05:41 pm
بلوچستان کا بجٹ پیش

بلوچستان کا بجٹ پیش

05:41 pm

کوئٹہ (آئی این پی) بلوچستان کااگلے مالی سال 2019-20ء کا 419ارب روپے سے زائد مالیت کا بجٹ پیش کردیاگیا ،بجٹ میں گریڈ ایک تا 16کے سرکاری ملازمین کیلئے 10فیصدگریڈ17تا 20گریڈ کے آفیسران کیلئے5فیصد ایڈہاک ریلیف بلکہ کم سے کم تنخواہ کی حد17500مقرر کی گئی ہے ،مالی سال 2019-20کے بجٹ میں مجموعی طورپر48.208بلین روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے ،
ترقیاتی اخراجات کے لئے ایک کھرب سے زائدرقم رکھی گئی ہے ،بجٹ میں وفاقی ٹرانسفرز اور صوبے کی محصولات 339.167بلین روپے ہیں جبکہ کیپٹل محصولات 10.080بلین روپے ،فارن پروجیکٹس اسسٹنٹس 8.060ارب ،وفاقی ترقیاتی گرانٹس (Outside PSDP) 14.908بلین روپے اور ٹوٹل آمدن 372.213ارب روپے ظاہر کئے گئے ہیں ،بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لئے سب سے زیادہ رقم تجویز کی گئی ہے جبکہ اس کے علاوہ صحت ، امن وامان ، توانائی ، آب پاشی کے لئے بھی خاطرخواہ رقومات رکھی گئی ہیں جبکہ محکمہ تعلیم ،صحت ،لیویز ،پولیس اورمحکمہ حیوانات میں مجموعی طورپر3376نئی آسامیاں تخلیق کرنے کااعلان کیاگیاہے ۔گزشتہ روز اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کابجٹ اجلاس تاخیر سے شروع ہوا اجلاس کے دوران صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی اپوزیشن جماعتوں کے شوروشرابے میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے طول و عرض میں تمام وسائل کو استعمال لاتے ہوئے عوام کی فلاح وبہبود ،خوشحالی،یکساں معاشی ترقی،معاشرتی انصاف،قانون کی بالادستی،امن وامان کی مکمل بحالی،اتحاد ویگانگت کے فروغ کیلئے ہر سطح پر اقدامات کو عملی جامعہ پہنا رہی جس کا وعدہ بلوچستان عوامی پارٹی کے منشور میں عوام سے کیاگیاتھا اور اس عزم کا اعادہ کے ساتھ کہ آئندہ اس میں مزید وسعت لائی جائے گی آج سے دس ماہ پہلے جب حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو ہمیں ورثے میں انتہائی کمزور معیشت اور مالی خسارے کا سامان کرنا پڑا بلا شبہ گزرا ہوا سال مالی اعتبار سے حکومت کیلئے مالی مشکلات وآزمائشوں کا رہا حکومت کو 62ارب روپے بجٹ خسارے کا سامنا شرو ع سے رہاہے جس میں مالی سال 2017-18کے غیر متوقع اخراجات اور 12ارب کے واجبات اور فاضل وصولیوں کے پانچ بلین روپے اور ڈرافٹ کے ذریعے مالی سال کے شروعات میں سرانجام دی گئی تھی جس سے موجودہ حکومت کو مالی دبائو کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر ہماری مخلوط حکومت نے اس مالی دبائو کو احسن طریقے سے قابو کرنے میں اعتدال کا مظاہرہ کیا 2018-19کا میزانیہ پچھلی حکومت نے اپنی وضع کردہ ترجیحات کے تحت مرتکب تھا مگر ہم اس سال کا میزانیہ کو صوبے کی مجموعی ترقی وترجیحات کو بنیاد بنا کر پیش کررہے ہیںقائد ایوان وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی سربراہی میں متعلقہ محکموں کی ٹیموں نے گزشتہ مالی سال 2018-19کے صوبائی ترقیاتی پروگرام(پی ایس ڈی پی)کا بغور جائزہ لیتے ہوئے عدالت عالیہ بلوچستان کے فیصلوں کی روشنی میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈذ کے اجراء کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جس سے واضح ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے بجٹ پیش کرنا موجودہ صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اس حوالے سے موجودہ حکومت کے اتحادی اور اسمبلی میں بیٹھے اراکین اسمبلی اس بجٹ پر اپنی رائے بحث ومباحثے کے ذریعے قائم کرتے ہوئے اسے منظور کروائیں موجودہ بجٹ بلوچستان عوامی پارٹی کے منشور واتحادی جماعتوں کے عوامی توقعات کی عکاس ہے جس سے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تقویت ملے گی آئندہ مالی سال 2019-20کا بجٹ پیش کرنے سے پہلے یہ مناسب ہوگا کہ موجودہ مالی سالی 2018-19کا نظر ثانی شدہ بجٹ معزز یوان کے سامنے پیش کیا جائے جس کے بعد میں معزز ایوان کو موجودہ صوبائی حکومت کے نئے سال 2019-20کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کروں گا جاری مالی سال کے کل بجٹ کا ابتدائی تخمینہ286بلین روپے تھا نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال 2018-19کاتخمینہ 326.4بلین روپے ہوگیا ہے 2018-19کے اخراجات کا جاریہ کا تخمینہ 234.037بلین روپے تھا جو نظر ثانی شدہ تخمینے میں کم ہوکر 258.874بلین روپے رہ گیا ہے مالی سال 2018-19میں پی ایس ڈی پی کا حجم 88.249بلین روپے تھا اس میں 1515جاری اسکیمیں جبکہ 3213نئی اسکمیں شامل تھیں مالی سال 2018-19میں پی ایس ڈی پی پر نظر ثانی کے بعد اس کا حجم 42.248بلین روپے ہوگیا ہے نظر ثانی کے بعد 1099جاری اسکیموں کیلئے 35.189بلین روپے اور 359نئی اسکیموں کیلئے 7.059بلین روپے مختص کئے گئے وفاقی حکومت کے پی ایس ڈی پی سے صوبائی محکموں کے توسط پر عملدرآمد ہونے والی اسکیموں اور صوبائی ترقیاتی پروگرام کے ذریعے چلنے والے منصوبوں کے فنڈز کی مد میں 6.949بلین روپے اس کے علاوہ ہیں آئین کے آرٹیکل 119کے تحت صوبوں کو پبلک فنانس مینجمنٹ کے قوانین مرتکب کرنے تھے مگر سابقہ حکومت نے اس مد میں کوئی قدم نہیں اٹھا یا موجودہ حکومت اس ضمن میں اپنی آئینی ذمہ داری کو ہر صورت یقینی بناتے ہوئے پبلک فنانس مینجمنٹ کے قوانین کو اگلے مالی سال تک مرتکب کرے گا سابقہ حکومتیں بجٹ تیاری میں صرف ترقیاتی پرگرام کے بجٹ کی ترتیب کوزیادہ فوقیت دیتی تھیں جس سے مالی سال انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن موجودہ حکومت نے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ کوترتیب دینے کیلئے تمام متعلقہ محکموں کاجائزہ لیا گیا ہے اور تمام محکموں کو ایک مقررہ حد مختص کرنے کیلئے فیکسڈ سیلنگ دی جس میں محکمے اپنے موجودہ محصولات کو آمدن کی تخصیص کوترجیح دیں گے علاوہ ازیں حکومت نے خالی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے مربوط حکمت عملی اپنائی ہے جبکہ سابقہ ادوار میں محکموں کو موثر اور کارکردگی کے بغیر غیر ضروری اسامیاں تخلیق کی گئیں انہوں نے کہاکہ صوبائی سطح پرقانون سازی میںمناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ اٹھارویں ترمیم کے اصل مقاصد سے بہرہ مند ہوجاسکے ہماری حکومت نے قلیل مدت میں موثر قانون سازی کی ہے جس کاتسلسل انشاء اللہ جاری رہے گا جیسا کہ پہلے تذکرہ کیا جاچکا ہے کہ ہم سے پہلے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام عجلت میں بنا یا گیا جوکہ عوامی خواہشات کی تکمیل میں خاطر خواہ نتائج نہیں دے پارہا تھا جس کی وجہ سے عدالت عالیہ بلوچستان میں اسے چیلنج کیا گیا بعد از کورٹ کے احکامات کے تناظر میں اہم نوعیت کی ترقیاتی اسکیموں کو فنڈز کا اجراء یقینی بنا یا گیا ہے انشاء اللہ موجودہ صوبائی ترقیای پروگرام نہ صرف عوامی خواہشات کی تکمیل کا آئینہ دار ہوگا بلکہ آئندہ ترقیاتی اسکیموں کا ایک مربوط لائحہ عمل بھی موجود ہوگا اور اس مقصد کے حصول کیلئے پہلی مرتبہ بلوچستان عوامی ڈویلپمنٹ پرگرام کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا جارہا ہے جس میں ترقیاتی منصوبے ضلعی سطح پر ترتیب دیئے جائیںگے اور ان پر عملدرآمد کیا جائے گا ترقیا تی منصوبوں میں سماجی ترقی کواولین فوقیت دی گئی ہے تعلیم،صحت،پینے کے صاف پانی کی فراہمی،امن وامان کی بحالی،پیداواری شعبہ جات جس میں زراعت ،لائیو اسٹاک،ماہی گیری،مائنز منرلز کی ترقی،آبی وسائل کے بہتر استعمال ڈیمز کی تعمیر ،ذرائع آمد ورفت کیلئے سڑکوں کے جال بچھانے،انرجی،ٹرانسپورٹ،کی سہولیات،تکنیکی اور فنی تعلیم،کلچر و سیاحت کا فروغ،اقلیتوں کے حقو ق وسماجی تحفظ کی تکمیل میں بلوچستان عوامی انڈوونمنٹ فنڈ جیسے اقدامات میں وسعت ودیگر اہم نوعیت کے حامل منصوبے شامل ہیں صوبے میں محدود وسائل کے باوجود لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کیلئے ہمارے حکومت نے صرف محکمہ تعلیم میں 15,998خالی اسامیوں کو میرٹ پر پر کرنے کیلئے اقدمات اٹھائے ہیں اگلے مالی سال کیلئے 5445نئی اسامیاں پیدا کی جارہی ہیں جبکہ صوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کوبھی فروغ دیا جائے گا صوبے میں پہلی دفتہ ہنر مند پروگرام کا جراء کیاجارہا ہے جس کیلئے 250ملین روپے مختص کئے گئے ہیں واضح رہے کہ اس پروگرام سے صوبے میں 6000نوجوانون کو جدید تکنیکی ہنر اور مہارتوں سے ہنر مند کیا جاسکے گا صوبے میں نوجوانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کیلئے مائیکرو فنانسنک کاایک جامعہ منصوبہ شروع کیا جارہا ہے جس سے بے روزگار نوجوانوں کو بہترین روزگار کے مواقع میسر ہوسکیں گے اس کیلئے 600ملین روپے مختص کئے گئے ہیں صوبے میں پروفیشنلز کیلئے نئی اسامیاں پیدا کی جارہی ہیں۔مالی سال 2019-20 میں محکمہ ثانوی تعلیم کیلئے 1057نئی آسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں جب مالی سال میں 786سکولوں کو پینے کاصاف پانی کی فراہمی اور واش رومز کی تعمیر کیلئے 500ملین روپے خرچ کئے گئے جبکہ نئے مالی سال مزید700سے زائد سکولوں کو اس مقصد کیلئے 700ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اس کے علاوہ123نئے پرائمری سکولز قائم کرنے ،125سکولوں کو پرائمری سے مڈل کا درجہ دینے ،94مڈل سکولوں کو ہائی اورجہاں کالج کی تعلیم میسر نہیں وہاں 26ہائیرسیکنڈری سکولز قائم کئے جارہے ہیں ،صوبائی وزیر خزانہ کاکہناتھاکہ بلوچستان میں ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت کتابوں کی چھپائی اور مفت فراہمی کیلئے 520ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ 500ملین روپے کی لاگت سے واوچر سکیم کااجراء کیاجارہاہے اس کے علاوہ صوبے میں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت سرگودین سپرٹ ٹرسٹ سکولز کے تحت جدید سکولوں کے قیام کا منصوبہ بھی زیر غور ہے ،حکومت بلوچستان آئندہ 3سال تک اس مد میں 450ملین روپے کاامداد دے گااور مالی سال2019-20ء میں اس مقصد کیلئے 150ملین روپے مختص کئے جارہے ہیں جس سے صوبے کے ہونہار طالب علموں کو بہترتعلیم کے مواقع میسر آسکیںگے ،انہوں نے کہاکہ سکول کلسٹر بجٹ کو بھی بہترکیاگیاہے تمام سکولوں کوسائنسی آلات،فرنیچر،ٹاٹ ،اسپورٹس کاساز وسامان اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک ارب 89کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں اس کے علاوہ دوردراز علاقوں میں سکولوں تک رسائی کیلئے 51سکول بسیں مہیا کی جائیںگی ،انہوں نے کہاکہ مالی سال 2019-20کے دوران ہائی سکولوں کو ہائیرسیکنڈری سکولز تک اپ گریڈ کیاجائے گاجس کی لاگت کا تخمینہ 500ملین روپے ہیں اسی طرح موجودہ ہائی سکولوں میں سائنس لیبارٹریز کی سہولیات کی فراہمی کیلئے بھی 153ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ،ان کاکہناتھاکہ حکومت بلوچستان پروگرام کے تحت نئے پرائمری ،مڈل اور ہائی سکولوں کے قیام کیلئے بھی 500ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ،اس شعبے میں آنے والے مالی سال کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 48.011بلین روپے مختص ہیں ،انہوں نے کہاکہ موجودہ بجٹ میں کالجز اور ہائیرایجوکیشن پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے گرلز کالجز کو بسوں کی فراہمی کیلئے 300ملین روپے مختص کئے گئے ہیں بلکہ پہلی مرتبہ جامعات کے گرانٹ کو 550ملین روپے سے بڑھا کر 1.5بلین روپے کردیاگیاہے ،انہوں نے کہاکہ جامعات میں یونیورسٹی فنانس کمیشن کاقیام عمل میں لایاجارہاہے بلکہ پہلی مرتبہ صوبائی حکومت اپنے وسائل میں 4نئے جامعات کے سب کیمپس قائم کررہاہے جس میں بلوچستان انجینئریونیورسٹی خضدار کے 2سب کیمپسز لسبیلہ اور کیچ میں قائم کئے جائینگے بلکہ یونیورسٹی آف تربت کے سب کیمپسز ضلع پنجگور اور بیوٹمز سب کیمپس ژوب کو مکمل فعال بنایاجائے گاجس کاتخمینہ 794ملین روپے ہیں،صوبائی وزیرخزانہ کاکہناتھاکہ انٹرکالجز کو ڈگری کالجز کادرجہ دینے کیلئے بھی 450ملین روپے مختص کئے جاچکے ہیں بلکہ حکومت بلوچستان اپنے وسائل پہلی بار 150ملین روپے جامعات کے 4کیمپسز کے قیام کیلئے خرچ کریگی انہوں نے کہاکہ ضلع کیچ،نوشکی ،قلعہ سیف اللہ اور جعفرآباد میں نئے ایلمنٹری کالجز کی تعمیر کیلئے 500ملین روپے رکھے گئے ہیں اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20ء کیلئے غیرترقیاتی بجٹ کی مد میں 13.907بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جب کہ تعلیمی سیکٹر کی مجموعی ترقیاتی بجٹ کی مد میں 12.680بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔صوبائی وزیر خزانہ میرظہوربلیدی نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے دوران محکمہ صحت میں 1019نئی آسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں ،صوبے میں حادثات میں اضافے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کیلئے پہلی بار اہم شاہراہوں اور نیشنل ہائی ویز پر 21سرکاری ہسپتالوں کے مراکز مین ایمرجنسی وٹراما سینٹرز کا قیام عمل میں لایاجارہاہے جس کیلئے سرجنز اور تمام تکنیکی عملے کی نئی آسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں بلکہ ہر سینٹر کو جدید آلات سے لیس ایمرجنسی ایمبولینسز کی فراہمی کیلئے بھی 168بلین روپے رکھے گئے ہیں ،ان کاکہناتھاکہ کینسر کے مریضوں کیلئے الگ جبکہ امراض قلب کے مریضوں کیلئے اسٹنٹس کی خریداری کیلئے بھی خطیر رقم مختص کی جارہی ہے بلکہ صوبے کی ٹریژری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کیلئے 718ملین روپے کی خریداری کی حالیہ رقم کو بڑھا کر 950ملین روپے کردیاگیاہے ،انہوں نے کہاکہ چلڈرن ہسپتال کوئٹہ کیلئے گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 143ملین روپے رکھے گئے ہیں جن سے ہسپتال کو جدید خطوط پر استوار کرنے سمیت امراض کی تشخیص اور علاج ومعالجے کی سہولیات کو بہتر بنایاجائے گا،بلکہ ہسپتال کی بورڈآف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو بھی کی جائیگی،انہوں نے کہاکہ پہلی دفعہ تمام اضلاع میں ادویات اور ڈسپوزبل آئیٹمز کی فراہمی کیلئے 2.3بلین روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ دورافتادہ علاقوں کے ہسپتالوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کوممکن بنائی جاسکی بلکہ 48دیہی مراکز صحت کو بہتربنایاجارہاہے ان کی فعالیت کویقینی بنانے کیلئے علیحدہ بجٹ اور ڈی ڈی او کوڈکااجراء کیاجارہاہے جسے لوگوں وک ان کی دہلیز پر صحت کی سہولیات میسر آسکیںگی ،انہوں نے کہاکہ صوبے میں 7نئے نرسنگ کالجز کاقیام عمل میں لایاجارہاہے اور ان کی تعمیر کیلئے خاطر خواہ رقم رکھی جارہی ہے اسی طرح تین موجودہ نرسنگ سکولز کو اپ گریڈ کرکے نرسنگ کالجز بنایاجارہاہے انہوں نے کہاکہ کانگو اور اس جیسے دیگر موذی اور جان لیوا امراض میں مبتلا مریضوں کے علاج اور بیماری کی تشخیص کیلئے لیبارٹری قائم کی جارہی ہیں بلکہ 18اضلاع میں گردوں کے امراض میں مبتلاافراد کیلئے ڈائیلاسز سینٹرز قائم کئے جارہے ہیں اور ان میں نئی آسامیاں بھی تخلیق کی جائینگی ،ہر ضلع میں ڈائیلاسز فلٹر کی خریداری کیلئے 10لاکھ روپے رکھے گئے ہیں ان کاکہناتھاکہ 35دیہی مراکز صحت اور تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو علیحدہ سے بجٹ اور ڈی ڈی او کوڈکااجراء کیاجارہاہے تاکہ لوگوں کو ان کی دہلیز پر صحت کی سہولیات میسرآسکیں۔ صوبے کی پہلی میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے اور بولان میڈیکل یونیورسٹی و ہیلتھ سائنسز کے گرانٹ میں 1.647 بلین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ 3 نئے میڈیکل کالجز کے لئے بھی معقول رقم رکھی گئی ہے اور ان کی ضرورت کے مطابق آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں ۔ توسیع خفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کو مزید مربوط بنانے کے لئے حکومت بلوچستان نے پہلی مرتبہ اس پروگرام سے متعلق انتظامی ڈھانچہ بنایا جارہا ہے جس کے لئے علیحدہ فنڈز اور ڈی ڈی او کوڈ تخلیق کیا جارہاہے ۔ ضلعی سطح پر متعدی امراض کی جامع نگرانی کے لئے تمام اضلاع میں سرویلنس آفیسر کی آسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں ۔ نئے آنے والے مالی سال 2019-20میں 16 ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور 50 بستروں پر مشتمل ہسپتالوں میں مزید بہتری کے لئے 5 سو ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اسی طرح صوبہ کی ہر تحصیل میں نئی بی ایچ یو کی تعمیر کے لئے 5 سو ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ خضدار بولان میڈیکل کمپلیکس اور شیخ زید ہسپتالوں کے ٹراما سینٹرز کے طبی آلات کے لئے ایک سو 80 ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔ نئے مالی سال کے دوران کوئٹہ ٹراما سینٹر پرانے بلاک کی توسیع کے لئے 2 سو ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔ قلعہ عبداللہ میں 50 بسروں پر مشتمل ہسپتال تعمیر کیا جائے گا جس کی لاگت کا تخمینہ 5 سو ملین روپے ہے ۔ شیخ زید کینسر اینڈ جنرل ہسپتال کوئٹہ کے قیام کے لئے ایک بلین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 22.382بلین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 8.186بلین روپے کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ لیویز اور پولیس فورسز کو جدید خطور پر استوار کرنے کے لئے 11 سو 50 نئی آسامیاں تخلیق کی جاہری ہے جس کے لئے 2.5 بلین روپے کا تخمینہ ہے ۔ بلوچستان لیویز فورس اور پولیس میں بھی اصلاحات لائے جائیں گے ۔ کریمنل جسٹس سسٹم پروگرام کے تحت ان فورسز میں نظم و نسق ، ٹریننگ کے نصاب ، ڈیجیٹلائزیشن ، بائیو میٹرک کا نفاذ ، جیومیپنگ ڈیٹا بیس ، تفتیش مہارت ، فارنسک کی مہارت ، بم ڈسپوزل ٹریننگ اور دیگر رولز میں خاطر خواہ نتائج حاصل کئے جاسکیں گے ۔ گوادر اور کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ کے لئے ایک بلین روپے رکھے جارہے ہیں ۔ بلوچستان میں پہلی مرتبہ بلوچستان آرمز پالیسی 2019مرتب کی جارہی ہے ۔ کوئٹہ میں جدید فارنسک سائنس لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ہزاروں بے روزگار و اہل نوجوانوں کو بلوچستان لیویز فورسز میں میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کیا جارہا ہے۔ سی پیک روٹ اور منصوبوں کی حفاظت کے لئے اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے تحت ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو لیویز اور پولیس فورس میںبھرتی کیا جائے گا ۔ پولیس اور لیویز فورس کے اہلکاروں اور آفیسران کی آسامیوں کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے جس پر سالانہ 2 بلین روپے خرچ کئے جائیں گے ۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے صڑف غیر ترقیاتی بجٹ میں 44.692بلین روپے مختص کئے ہیں ۔ آنے والے مالی سال 2019-20میں کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ کچھی کینال کے لئے 2سو 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اسی طر ح بلوچستان گرین ٹریکٹر پروگرام کے لئے 2 سو 50 ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔ نیشنل آئل سیڈ بہتری پروگرام کے لئے 98 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ زیتوں کی فصل کی ترقی اور فروغ کے لئے سو ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ میرانی ڈیم کے متاثرین کے تمام واجبات جو کہ پچھلے 12 سال سے واجب الادا تھے مالی سال 2019-20میں ادا کئے جائیں گے ۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 9.606بلین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 3.509بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ بلوچستان کی معدنی دولت پر قبضے کی غیر قانونی لیز منسوخ کرنے پر تیزی سے کام جاری ہے ۔ مائننگ انڈسٹری کی ترقی پر خاص توجہ دی جائے گی اس کی ترقی و توسیع میں جدید آلات و مشینری کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ حکومت بلوچستان ریکوڈک کیس کو International Arbitration) Tribunal)میں بھر پور انداز میں اپنے دفاع میں لڑ رہی ہے ۔ 9.50 ملین روپے کی لاگت سے جیو ڈیٹا سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلوچستان منرل پالیسی 2019کا جامع ڈرافٹ کو حتمی شکل دی گئی ہے جو بہت نافذ العمل ہوگی ۔ اس شعبے میں آنے والے مال سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 2.267بلین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 223 ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔ توانائی کے شعبے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آنے والے مالی سال 2019-20کے دوران شمسی توانائی کے ذریعے روشن بلوچستان پروگرام کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا جارہا ہے جس کی لاگت کا تخمینہ ایک بلین روپے ہے ۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 14.704بلین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 86نئی اسکیمات کے تحت 7.142بلین مختص جس میں سے 2019-20میں 2.610بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ گندم کی قیمت کو اعتدال پر رکھنے اور عام لوگوں کو سستے داموں گندم کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت نے اس سال گندم پر 1.675بلین روپے کی سبسڈی کی منظوری دی ہے جو پچھلی حکومتوں کے ذمے واجب الادا تھا جبکہ مال سال 2019-20میں 1.310ملین روپے فوڈ سبسڈی کی مد میں رکھے گئے ہیں ۔ ہماری حکومت نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو مکمل فعال بنایا ہے جس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس کے اقدامات کو تمام صوبے میں وسعت دی جائے گی ۔ گندم کی خرید و فروخت کے لئے اسٹیٹ ٹریڈنگ کے لئے 6.305بلین روپے فراہم کئے گئے ہیں ۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 697ملین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 170 ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔ شعبہ کھیل اور امور نوجوانان کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کے دوران پہلے مرحلے میں 3ہزار ملین روپے کی لاگت سے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز سب اسپورٹس کمپلیکس قائم کئے جائیں گے ۔ اس طرح 4سو 94 ملین روپے کی لاگت سے کوئٹہ میں فٹسال گرائوند اور اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کئے جائیں گے ۔ 1372ملین روپے کی لاگت سے پانچ میونسپل کارپوریشن اور 56میونسپل کمیٹیوں میں فٹسال اسٹیڈیم قائم کئے جارہے ہیں ۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کیلئے حکومت 254.400ملین روپے رکھے گئے ہیں جس میں آل پاکستان یوتھ کنونشن ، بلوچستان ایوارڈ، یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام ، امن وامان کی ترویج میں نوجوانوں کی شراکت داری ، دوسرے صوبوں میں سکالرشپ کے مواقعوں کی فراہمی شامل ہیں ۔ اس شعبے میں آنے ولے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 995 ملین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 2.195 بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ آبپاشی کے شعبے میں صوبائی ڈیموں کی تعمیر کے لئے 5 سو ملین روپے رکھے گئے ہیں جس کے تحت نظام آبپاشی اور پانی کی قلت کو قابو کرنے کے لئے مدد مل سکے گی ۔ گوادر میں شنزانی کے مقام پر نئے ڈیم کی تعمیر کے لئے 5 سو ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔ دریا بولان کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے بولان ڈیم کی تعمیر کے لئے 1.5 بلین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اش شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 2.676بلین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 9.098 بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ آنے والے مالی سال 2019-20میں بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ کے قیام کے لئے 2 سو ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اس وقت صنعت و تجارت پرانے قوانین کے تحت کام کررہی ہے لیکن ہماری حکومت اس کے قوانین میں بہتری لائے گی ۔ پہلی بلوچستان کامرس پالیسی بھی لائے گی ۔ 3 سو ملین روپے کی لاگت سے لورالائی ، دالبندین اور خضدار میں ماربل سٹی کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہے ۔ خضدار ، تربت اور چمن میں منی انڈسٹریل اسٹیٹ انفراسٹریکچر سہولیات کی فراہمی کے لئے 675ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اسی طرح نئے مالی سال کے دوران 354 ملین روپے کی لاگت سے انڈسٹریل اسٹیٹ ڈیرہ مراد جمالی کو انفراسٹریکچر کی سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ 2 سو ملین روپے کی لاگت سے لسبیلہ ، گڈانی اور گوادر میں ووڈبوٹ بلڈنگ انڈسٹری تعمیر کی جائے گی ۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 2.277بلین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 1.171بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ مواصلات و تعمیرات کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ 2 سو ملین روپے کی لاگت سے صحبت پور تا کشمور روڈ کی تعمیر ، نوتال تا گنداواہ روڈ کی توسیع و مرمت کے لئے 2191ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔ آنے والے مالی سال کے دوران ایک بلین روپے کی لاگت سے تربت تا پسنی بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر کی جائے گی ۔ نئے مالی سال 2019-20میں میختر چمن روڈ کی تعمیر کے لئے 9سو ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔ کوئٹہ میں PAF ائیربیس کے مقام پر فلائی اوور تعمیر کی جائے گی جس کی لاگت کا تخمینہ 203ملین روپے ہے ۔ ڈیرہ بگٹی سنگسیلہ روڈ کی تعمیر کے لئے ایک بلین روپے کا تخمینہ ہے ۔ ایک بلین روپے کی لاگت سے سبی کاہاں روڈ تعمیر کیا جائے گا ۔ نئے مالی سال 2019-20کے دوران 250 ملین روپے کی لاگت سے لورالائی میں ڈسٹرکٹ جیل قائم کیا جائے گا ۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 9.905 بلین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں29.540 بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری حکومت سو کے قریب سیکنڈری و ہائی سکولوں کو 45 ملین روپے کی لاگت سے ورچوئل ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے جارہی ہے ۔ صوبائی دارالحکومت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک اور کوئٹہ ڈیٹا سینٹر کے لئے 5 سو ملین روپے اور 2سو ملین روپے رکھے گئے ہیں تاکہ ای گورننس کا نظام رائج کیا جاسکے ۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 325 ملین روپے مختص کئے ہیںجبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 1.867بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ ظہور بلیدی نے کہا کہ آنے والے مالی سال 2019-20بلوچستان فلم ڈویلپمنٹ فنڈ کے لئے 30 ملین روپے رکھے جارہے ہیں مالی سال میں 2019-20میںمیڈیا اکیڈمی کے قیام کے لئے 30 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ حکومت بلوچستان نے جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ اور ہاکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت سرمایہ کاری سے حاصل منافع کو صحافیوںاور ہاکرز کے فلاح وبہبود پر خرچ کرنے کے لئے متعلقہ اسٹیک ہولڈرزسے باہمی مشاورت سے پالیسی مرتب کی جائے گی ۔ محکمہ تعلقات عامہ کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے اقدامات زیر غور ہیں ۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 5سو 95 ملین روپے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت فلاح و بہبود اور خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ترقی کے لئے کوشاں ہے آئندہ مالی سال 2019-20کے دوران بلوچستان اسپیشل چلڈرن پروگرام شروع کیا جائے گا جس کی لاگت کا تخمینہ 5 سو ملین روپے ہے ۔ منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور علاج و معالجے کے لئے پنجگور ، لسبیلہ ، لورالائی میںبحالی کمپلیکس قائم کئے جائیںگے جس کی لاگت کا تخمینہ ایک بلین روپے ہے ۔ زیارت اور گوادر میں 2 ملین اور 2 فی میل یوتھ ہاسٹلز تعمیر کرنے کے لئے 2 سو 40 ملین روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ آئندہ بجٹ 2019-20میںڈویژنل و ہیڈ کوارٹرز میںورکنگ وومن ہاسٹل تعمیر کئے جائیں گے جس پر لاگت کا تخمینہ 6سو ملین روپے رکھا گیا ہے۔ اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ میں1.689بلین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 1.872 بلین روپے رکھے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ہماری حکومت فلاح و بہبود اور خواتین کے حقوق کے تحفظ اورترقی کے لئے کوشاں ہے آئندہ مالی سال 2019-20ء کے دوران بلوچستان اسپیشل چلڈرن پروگرام شروع کیا جائے گا جس کی لاگت کا تخمیہ 500 ملین روپے ہے ،منشیات کے عادی افراد کی بحالی اور علاج و معالجے کیض لئے پنجگور اور لورالائی میں بحالی کمپلیکس قائم کئے جائیں گے جس کی لاگت کا تخمینہ ایک بلین روپے ہے ، زیارت اور گوادر میں 2میل اور2فی میل یوتھ ہاسٹل تعمیر کرنے کیلئے 240ملین روپے کی لاگت کاتخمینہ لگایا گیا ہے ،آئندہ بجٹ 2019-20ء میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ورکنگ وومن ہاسٹل تعمیر کئے جائیں گے جس پر لاگت کا تخمینہ 600ملین روپے رکھا گیا ہے اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20ء کیلئے غیرترقیاتی بجٹ میں 1.689بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 1.872بلین روپے رکھے گئے ہیں۔آنے والے مالی سال 2019-20ء میں بلوچستان کی ساحلی پٹی کی ماسٹر پلاننگ کے لئے 1500ملین روپے مختص کئے گئے ہیں کنڈملیر ،گڈانی ،اورماڑہ اور کلمت میں Toursit Resortکی سہولیات اور Eco-Tourismکی ترقی کیلئے 500ملین روپے رکھے گئے ہیں۔انہوںنے ماہی گیرکمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے فشرمین کواپریٹوسوسائٹی کے قیام کیلئے آقدامات کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ آنے والے مالی سال میں لائف گارڈز کی بھرتیوں کا عمل شروع کیاجارہا ہے جس سے مقامی لوگوں کو ملازمتوں کے مواقع میسرآئیں گے SECایمبولینسز کی خریداری اور گشتی کشتیوںمیں مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کے لئے 426ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20ء کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 1.467بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 739ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ثقافت و سیاحت و آثار قدیمہ کے شعبے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ثقافت کسی بھی معاشرے کی مشترکہ اقدار ،ماضی اور مستقبل کی ضامن ہوتی ہے ہم اپنے مشترکہ اقدار اور ورثے کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات پر یقین رکھتے ہیں اس مقصد کے لئے موجودہ حکومت نے نصیرآباد ،کوئٹہ اور سبی میں کلچر سینٹر کے قیام کا جامع منصوبہ بنایاہے مہرگڑھ ، چاکر فورٹ ،شاہی تمپ ،میری قلات (کیچ) وغیرہ کے آثار قدیمہ کے تحفظ کیلئے 200ملین روپے رکھے گئے ہیں۔نئے مالی سال کے دوران شعبان ویلی میں سیاحتی مقام کی ترقی کیلئے 100ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ہماری حکومت نے مالی سال 2019-20 کے دوران صوبے کے مستحق فنکاروں کی مالی امداد کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ثقافتی پروگرامز منقد کروائے ہماری حکومت نے ثقافتی اورسیاحتی شعبے کی ترقی کیلئے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی ہے اس سلسلے میں کلچر اینڈ ٹورزم پالیسی کے تحت ثقافتی پروگرامز کے انعقاد کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں سیاحت کے فروغ اور سیاحتی و آثارقدیمہ کی ترقی اور ترویج سمیت آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کا قیام شامل ہے آثارقدیمہ کے پوائنٹس کو محفوظ بنانے کیلئے سروے اور جیومیپنگ جیسے اہم اقدامات بھی ہماری حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20ء کے لئے غیرترقیاتی بجٹ میں 393ملین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 760ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔نئے مالی سال 2019-20ء کے دوران موجودہ 250واٹر سپلائی اسکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا جس کی لاگت کاتخمینہ 500ملین روپے ہے 500ملین روپے کی لاگت سے کوئٹہ واٹر سپلائی اینڈ انوائرمنٹل پروجیکٹ کو مکمل کیا جائے گا اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20ء کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 4.300بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 11,839بلین روپے رکھے گئے ہیں۔دیہی ترقی ،لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے انہوںنے کہا کہ موجودہ حکومت کے رواں مالی سال کے دوران محکمہ لوکل گورنمنٹ کے لئے اٹھائے گئے اہم اقدامات کچھ اس طرح سے ہیں نئے مالی سال 2019-20ء کے دوران تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز میں اتوار بازار کے لئے ماڈل مارکیٹ تعمیر کی جائیں گی جس کی لاگت کا تخمینہ 300ملین روپے رکھا گیا ہے اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20ء کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 12.822بلین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں2.162بلین روپے رکھے گئے ہیں۔آنے والے مالی سال 2019-20ء میں کوئٹہ ماسٹر پلان کیلئے 300ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اسی طرح 500ملین روپے کی لاگت سے نئی ماڈل ٹاونز نجی شراکت داری کے پائلٹ پروجیکٹ کا اغآز کیا جائے گا آنے والے مالی سال 2019-20ء کے دوران زیارت ٹاؤن کی ترقی کے لئے 500ملین روپے رکھے گئے ہیں اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20ء کیلئے غیرترقیاتی بجٹ میں 246ملین روپے مختص کئے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں3.663بلین روپے رکھے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری حکومت پہلی مرتبہ بلوچستان لائیو سٹاک پالیسی 2019ء کا اجراء کرنے جارہی ہے اس پالیسی کے عملدرآمد کے بعدبلوچستان اپنے لائیو سٹاک کے شعبے میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوسکیں گی علاوہ ازیں پہلی مرتبہ بلوچستان لائیو سٹاک ایکسپو 2019ء کا انعقاد کرنے جارہی ہے سات اضلاع میں کیٹل فارمنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے 52ملین روپے مختص کئے گئے ہیں 150نئی ویٹرنری ڈاکٹرزکی اسامیوں کی تخلیق کی گئی ہے 23نئے سول ویٹرنری ڈسپینسریز کے قیام کے منصوبے کی تجویز زیر غور ہے52ملین روپے7ڈیری فارمز اور پولٹری فارمز کی بہتری کیلئے مختص کئے گئے ہیں غیر فعال وول ریسرچ سینٹر مستونگ کو فعال کرنے کے لئے 10ملین روپے رکھے گئے ہیں آنے والے مالی سال 2019-20ء میں گوادر،تفتان ،ژوب اور قلعہ عبداللہ میں جانوروں کے لئے رنگ سینٹر کے قیام کیلئے250ملین روپے مختص کئے گئے ہیں مشرقی بائی پاس پر قائم مذبحہ خانہ کی بہتری کیلئے 100ملین روپے رکھے گئے ہیں اس شعبے میں آنے والے مالی سال 2019-20ء کیلئے غیر ترقیاتی بجٹ میں 4.027بلین روپے مختص کئے ہیںجبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں722ملین روپے رکھے گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ آنے والے مالی سال 2019-20ء میں بلوچستان عوامی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا جائے گا جس کی لاگت کا تخمینہ 5300ملین روپے ہے ایک بلین کی لاگت سے سماجی بہبود اور غربت مٹاؤاتھارٹی کا قیام عمل میجں لایا جائے گا ، کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت جوائنٹ روڈ، سبزل روڈتوسیعی پروگرام کے لئے 3بلین روپے جاری کئے جاچکے ہیں اور بروری روڈ ،پٹیل روڈ،سریاب روڈ، پرنس روڈ،سرکی روڈ ،نواں کلی بائی پاس ، اہم لنگ روڈ ،ایسٹرن بائی پاس جبکہ ہنہ اوڑک کے توسیع پروگرام پیکج کے تحت 8بلین روپے مختص کئے گئے ہیں وزیراعلیٰ ضلعی ڈویلپمنٹ پلان کے لئے 500ملین روپے مختص کئے گئے ہیںہونہار قابل طلباء و طالبات کو میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ کی مفت فراہمی کے لئے وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت مالی سال 2019-20ء میں 100ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ریونیو کے وسائل بڑھانے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں وزیر خزانہ نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے صوبے اوراس کے نظام محصولات کے نظام کو مستحکم بنانے پر بہت کم توجہ دی اس کے نتیجے میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں آمدن کے حصول میں بلوچستان بہت پیچھے رہ گیا۔قومی مالیاتی کمیشن(NFC)میں بلوچستان کی کیس کو مربوط بنانے کیلئے این ایف سی سیکرٹریت کا قیام عمل میں لایا گیاہے۔ظہور بلیدی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے لینڈ ریونیو انفارمیشن سسٹم آن لائن ٹیکسیشن سسٹم برائے ایکسائز و ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اور ای اسٹامپنگ برائے وصولی ،اسٹامپ ڈیوٹی کے جامعہ پروگرام پر عمل پیرا ہے۔علاوہ ازیں حکومت ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے دیگر ٹیکسوں کے علاوہ سروسز ٹیکس پروصولی کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور One linkسے ایک معاہدہ کریگی یہ اقدامات نہ صرف ٹیکس نادہندگان کے لئے مددگار ثابت ہونگے بلکہ کارکردگی شفافیت اور احتساب کے عمل کو بھی یقینی بنائے گا۔صوبائی محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن ایسے قوانین بنارہا ہے جس کے ذریعے ANNUAL RENTAL VALUE TABLE)کے توسط سے جائیدادوں کے زمرے میں محصولات کی وصولی تیز ہوجائے گی گاڑیوں کی کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس بھیج جلد شروع ہوجائیں گی موجودہ حکومت محکمہ ایکسائز میں انسداد منشیات شعبے کو مستحکم بنارہی ہے اسکے علاوہ حکومت بیک وقت وفاقی ،صوبائی اورمقامی حکومتوں کے دہرے اور تہرے ٹیکسوں سے نجات دلانے کیلئے بھی اقدامات اٹھارہی ہے حکومت70ملین روپے کی لاگت سے محکمہ ٹرانسپورٹ کو عصرحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ڈیجیٹلائز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تکمیل کی بعد محکمہ ٹرانسپورٹ سے آمدنی کا ہدف 12ملین سے بڑھ کر1.50بلین روپے تک ہوجائے گا محکمہ خزانہ میں صوبے کے اخراجات اور آمدن کی نگرانی کیلئے ریکنسیلیشن یونٹ کا قیام جوکہ اسٹیٹ بینک ،نیشنل بینک اور ضلعی اکاؤنٹس دفاتر کے اخراجات اور آمدن کا روزانہ کی بنیادوں پر مکمل معلومات حاصل کر رہی ہے محکمہ خزانہ کی جانب سے نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی کے باہمی اشتراک سے صوبے کے ملازمین کے شناختی کارڈ کی تصدیق اور انکے پیرول ڈیٹا کے ساتھ منسلک کرنے کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں تاکہ دہری نوکری اور گھوسٹ ملازمین سے بچاجاسکے۔محکمہ خزانہ کی جانب سے روایتی پینشن سسٹم کا خاتمہ ،صوبے کے محکموں سے پنشن پانے والے ملازمین کو نئے پینشن سسٹم کی مد میں بنک کے توسط سے ڈائریکٹ کریڈٹ سسٹم کے تحت پینشن کی ادائیگی جبکہ اسی سال کے مالی اختتام پر تمام پینشنرز کو اس سسٹم پر منتقل کردیا جائے گا محکمہ خزانہ کے زیر اثرٹیکس پالیسی ریفارم یونٹ کا قیام اس یونٹ کا قیام عمل میں لانا دراصل محکمہ خزانہ کو صوبائی ٹیکسز میں اصلاحات کے حوالے سے معاونت فراہم کرنا،حکومت بلوچستان کے موجودہ ٹیکسز کے قوانین کی جانچ ،صوبائی مجموعی ٹیکس گورننس سسٹم میں بہتری و اصلاحات بذریجعہ جدید ٹیکنالوجی یقینی بنانا ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی صرف سرکاری وسائل کے بل بوتے پر مطلوبہ انفراسٹرکچر کی تعمیر و مرمت کے اہداف کا حصول ممکن نہیں بنایا جاسکتا اس لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے پرائیویٹ سیکٹرکو حکومت کے ساتھ اشتراک کے لئے نظام وضع کیا گیا ہے صوبہ بلوچستان میں بھی PPPایکٹ پاس کیا جاچکا ہے اوراس حوالے سے دو اہم فنڈز جوکہ پروجیکٹ ڈویلپمنٹ فنڈ اور Viability Gap Fundقائم کردیئے گئے ہیں اور اب صوبے میں PPPنظام کے تحت منصوبے شروع کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔وزیرخزانہ نے فنانس بل2019ء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے مالیاتی سالوں میں مالیاتی خسارے کو کم از کم رکھنے کے لئے حکومت مجموعی مالیاتی خسارے کوممکنہ حد تک کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے اس سلسلے میں حکومت فنانس بل 2019ء پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت موجودہ شرح میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے بغیر ٹیکس اور ٹیکس کے علاوہ محصولات پر خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا خسارے کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے حکومت فنانس بل 2019ء پیش کرنے جارہی ہے ۔ انہوںنے اعلان کیا کہ مالیاتی وفاقیت کی بنیاد پر وفاقی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حکومت بلوچستان بی پی ایس 1تا 16کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصدایڈہاک ریلیف کا اعلان کرتی ہے بی پی ایس 17تا 20تک کے آفیسران کو تنخواہوں میں 5فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائیگا گریڈ21اور22کے صوبائی افسران کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا انہوں نے صوبائی معاشی صورتحال میں بہتری کی خاطر یہ قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے پنشنرز کی پنشن میں 10فید اضافہ کیا جارہاہے علاوہ ازیںکم از کم تنخواہ 17500روپے ماہانہ مقرر کی جائے گی صوبائی حکومت اپنے ملازمین خاص کر Persons with Disabilitiesکی فلاح و بہبود کے لئے خصوصی اقدامات کر رہی ہے اس سلسلے میں ان ملازمین کے لئے پہلی مرتبہ Special Allowanceکا اعلان کر رہی ہے جوکہ 2ہزار روپے ہوگا صوبہ بلوچستان نے دہائیوں کی خشک سالی کے بعدامسال غیر متوقع بارشوں کا مشاہدہ کیا تاہم ایسی غیر معمولی بارش ،پانی کی بحران کا حل نہیں حکومت نے فوری اقدامات اٹھائے پی ڈی ایم اے پر1.136بلین روپے خرچ ہوئے مستقبل میں ایسی آفات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے 3.400بلین روپے مختص کئے ہیں جس میں سے 2بلین روپے Disater Relief Fundکے تحت سرمایہ کاری کے لئے رکھے گئے ہیں جو اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے جبکہ 1.400بلین روپے پی ڈی ایم اے کے لئے رکھے گئے ہیں قومی شاہراہوں پر حادثات کے خطرات سے نمٹنے کے لئے حکومت 370ملین روپے کی لاگت سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی شاہراہوں پر آرام کرنے کیلئے 37مقامات کو ترقی دینے کا ارادہ رکھتی ہے حکومت نے بلوچستان عوامی انڈوومنٹ فنڈ قائہم کیا ہی جس کے تحت3.7بلین روپے مالی سال 2019-20ء کے دوران سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ اس مقصد کے لئے 2019-20 کے بجٹ میں ایک بلین روپے رکھے گئے ہیں ان کے منافع سے صوبے میں حاجت مندوں کی مناسب مدد کی جاسکتی ہے بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی تباہ کن لہر کا سامنا کررہا ہے دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے ورثاء اورزخمیوں پر لاکھوں روپے خرچ ہورہے ہیں سابقہ حکومتوں نے اس مد میں کوئی فنڈ قائم نہیں کیا موجودہ حکومت VICTIM OF TERRORISM FUNDقائم کررہی ہے اورا س مد میں 1بلین روپے رکھے جارہے ہیں غریبوں اور مستحق افراد کے علاوہ اقلیتی برادری کے معذورافراد کے لئے حکومت نے 2018-19ء کے دوران 200ملین روپے خر چ کئے حکومت بلوچستان نے جرنلسٹ ویلفیئر فنڈ اور ہاکرز ویلفیئر فنڈز کے قیام کے ساتھ اس امر کا فیصلہ کیا ہے کہ ان سے جو بھی سرمایہ کاری حاصل ہوگی جرنلسٹس اور ہاکرز باڈیز کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونگے حکومت نے پہلی دفعہ آرٹ اورکلچر کے فروغ کے لئے آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ بھی قائم کیا ہے آنے والے وقت میں ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی اس طرح کاویلفیئر فنڈ بنایا جائے گا ہماری حکومت نے پہلی دفعہ خصوصی ،معذورافراد کے روزگار کے حصول میں حصہ 2فیصد سے بڑھاکر5فیصد کردیا ہے۔صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلوچستان اسمبلی میں خواتین قانون سازوں کیلئے ڈے کیئرسینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اس طرح سینٹر بلوچستان سول سیکرٹریٹ میں قائم کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جب 10مہینے پہلے موجودہ مخلوط حکومت نے جام کمال خان کی قیادت میں حکومت سنبھالی تو ہمارا عزم اور عہد اپنی عوام کے ساتھ تھا ہے اور ہمیشہ رہے گا کہ ہم وہ تمام اقدامات کو عملی جامعہ پہنائیں گے جس سے بلوچستان میں تعمیر و ترقی کا ایک نیاباب کھل جائے سماجی شعبے کی ترقی عوام دوست حکمت عملی اور سوشل سیکورٹی پروٹیکشن کو کلیدی اہمیت دی گئی ہے جس کا ایک مظہربلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ کا قیام بلوچستان عوامی کارڈکا اجراء ،ہزاروں کی تعداد میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنا اورصوبائی حکومت کے وژن کے مطابق پی ایس ڈی پی 2019-20ء تشکیل دی ہے جوکہ صوبے میں تعمیر و ترقی کی نئی سمت متعین کرے گی اور ہم اپنے عوام سے عہد کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت آپ کی ترجیحات پر بجٹ2019-20ء کو عملی جامہ پہنائے گی انشاء اللہ ہم اس میں کامیابی حاصل کریں گے۔اپنی بجٹ تقریر کے آخر میں وزیر خزانہ نے بجٹ2019-20ء کے اہم اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال2019-20ء کے اخراجات کے بجٹ کا کل حجم 419.922بلین روپے ہے اس طرح 2019-20ء کے لئے بجٹ خسارہ 48.208بلین روپے ہوگا ۔آمدن وفاقی ٹرانسفر و صوبے کے اپنے محصولات 339.167،کیپٹل محصولات 10.080،فارن پراجیکٹ اسٹیٹنس 8.060،وفاقی ترقیاتی گرانٹس 14.906،ٹوٹل آمدن 372.213ہوگی جبکہ اخراجات کے ضمن میں اخراجات جاریہ257.435،کیپٹل اخراجات36.144،وفاقی ترقیاتی پراجیکٹس 18.210،وفاقی پراجیکٹس اسٹیٹنس 7.561کے ساتھ ٹوٹل اخراجات کا تخمینہ 419.922ارب روپے ہوگا۔بعدازاں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے بجٹ اجلاس 22جون شام 4بجے تک کیلئے ملتوی کردیابجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی ،جمعیت علماء اسلام اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے اراکین نے احتجاجاََ بجٹ اجلاس سے واک آئوٹ بھی کیا۔

تازہ ترین خبریں