03:19 pm
وزیر اعظم  حکم  دیں  سندھ میں 48 گھنٹوں  میں تبدیلی  لائیں گے،فواد چودھری

وزیر اعظم حکم دیں سندھ میں 48 گھنٹوں میں تبدیلی لائیں گے،فواد چودھری

03:19 pm

راولپنڈی(آن لائن)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ آصف زرداری کو ایک اور کیس میں گرفتار کر لیا گیاہے ۔پچھلے 10 سالوں میں 24 ٹریلین قرضہ لیا گیا ، کہاں گیا اب سابقہ 10 سالہ دورے اقتدار پر براجمان تمام حکمران جیلوں میں نظر آئیں گے ۔نواز شریف ، آصف زرداری اور چودھری نثار کا کوئی مستقبل نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار فواد چودھری نے پیر کے روز راولپنڈی میں ایک تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج مجھے بہت خوشی ہوئی ہے
کہ آصف زرداری کو ایک اور کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے،وفاق نے سندھ کو 90ہزار کروڑ دیئے لیکن وہ پیسہ سندھ میں لگنے کے بجائے دبئی اور لندن سے نکل رہے ہیں ، فواد چودھری نے کہا کہ بلوچستان سے ہمارے کچھ بلوچ سردار ہیں جب وہ حقوق کی باتیں کرتے ہیں تو ہم حیران ہو جاتے ہیں کہ راولپنڈی ڈویژن جتنی 3 ٹریلین آبادی بلوچستان کی ہے اور وہاں پر 30 ہزار کروڑ روپے جاتے ہیں آخر ان کا کوئی حساب کتاب کرنے والا ہے یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ پھر یہی لوگ مظلوم بن کر آنکھوں میں آنسو لاتے ہیں حالانکہ ان کے دفتر کے باہر کھڑے چپڑاسی نے بھی راڈو کی گھڑیاں پہن رکھی ہوتی ہیں، جب تک کرپشن ختم نہیں ہو گی اسی طرح پیسہ بھینٹ چڑھتا رہے گا اس کا فائدہ غریب عوام کو نہیں ہو گا ،فواد چودھری نے کہا کہ اسی کرپشن کے خاتمے کے لئے وزیر اعظم نے کمیشن بنایا کہ 24 ٹریلین کا قرضہ کہاں گیا؟حالانکہ پہلے 6 ٹریلین قرضہ تھا اور اس قرضے میں ہم نے اسلام آباد ، منگلہ و تربیلا ڈیم ، موٹر ویز ، نیول بیسیز دنیا کی چھٹی فوج اور ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اور پھر 10 سالوں میں 24 ٹریلین قرضہ لیا گیا آخر یہ پیسے کدھر گئے ۔ اب پچھلے 10 سالوں میں دور اقتدار پر براجمان حکمرانوں میں سے ایک بھی باہر نظر نہیں آئے گا بلکہ یہ تمام جیلوں میں ہوں گے ،فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 2 بڑے مسئلے ہیں ایک ہمارے پاس پیسے نہیں اور دوسرا جو تھوڑے بہت ہیں وہ ضائع ہو رہے ہیں ۔ جب تک یہ دونوں کام نہیں رکیں گے ہمارے ملک میں ترقی ممکن نہیں۔اسی لئے تحریک انصاف پاکستان میں انصاف کا کلچر لے کر آئی اور شفاف حکومت کا قیام عمل میں آیا ۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کے وسائل میں اضافہ ہو اب ہم انڈسٹری لگانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور انڈسٹری پر غیر ضروری پابندیاں بھی ختم کی ہیں ۔اس کے علاوہ بیرون سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اب الحمداﷲ اوپر کی سطح پر کرپشن ختم ہو گئی ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال ہو گیا لیکن کوئی کرپشن کا کیس سامنے نہیں آیا ۔ اب نچھلے سطح پر بھی کرپشن کا خاتمہ ضروری ہے ۔ تھانوں اور پٹواری کی بھی کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ عام عوام کو ریلیف مل سکے ،فواد چودھری نے کہاکہ عمران خان کچھ وعدوں پر اقتدار میں آیا کہ شفاف حکومت ہو گی اور احتساب بلاامتیاز ہو گا ۔ گڈ گورننس دیں گے ۔ آج ہم نے احتسابی عمل کو ایسا ماحول دیا کہ قوم اس کا نتیجہ دیکھ سکتی ہے ۔کرپشن کا بھی کوئی کیس اب تک سامنے نہیں آیا ۔ وفاق گڈ گورننس دے رہا ہے لیکن صوبوں کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہو گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے اب وہ وزارت جس کو پاکستان میں کوئی اہمیت نہیں ملتی تھی آج اس کا بجٹ بھی پاکستان کی میجر وزارتوں کے برابر ہے جو کہ عمران خان کا ویژن ہے ۔ اب حکومت انڈسٹری اور ایگریکلچر کے لئے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ہمارا عام آدمی ترقی کرے ۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ بلاول بھٹو جس اکاؤنٹ کی رقم پر ملک سے باہر جاتے رہے ایان علی بھی اسی اکاؤنٹ پر سفر کرتی رہی ۔ اب اگر بلاول بھٹو کو پتہ نہیں تھا اور وہ سفر کرتے رہے تو ان کو اپنے والد کی مذمت کرنی چاہئے کہ آخر آصف زرداری نے کیوں ایک اکاؤنٹ سے ایان علی اور بلاول بھٹو کو پیسے دیئے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ حکومت چھانگا مانگا کی سیاست نہیں کر رہی ۔ مسلم لیگ (ن) کو ہم نہیں توڑ رہے بلکہ پی ایم ایل ( این ) کو توڑنے کے لئے مریم نواز کردار ادا کر رہی ہیں ۔جس نے چچا شہباز شریف کے جاتے ہی پیچھے ان کی سیاست پر شب خون مار دیا ۔ اب جو لوگ سیاست کرتے ہیں وہ تو زمینی حقائق ملحوظ خاطر رکھتے ہیں ۔اب پی ایم ایل ( این) کے لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی آخر وہ نواز شریف کو فالو کریں یا شہباز شریف کو ۔جب شہباز شریف نے کہا کہ میثاق معیشت کریں تو سب سے زیادہ ڈیسک خواجہ آصف نے بجائے لیکن مریم نواز نے میثاق معیشت برعکس پریس کانفرنس کی تو خواجہ آصف کو بھی مکرنا پڑ گیا کہ میرا موقف بھی مریم نواز والا ہے ۔مسلم لیگ(ن) میں ایک بہت بڑا بحران پیدا ہو چکا ہے ۔ ہمارے طرف جو بھی آئے گا تو ہم ان کو آشیانہ دیں گے کہ ہمارے پاس آ کر بیٹھیں اور لوگوں کے کام کریں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں فواد چودھری نے کہا کہ نواز شریف ، آصف زرداری اور چودھری نثار علی خان 1985 ء کے سیاستدان تھے اب ان کا کوئی مستقبل نہیں انہوں نے ماضی میں کچھ نہیں کیا تو اب ان کا کیا ہو گا ۔چودھری نثار کے پاس جب حرکت کرنے کا موقع تھا اس وقت وہ کڑک مرغی کی طرح بیٹھے رہے اب وقت گزر گیا بچے بھی پیدا ہو گئے ۔ کوئی فائدہ نہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں فواد چودھری نے کہا کہ اختر مینگل کے لاپتہ افراد کے مسئلے پر کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ عمران خان نے بھی لاپتہ افراد پر پوری پوزیشن لی ہوئی تھی یہ مسئلہ ہم دونوں کا تھا ۔ ایم کیو ایم کراچی کے مسائل پر وفاق کو کردار ادا کرنے کا کہتی ہے اب کراچی میں سب سے بڑی پارٹی پی ٹی آئی ہے ایم کیو ایم تو نہیں لیکن پھر بھی کراچی کی بہتری کے لئے اقدامات کریں گے ۔ سندھ میں تبدیلی کے سوال پر فواد چودھری نے کہا کہ ہمارے نمبر پورے ہیں ، وزیر اعظم جب بھی حکم دیں گے سندھ میں تبدیلی آ جائے گی ۔ گورنر سندھ ایک جادو گر آدمی ہیں وزیر اعظم کے حکم پر 48 گھنٹوں کے اندر عمران اسماعیل تبدیلی لے آئے گا ۔

تازہ ترین خبریں