03:34 pm
آصف زردرای کی نیب عدالت سے ایک ہی بار 90دن کا ریمانڈ دینے کی گزارش

آصف زردرای کی نیب عدالت سے ایک ہی بار 90دن کا ریمانڈ دینے کی گزارش

03:34 pm

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی حراست میں موجود سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو مزید 11 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا،سابق صدر کو 2 جولائی کو دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ جمعہ کو نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں گرفتار آصف علی زرداری کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے
پر دوبارہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے رو برو پیش کیا ۔آصف علی زرداری کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پولیس نے پیپلز پارٹی کے رہنماوں کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا جس کے بعد پی پی پی کے ارکان پارلیمنٹ عدالت کے باہر موجود رہے۔احتساب عدالت کے باہر موجود پی پی پی رہنماؤں میں سینیٹر سسی پلیجو، شاہدہ رحمانی، سینیٹر گیانچند، نیر بخاری اور آصف زرداری کے ترجمان عامر فدا پراچہ موجود تھے۔بعد ازاں آصف زرداری کے وکلا احتساب عدالت پہنچے۔دوران سماعت نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری سے کی جانے والی تفتیش کی رپورٹ عدالت میں پیش اور ساتھ ہی ان کے مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر نے سابق صدر کے میڈیکل چیک اپ کی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروا دی۔جج ارشد ملک نے وکیل صفائی سے استفسار کیا کہ پراسیکیوٹر بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں کون کون سی بات پتہ چل چکی ہے جس پر آصف زرداری کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان کو کوئی باتیں پتہ نہیں چلیں بلکہ یہ صرف کہانیاں گھڑ رہے ہیں کیونکہ یہ سارا کیس صرف مفروضوں پر مبنی ہے۔انہوںنے کہاکہ آصف زرداری کے خلاف کیس بے بنیاد ہے جبکہ یہ سیاسی انتقام ہے جو شروع سے ہوتا آ رہا ہے لیکن عدلیہ پر پورا یقین ہے۔اس پر نیب کے ڈپٹی پر اسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہم کچھ گھڑ نہیں رہے بلکہ تفتیش میں سامنے آنے والی باتیں بتا رہے ہیں، جس کے بعد انہوں نے تفتیش میں پیش رفت کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا اور رپورٹ پیش کی۔اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ کیا آصف زرداری کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ جس پر سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ نہیں، یہ صرف سننا چاہتے ہیں جو ان کے بارے میں لب کشائی کی جا رہی ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ سننا چاہتے ہیں کہ کون کون سی باتیں نیب کو پتہ چل چکی ہیں۔اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ سننا چاہتے ہیں کہ نیب کون کون کون سی باتیں گھڑ رہا ہے، اس موقع پر آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ملزم ناصر نے اپنے بیان میں کہا کہ آصف زرداری کو جانتا ہوں مگر کوئی مالی لین دین نہیں، کسی شخص کو جاننا کوئی جرم نہیں ہے۔ آصف زرداری رپورٹ کا متن سننے روسٹرم پر آئے اور عدالت سے کہا کہ ایک ہی دفعہ 90 روز کا ریمانڈ دے دیں۔آصف زرداری نے کہا کہ کوئی ایشو نہیں ہے، جج صاحب دیکھ رہے ہیں، جج صاحب بہت ایماندار ہیں، معیار پر فیصلہ کریں گے، اس موقع پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں مکمل طور پر ملک کی عدلیہ پر یقین ہے۔انہوںنے کہاکہ نیب سیاسی انتقام کے لیے پولیٹیکل انجینئرنگ کر رہا ہے اور یہ اقدام جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ نیب 14، 14 روز کا جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں؟دوران سماعت نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس ایف آئی آر میں زمینوں سے متعلق معاملات ہیں، فنڈز کی خرد برد ہے، اومنی گروپ نے مزید قرضے لینے کے لیے الفارون کے نام سے بے نامی کمپنی بنائی۔فاروق ایچ نائیک نے نیب کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آغا سپر مارکیٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ مارکیٹ 1970 سے بنی ہوئی ہے، الفارون سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دوران تفتیش آصف زرداری نے مفرور ملزم ناصر عبداللہ سے قریبی تعلق کو تسلیم کیا ہے جبکہ ملزم نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ ناصر عبداللہ ان کا فرنٹ مین ہے۔بعد ازاں احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے آصف زرداری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔کچھ دیر بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے آصف زرداری کا 11 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا اور انہیں 2 جولائی تک نیب کے حوالے کردیا،سابق صدر کو 2 جولائی کو دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔یاد رہے کہ 11 جون 2019 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آصف علی زرداری کے خلاف 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا اور انہیں 21 جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔10 جون کو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد آصف علی زرداری کو زرداری ہائوس اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔واضح رہے کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران آصف زرداری کی ان کے بچوں سے ملاقات بھی کرائی گئی، جسمانی ریمانڈ کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے سابق صدر کے پروڈکشن آڈر بھی جاری کئے اور پروڈکشن آڈر جاری ہونے کے بعد سابق صدر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔