04:56 pm
 حامد میر کی جانب سے آصف زردرای کا انٹرویو کیے جانے کے دوران پروگرام بند ہو گیا

حامد میر کی جانب سے آصف زردرای کا انٹرویو کیے جانے کے دوران پروگرام بند ہو گیا

04:56 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک کو دوران انٹرویو اچانک بند کردیے جانے کے حوالے سے اہم تفصیلا ت سامنے آگئی ہیں ۔ سینئر صحافی پروگرام کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری کا انٹرویو کر رہے تھے کہ اچانک پروگرام کے دوران ہی سکرین غائب ہو گئی ۔ پروگرام بند ہونے کے بعد نجی ٹی وی پر ٹائم پورا کرنے کیلیے یا تو اشتہارات چلائے جارہے ہیں
یا خبریں اور مختلف پروگرامز کے پرومو چلا کر وقت پورا کیا جارہا ہے۔پروگرام کے اینکر حامد میر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ چند منٹ بعد ہی آصف زرداری کا چلنے والا انٹرویو رکوادیا گیا اور جن لوگوں نے یہ انٹرویو رکوایا ہے ان میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ سرعام اس کو قبول کرسکیں۔حامد میر نے کہا کہ جیسے ہی ٹی وی پر یہ اعلان کیا گیا کہ آج کا کیپٹل ٹاک نشر نہیں کیا جائے گا تو انہیں دنیا بھر سے فون کالز موصول ہونا شروع ہوگئی ہیں اور لوگ وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ریاست خود پاکستان کو بدنام کر رہی ہے۔سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ اس میں غلط ہی کیا ہے کہ انہوں نے سابق صدر آصف زرداری سے کچھ سوالات کیے اور انہوں نے اس کے جوابات دیے، کیا آصف زرداری سابق ترجمان کالعدم تحریک طالبان پاکستان احسان اللہ احسان سے بڑے مجرم ہیں؟ حامد میر نے بتایا کہ احسان اللہ احسان نے آفیشل کسٹڈی کے دوران انٹرویو دیا تھا جبکہ آصف زرداری کا انٹرویو پارلیمنٹ ہاؤس میں کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل اور رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے حامد میر کا پروگرام بند ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں سابق صدر آصف علی زرداری کا انٹرویو کیا جارہا تھا جو تھوڑی ہی دیر نشر ہوا جس کے بعد پروگرام اچانک اسکرین سے غائب ہوگیا۔مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل اور رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے حامد میر کا پروگرام بند ہونے پر کہا ’کیپٹل ٹاک اچانک اسکرین سے غائب ہوگیا کہیں اسے بھی تو اے این ایف نے گرفتار نہیں کرلیا؟‘۔ خیال رہے کہ پروگرام بند ہونے پر اینکر پرسن حامد میر نے ٹوئٹر پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک آزاد ملک میں نہیں رہ رہے۔

تازہ ترین خبریں