03:27 pm
اگر عمران خان کے علاوہ کو ئی اور وزیر اعظم ہوتا تو ایسا کرتا؟ حامد میر نے سوال اُٹھا دیا

اگر عمران خان کے علاوہ کو ئی اور وزیر اعظم ہوتا تو ایسا کرتا؟ حامد میر نے سوال اُٹھا دیا

03:27 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان نے اپنے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی جتنی بھی کوشش کی اور مذاکرات کی جتنی مرتبہ بھی پیشکش کی بھارت نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کا ہی مظاہرہ کیا۔ بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت انگیز جذبات کو ہوا دی جاتی ہے جبکہ پاکستان جذبہ خیر سگالی کے تحت ہمیشہ سے بھارت سے دوستی کا ہاتھ بڑھاتا آیا ہے۔ اسی جذبہ کے تحت اب بھی اقوام متحدہ میں پاکستان نے بھارت کی حمایت کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو سالہ رکنیت کے لیے پاکستان نے بھارت کی حمایت کردی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے ایشیا پیسفک گروپ نے اجتماعی طور پر دو سال کے لیے غیر مستقل نشست کے لیے بھارت کی حمایت کی۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کی اس حمایت پر پاکستان کے سینئر تجزیہ کار حامد میر نے بھی اعتراض کیا اور سوال اُٹھا دیا۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں حامد میر کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان نے بھارت کی حمایت کردی لیکن پُرانا بھارت پاکستان کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس معاملے پر نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار حامد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تو بھارت کی حمایت کی ہے، لیکن کیا بھارت پاکستان کے لیے ایسا کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمران خان کے علاوہ کو ئی اور وزیر اعظم ہوتا تو ایسا کرتا؟ اور اگر وہ وزیراعظم ایسا کرتا بھی تو اس کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل کیا ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی ایسا کرتے تو ان کو مودی کا یار کہا جاتا ۔ حامد میر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کی جانب سے بھارت کی اس طرح کی حمایت حیران کن ہے۔

تازہ ترین خبریں