کہ عوام مار بجٹ کو واپس لیا جائے، حکومت کم از کم ماہانہ تنخواہ 20 ہزار کرنے کا اعلان کرے، گریڈ 16تک کے ملازمین کی تنخواہ 50فیصد بڑھائی جائے،ایک لاکھ تک تنخواہ لینے والوں کوٹیکس کی چھوٹ دی جائے، بجلی، گیس پر پٹرول کی قیمتیں 31مئی 2018تک واپس لائی جائیں، خوردنی تیل پر ٹیکس کا اضافہ واپس لیا جائے، تعلیم اور صحت کیلئے بجٹ میں اضافہ کیا جائے، غریبوں کو مفت ادویات ، طالب علموں کیلئے تعلیمی وظائف کو بحال کیا جائے، پنجاب انڈومنٹ فنڈ کو پورے ملک میں پھیلایا جائے، ہم نے جو چین کے ساتھ ٹیکنیکل یونیورسٹی کا جائرہ کار پورے ملک تک بڑھایا جائے، ایکسپورٹرز کے لئے زیروایٹڈ میکانیزم بحال کیا جائے، پاکستان امن پسند ملک ہے، لڑائی نہیں چاہتے، پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، مودی سے امن کی بھیک نہیں مانگ سکتے، جب نواز شریف امن کی بات کرتے تھے تو ان کو غدار کہا جاتا ہے، اپنے وقار پر سودا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اپنے ضمیر اور وقار کو دائو پر لگا کر امن نہیں مانگیں گے، مضبوط کشمری اور فلسطین میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے، پاکستان کے جھنڈے میں کشمیر میں شہیدوں کو دفن کیا جاتا ہے، بے مثال قربانی کے بعد او آئی سی کی قرار داد میں کشمیر کا ذکر نہ ہو نا بدقسمتی تھی، آئی ایم ایف نے جو شرائط لگائی ہیں اس سے ایوان کو آگاہ کیا جائے، یہاں فاشزم نہیں چلے گا، یہ جمہوری ادارہ ہے، ایوان کے وقار کو بڑھانا ہے، میڈیا کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے، صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، حکومت احتساب کو سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے استعمال کر رہی ہے، چیئرمین نیب کی ویڈیو کے حوالے سے ایوان کا کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا ابھی تک عمل نہیں ہوا،اس سے نیب کی شہرت داغدار ہو رہی ہے، حکومت نے بجٹ میں ترمیم نہ کی تو اس کو نہیں چلنے دیں گے۔(اح+وخ)

تازہ ترین خبریں