05:07 pm
قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی بجٹ پر خوب تنقید

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی بجٹ پر خوب تنقید

05:07 pm

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے آئند مالی سال2019-20کے بجٹ اور حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیر اعظم نے کہا گریبان سے پکڑ کر گھسیٹو،جب وزرا ء اور وزیر اعظم ایسا کریں گے عام آدمی کا کیا حال ہو گا،ڈیم فنڈ پر اتنی تشہیر کے بعد 11ارب جمع کیے،اب نہ پرانے چیف جسٹس نظر آرہے ہیں نہ نئے وزیر اعظم، جب کوئی معاملہ نہیں سنبھالا جاتا تو ملک کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے،مودی کی فتح کے نعرے کے پیچھے اصلیت قوم کو بتائی جائے، ملکی اداروں کو سیاست میںگھسیٹنے کا سلسلہ بند کیا جائے،
جب تک سودی نظام سے جان نہیں چھڑاتے،ترقی نہیں کر سکتے جبکہ حکومتی ارکان نے واضح کیا ہے کہ اب سندھ اور بلوچستان کارڈ نہیں چلے گا، سب قانون کے ترازو میں برابر تولے جائیں گے،بلوچستان میں امن و امان کے لئے فوج کی شکر گزار ہوں،پر امن اور خوشحال بلوچستان مل کر بنائیں گے، گزشتہ حکومتوں میں سرکاری اداروں کا خسارہ ساڑھے گیارہ ارب ڈالر سالانہ تھا،ایسے میں ہم قرضے نہ لیں تو کیا کریں۔ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس دن بھر جاری رہا جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث جاری رہی۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہریار خان آفریدی نے کہاکہ پاکستان میں بالاتر طبقہ ناقابل گرفت ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان آج سائنس میں بہت پیچھے ہیں،آج جو اپنے لیڈرز سے ڈیفنڈ کررہے ہیں ان سے ہوچھیں کہ آپکے لیڈر کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی؟۔ انہوں نے کہاکہ تمام لیڈر عمران خان کی طرح ایک ایک روپے کا حساب دیں،اب قانون سب کو ایک لیول میں تولے گی۔ انہوں نے کہاکہ کون اداروں اور فوج کو برا بھلا کہتا ہے؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب سندھ کارڈ اور بلوچستان کارڈ نہیں چلے گا،عمران خان پاکستان کا کامیاب لیڈر ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکن تحریک انصاف عالمگیر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں نہ پینے کا پانی ہے اور نہ سیورج سسٹم کو کوئی حال ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس مرتبہ ہمیں ووٹ دے دیا تو یہ عوام کا حق نہ د یکر ان کو سزا سے دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ساڑھے چار ہزار پولیس اہلکار وی آئی پی کی حفاظت پر لگے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈیڑھ ہزار اہلکار پورے کراچی کے عوام کے تحفظ پرمامور ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایدھی نہ ہوتا تو پورے صوبے میں کوئی ایمبولینس سروس تک نہ ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ این ایف سی تو وفاق سے لیتے ہیں کیونکہ اضلاع کو پی ایف سی کیوں نہیں دیتے۔ انہوں نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کے بارے میں بات کریں تو سیخ پا ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کے نوجوانوں کو روزگار دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کی جیلوں میں 2014 سے 2016 کے درمیان 19 قیدی طبی امداد نہ ہونے کے باعث ہلاک ہوئے۔انہوں نے کہاکہ ہلاک ہونے والے سارے قیدی غریب تھے،کراچی میں 1100 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے لیکن صرف 450 ملین گیلن پانی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں پولیس کو آج بھی راؤ انوار جیسے بہادر بچے چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے پاکستان کو قرضوں میں پھنسایا وہ ہمیں درس دیتے ہیں، بجٹ میں ایک فنڈ رکھیں کہ بازار سے ضمیر خرید کر ان لوگوں کو دیں جو تیس ہزار ارب کا قرضہ چڑھا کر چلے گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی حنا ربانی کھر نے کہا کہ یہاں کا ماحول دیکھ کر بعض اوقات آنے کا دل نہیں کرتا،ایسا لگ رہا ہے بجٹ پر بحث کم ماضی کی الزام تراشیوں پر زیادہ۔ انہوں نے کہاکہ یہاں پر دیکھا ایک وزیر نے کسی کو تھپڑ مار دیا۔ انہوں نے کہاکہ کہا گیا انصاف نہیں ملا تھپڑ مارا،وزیر اعظم نے کہا گریبان سے پکڑ کر گھسیٹو،جب وزرا ء اور وزیر اعظم ایسا کریں گے عام آدمی کا کیا حال ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ احتساب کے نام پر مذاق ہو رہا ہے،ایوان میں وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کو بولنے نہیں دیا جاتا،بار بار کہا جا رہاہے ملکی معیشت آئی سی یو میں ہے۔حنا زبانی کھر نے کہاکہ بار بار آئی ایم ایف کا بجٹ کے الفاظ دہرانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ اقتدار میں آنے سے قبل ان کو بجٹ خسارہ ڈیٹ سروننگ کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کا منصوبہ ختم کیا گیا،وزیر اعظم ہاؤس کا گزشتہ سال 98 کروڑ خرچ آیا، آپ نے ایک ارب نو کرورڑ خرچ کر ڈالے،آئندہ سال ایک ارب سے زائد کا بجٹ رکھا گیا،آپ کہہ رہے تھے مختصر کابینہ رکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ 55 رکنی کابینہ بنا دی گئی،آپ نے کہا گائے بھینسیں بیچ کر بچت کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مشاعرے پر زیادہ خرچ کر دے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے دور میں اندونی بیرونی قرضوں پر سود جی ڈی پی کا ایک فیصد تھا،ًڈیم فنڈ پر اتنی تشہیر کے بعد 11ارب جمع کیے۔ انہوں نے کہاکہ اب نہ پرانے چیف جسٹس نظر آرہے ہیں نہ نئے وزیر اعظم، جب نالائق ڈاکو ملک چلا رہے تھے پیڑولیم منصوعات کی عالمی منڈی میں قیمیتیں 140 ڈالر بیرل تھیں۔ انہوں نے کہاکہ آج عالمی مارکیٹ اور مقامی قیمتوں کا موازنہ کریں۔ حنا ربانی کھر نے کہاکہ اس سال کے بجٹ میں کوئی یونی ورسٹی کا بجٹ ہی نہیں رکھا گیا،آپ پی ٹی آئی کے نہیں پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب کوئی معاملہ نہیں سنبھالا جاتا تو ملک کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دوہزار گیارہ میں ڈیٹ سروس میں قرضہ 5.1 جی ڈی پی کی شرح سے تھا تو آج بھی اتنا ہی تو پھر تبدیلی کی دعوے کس چیز کے ہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ نالائق ڈاکو جب ملک چلا رہے تھے تو عالمی سطح پر 140 ڈالر فی بیرل تھی اور ملک میں پیٹرول کی قیمت 103 تھی،جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 66 ڈالر فی بیرل ہے اورپٹرول کی قیمت 113 سے زائد ہے۔وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے عوام نے برستی گولیوں اور میزائلوں کی فائرنگ کے باوجود عام انتخابات میں حصہ لیا۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کو موجودہ حکومت سے بہت تواقعات ہیں،مشکل مالی حالات کے باوجود بلوچستان کے لئے اضافی فنڈز مختص کرنا احسن اقدام ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی کے برعکس اس بار بلوچستان کا بجٹ وفاق میں بیٹھ کر نہیں بنایا گیا،وفاق کے نمائندوں نے کویٹہ میں بیٹھ کر صوبے کے حکام اور نمائندوں سے مشاورت کر کے بجٹ بنایا۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں امن و امان کے لئے فوج کی شکر گزار ہوں،پر امن اور خوشحال بلوچستان مل کر بنائیں گے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان خوشحال ہو گا تو پاکستان خوشحال ہو گا۔(ن)لیگ کی مریم اورنگزیب نے بجٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نااہل اور نالائق حکمرانوں نے نیا رکارڈ قائم کردیا،وزیراعظم ہاؤس میں یونی ورسٹی کے منصوبہ کا بجٹ ختم کردیا ہے لیکن اب ایوان صدر میں طوطے اڑائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹی وی سٹار وزیراعظم نے دس دن میں ٹی وی پر دو خطاب کئے۔ انہوں نے کہاکہ ایک تقریر کا نشانہ اپوزیشن تھی اور دوسرے میں انہوں نے اپنی ایمنسٹی اسکیم پر تاجر برادری کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ آج ایوان اس لیے بیوقعت ہورہاہے کہ ایک شخص نے اس پر حملہ کیا تھا آج وہ اس کا قائد ایوان ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس ملک کا وزیراعظم کوٹ لکھپت جیل میں ہے جس کو ہر طریقے اور حربے سے توڑنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ مائنس ون کے فارمولے کے سامنے نہیں جھکے،نیب فیل، ایف آئی اے فیل، اور اب نیب ٹو بھی فیل ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ملک کو ضرب عضب، ردالفساد کے ذریعے فاٹا اور کراچی کو دہشت گردی سے پاک کرکے دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ آپ کے دور میں دہشت گردی کاناسور واپس آرہاہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے کہاکہ آئی ایم ایف سے قرضوں نہیں لونگا،ملک کی معیشت کو انڈوں، کٹوں اور مرغیوں سے دینا کی بہترین معیشت بناؤں گا