07:47 am
سپریم کورٹ نے کرپشن کیس میں خاتون کلرک کی بقایا 10سال قید ختم کرتے ہوئے جرمانے کی سزا برقرار رکھی

سپریم کورٹ نے کرپشن کیس میں خاتون کلرک کی بقایا 10سال قید ختم کرتے ہوئے جرمانے کی سزا برقرار رکھی

07:47 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )سپریم کورٹ نے کرپشن کیس میں خاتون کلرک کی بقایا 10سال قید ختم کرتے ہوئے جرمانے کی سزا برقرار رکھی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید خان کھو سہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا پہلا کیس دیکھ رہا ہوں جس میں کسی خاتون پر کرپشن کا اتنا بڑا الزام ہے ، دو سال میں چار کروڑ کی کرپشن کیسے کر لی، 20 سال نوکری کرتی تو پورا ملک بیچ کرکھا جاتیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پنشن فنڈزمیں خاتون کلرک کی کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت کی
تو چیف جسٹس نے کہا خاتون پنشن ڈیپارٹمنٹ میں اپر ڈویژن کلرک تھی، کسی خاتون کی جانب سے کرپشن کا پہلا اتنابڑا کیس دیکھا ہے ، ٹرائل کورٹ نے خاتون کو 14سال قید کی سزا سنائی ، ایک کروڑ 39 لاکھ روپے احتساب عدالت نے جرمانہ کیا ، 50 لاکھ روپے اکاؤنٹ سے برآمد ہونے کا کوئی جواز نہیں دیا ۔وکیل صفائی نے کہا منگنی کے وقت بطورحق مہر ایک کروڑ، 100تولے سونا اور گھر دیاگیا، جس پر چیف جسٹس نے کہاان کی شادی تو 2005 میں ہوئی ، خاتون کا شوہرایک پوسٹ ماسٹر تھااس کے پاس اتنی رقم کہا ں سے آئی؟ جسٹس یحیی آفریدی نے کہاان کا نکاح نامہ بھی مشکوک لگ رہا ہے جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہانکاح رجسٹرار نے بھی اپنے دستخط سے انکار کیا ہے ، خاتون اگر 20سال سروس کرتی تو سارا ملک لے جاتی۔ملزمہ کی بہن سے مکالمے میں چیف جسٹس نے کہا لگتا ہے ساری کرتا دھرتا آپ ہیں، کیوں نہ اس کی سزا آپ دونوں میں تقسیم کر دیں۔عدالت نے کرپشن پر چار سال سے جیل میں قید نزہت بی بی کی بقیہ دس سال کی سزا ختم کر دی تاہم جرمانے کی سزا برقرار رکھی ۔خیال رہے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے نزہت بی بی کو 14 سال اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔دوسرے کیس میں سپریم کورٹ نے پنشن فنڈز میں خوردبردکے ملزم احمد خان کی جانب سے پنشن کی ادائیگی سے متعلق درخواست واپس لینے پر خارج کر دی ۔ملزم کے وکیل نے کہاان کے مو کل نے سزا پوری کر لی ، ان کا موکل پنشن کے کلیم کا حساب کتاب کر تا تھا اس کیس کو 19 سال ہو گئے ہیں اور پنشن ملنی چا ہیے ،چیف جسٹس نے کہا یہ تو پورا ایک گروپ تھا جس کا یہ حصہ تھا اس کیس میں4 کروڑ کا گھپلا تھااور ملزم پنشن میں گھپلا کر کے اب پنشن مانگ رہا ہے ، اس کیس میں تین اور ملزم تھے انہوں نے اپیل نہیں کی اس کا مطلب انہوں نے جرم قبول کیا،جو سرکاری گواہ پیش کیا تھا اس نے بھی آپ کیخلاف گواہی دی،گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ، ملزم پنشن سے پہلے ہی 4 کروڑ 12 لاکھ پنشنلے چکا ہے اتنی بڑی کرپشن کیلئے اسے سزا کم نہیں دی گئی کیوں نہ ملزم کی سزا بڑھا دیں،26 سال قبل 4 کروڑ روپے آج کے چار سو کروڑ کے برابر ہیں،یہ بہت بڑا فراڈ ہے یہ صرف یہاں نہیں ہو رہا، اللہ کا شکر ادا کر کے گھر بیٹھیں ہم سزا بڑھا نہیں رہے ۔

تازہ ترین خبریں