08:26 am
بھائی کی موت کے بعد غربت سے مجبور دعا خان اپنی والدہ کیساتھ فاسٹ فوڈ پوائنٹ چلاتی ہے

بھائی کی موت کے بعد غربت سے مجبور دعا خان اپنی والدہ کیساتھ فاسٹ فوڈ پوائنٹ چلاتی ہے

08:26 am

اسلام آباد(احمد ارسلان ) قسمت بھی انسان کیساتھ کیا کیا کھیل کھیلتی ہے ، کوئی بے حد غریب ہے تو کوئی بے حد امیر طبقاتی تقسیم نے جہاں لوگوں کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے وہیں لوگوں کے اذہان بھی تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں ۔ کوئی اپنی سوچ میں بے حد وسعت رکھتا ہے تو کسی کا ذہن محض گندگی اور غلاظت کی آماجگاہ معلوم پڑتا ہے اور ایسے لوگ کسی کو بھی اس کے حال میں دیکھ کر خوش ہونے یا رشک کرنے کی بجائے حسد اور تنگ نظری کے نشتر چلا کر اگلے بندے کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں ۔
یہ کہانی ہے ایک شام نگر میں فاسٹ فوڈ پوائنٹ چلانے والی دعا خان کی جو اپنے حالات سے مجبور ہو کر اپنی بوڑھی والدہ کیساتھ یہ کام کر کے اپنا، اپنی ماں کا اور عارضہ قلب میں مبتلا اپنے بوڑھے باپ کا پیٹ پال رہی ہے ۔ غربت اور پریشانیوں نے تو دعا خان کا حوصلہ بڑھا دیا مگر پولیس اور عوام کے رویے نے دعا کو توڑکر رکھ دیا ۔ خوبرو ہونے نے کی وجہ سے پولیس اور عوام کی طرف سے ہونے والی ہوٹنگ نے دعا کو توڑکر رکھ دیا ہے مگر وہ اپنے عظم و ہمت کو توٹنے نہیں دے رہی ۔ دعا کی والدہ رخسانہ بی بی کا ایک بیٹا کینسر میں مبتلا ہو کر وفات پا چکا ہے اور دعا کے والد دل کے مریض ہونے کے باعث کوئی کام نہیں کر سکتے اسی لیے دعا دن رات محنت کرکے اپنے ماں باپ کا پیٹ پال رہی ہے تاہم بحیثیت قوم اور انسان ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہم اگر کسی بے بس اور لاچار ، کسی ضرورت مند کی مدد نہ کر سکیں تو اس کی حوصلہ و دل شکنی بھی نہ کریں یہ ہمارا اس پر بہت بڑا احسان ہوگا ۔

تازہ ترین خبریں