04:45 pm
نندی پور ریفرنس کے ایک کیس میں دو مختلف فیصلے سوالیہ نشان ہیں،قمرزمان کائرہ

نندی پور ریفرنس کے ایک کیس میں دو مختلف فیصلے سوالیہ نشان ہیں،قمرزمان کائرہ

04:45 pm

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے راہنما قمر زمان کائرہ نے نندی پور ریفرنس میں بابر اعوان کی بریت کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نندی پور ریفرنس کے ایک کیس میں دو مختلف فیصلے سوالیہ نشان ہیں،اس ریفرنس میں پی ٹی آئی میں جانے والے بابر اعوان کی بریت اور راجہ پرویزاشرف کا ٹرائل بظاہر متنازع فیصلہ ہے،اس میںسے عمران خان نے بابر اعوان کو مکھن میں بال کی طرح سے نکال لیا،
قمرزمان کائرہ نے کہا کہ جب تک بابر اعوان پاکستان پیپلزپارٹی میں تھے، ان کا نندی پور ریفرنس میں ٹرائل ہوتا رہا،اور اب سمجھ آرہا ہے کہ کیوں چیئرمین نیب نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کی کرپشن کے کیسز کھلے تو حکومت گرجائے گی، سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا وڈیو اسکینڈل سامنے لاکر پی ٹی آئی چیئرمین نیب کو بلیک میل کررہی ہے؟ کرپشن کیسز سے حکومتی اراکین کو بری اور اپوزیشن راہنماں کا ٹرائل کیا جارہا ہے،انہوں نیکہا کہ اگر کوئی پی پی چھوڑدے تو اس کیخلاف جھوٹے کرپشن کیسز ختم ہونا ایک روایت بن گئے ہیں،کیا جھوٹے کرپشن کیسز کا خاتمہ پی پی چھوڑنے کی قیمت ہے؟اگر نندی پور ریفرنس میں کرپشن ہوئی تو صرف بابر اعوان کو بری کیوں کیا گیا؟اگر کرپشن نہیں ہوئی تو راجہ پرویزاشرف کے لئے بھی وہی فیصلہ ہو جو بابر اعوان کے لئے ہواہیجھوٹے کرپشن کیسز کے نام پر پی پی راہنماں کی وفاداریاں بدلنے کی کوشش کی گئی ہیجھوٹے کرپشن کیسز بنا کر بظاہر جیالوں کو کہا گیا کہ پی پی چھوڑدو، بری ہوجاگے، قمرزمان کائرہ نے کہا کہ اگر سیاست جھوٹے کرپشن کیسز کی بلیک میلنگ سے چلنا ہے تو ملک میں استحکام کیسے آئے گا۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے سچ کہا تھا کہ پی ٹی آئی میں جا ئو یا جیل میں جا ئو ۔

تازہ ترین خبریں