01:50 pm
رانا ثنا اللہ کو سزائے موت ہونے کا امکان

رانا ثنا اللہ کو سزائے موت ہونے کا امکان

01:50 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر رانا ثناء اللہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اے این ایف نے دعوی کیا تھا کہ رانا ثناء اللہ کی گاڑی سے 15کلو ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کیس میں رانا ثناءاللہ کی ضمانت ہو جائے گی یا پھر پھر انہیں کوئی سزا دی جاسکتی ہیں؟. اسی پر میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد کسی بھی ملزم سے منشیات برآمد ہوں
تو اس کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ہمارا قانون یہی کہتا ہے کہ جب کسی ملزم سے ایک کلو سے زائد منشیات برآمد ہوتی تو اس کو سزائے موت سنائی جا سکتی ہے اور اگر بات کی جائے رانا ثناءاللہ کی تو ان سے 21 کلو منشیات برآمد ہوئی تھی۔اگر اے این ایف رانا ثناءاللہ کی گاڑی سے 21 کلو منشیات برآمد ہونے کو ثابت کر دے تو پھر پھر رانا ثناءاللہ کے لئے بہت مشکلات پیدا ہوجائیں گی اور انہیں اپنی ضمانت کرنے میں بہت مشکلات پیش آئیں گی کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں منشیات برآمد ہونا اور اس کے بعد ضمانت ہونا ایک بہت بڑی بات ہوگی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی اتنی جلدی ضمانت نہیں ہوگی۔خیال رہے عدالت نے رانا ثناءاللہ کو 14روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، رانا ثناءاللہ سمیت 6 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوایا گیا ہے. اے این ایف کی طرف سے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔ جس کے بعد عدالت نے رانا ثناء اللہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ اے این ایف نے رانا ثناء اللہ کو 15 روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا استدعا کی تھی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے متعلق ایک نئی کہانی سامنے آگئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پیر کے روز رانا ثناء اللہ کیگاڑی سے منشیات برآمد ہونے سے متعلق کوئی واضح بات نہیں بتائی گئی۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کو اپنی وزارت کے دوران منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام پر گرفتار کیا گیا ہے۔ سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ بطوروزیرسرکاری گاڑی منشیات کی اسمگلنگ کیلیے استعمال کرتے تھے۔ رانا ثناء کی گاڑی ان کی ہدایت پرمنشیات اسمگلنگ کی سہولت کیلیےاستعمال کی جاتی تھی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے متعلق اعلامیہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔