03:07 pm
رانا ثنا اللہ نے منشیات کےتھیلے اے این ایف اہلکاروں کے حوالے کیے

رانا ثنا اللہ نے منشیات کےتھیلے اے این ایف اہلکاروں کے حوالے کیے

03:07 pm

اسلام آباد(آن لائن)مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کے منشیات سمگلنگ میں ملوث ہونے سے متعلق اطلاع پر اے این ایف کی 19رکنی ٹیم مسلسل دو گھنٹے موٹروے پر انتظار میں رہی ، پہلے سلام پھر کلام کیا ، رانا ثناء اللہ نے مزاحمت کیے بغیر نیلے رنگ کا بریف کیس اٹھا کر منشیات کے لفافے اے این ایف حکام کے سپرد کردیئے ۔ تاہم سکواڈ میں شامل دیگر ملزمان کی جانب سے مزاحمت کی گئی اور اے این ایف کی ٹیم سے ہاتھا پائی کے باوجود ملزم رانا ثناء اللہ کو چھڑانے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مخبر کی ا طلاع پر ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن عزیز اللہ کی زیر نگرانی اے این ایف کی 19رکنی ٹیم جس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز ،
انسپکٹر نعمان غوث ، محمد اسلم ، احسان اعظم اور سب انسپکٹر انجم شکیل علی حسن اور ہیڈ کانسٹیبل توفیق احمد ، محمد یونس اور کانسٹیبلان احمد آفتاب، وسیم مختار، مدثر حسین ، محمد اسلم ، محمد آصف ، فاروق اشرف ، وسیم اکرم ، توصیف ، محمد عدنان ، شہباز انجم ، محمد اشفاق اور امام بخش شامل تھے ، نے دوپہر ایک بجے کے قریب موٹروے سکھیکی کے مقام پر اے این ایف کی گاڑیوں کا سکواڈ ترتیب دے کر آدھے کلومیٹر تک حصار بنا لیا تھا ۔ذرائع کے مطا بق تین بجکر 25منٹ پر ایک لینڈ کروزر اور سکواڈ ویگو ڈالا آیا جنہیں روک کر سڑک کنارے کھڑا کیا گیا ۔لینڈ کروزر نمبر بی ایف 0601 جس کو ڈرائیور عامر وسیم چلا رہے تھے اور فرنٹ سیٹ پر عمر فاروق جبکہ پچھلی نشست پر رانا ثناء اللہ خان ولد شیر محمد موجود تھے جبکہ ویگو گاڑی میں ڈرائیور عثمان احمد فرنٹ سیٹ پر محمد اکرم جو کہ مسلح پسٹل تیس بور و گن 223بور اوراس کی پچھلی نشست پر سبطین حیدر گن 223بور موجود تھے ۔ اس دوران اے این ایف کی ٹیم کے اعلیٰ افسران نے رانا ثناء اللہ خان سے منشیات کی بات پوچھی تو انہوں نے سر ہلاتے ہوئے سیٹ کے پیچھے نیلے رنگ کے سوٹ کیس کو اٹھایا تو اے این ایف کے اصرار پر سوٹ کیس کی زپ رانا ثناء اللہ خان نے خود کھولی اور اس کے اندر پلاسٹک سیل کو توڑ کر اس کے پیچھے موجود مومی لفافہ میں بند ہیروئن کے پیکٹ نکالے ، اس دوران رانا ثناء اللہ کے ساتھ موجود دیگر ساتھیوں نے اے این ایف اہلکاروں کیساتھ ہاتھا پائی شروع کردی اور رانا ثناء اللہ کو زبردستی چھڑانے کی کوشش کی ۔ اس موقع پر رانا ثناء اللہ کی موجودگی میں ہیروئن کا وزن کیا گیا جو کہ 21کلو500گرام تھا ، دریںاثناء لوگ بھی آہستہ آہستہ اکٹھا ہونا شروع ہو گئے اور امن وامان کے خطرے کے پیش نظر ڈائریکٹر آپریشن عزیز اللہ نے ملزم رانا ثناء اللہ سمیت دیگر پانچ افراد کو تھانہ میں شفٹ کرکے دیگر کارروائی کا آغاز کیا ۔ہیروئن بند مومی لفافہ 15کلوگرام ، 20گرام بطور نمونہ اور 2پارسل ایف آئی آر میں شامل کیے گئے ہیں ، رانا ثناء اللہ سے ایک نائن ایم ایم پسٹل بمعہ 23گولیاں جبکہ ملزم محمد اکرم سے ایک پسٹل تیس بور ، دو میگزین ، اٹھارہ روند اور رائفل 223بمع ایک میگزین اور 32روند ، ملزم سبطین حیدر سے 223گن ایک میگزین اور25روند بھی ایف آئی آر کاحصہ بنائے گئے ۔ ایف آئی آر کے مطابق منشیات کی ترسیل میں شامل گاڑی لینڈ کروزر وی ایٹ نمبری بی ایف 0601 اور ویگو ڈالا نمبری ایف ایچ 225کو بھی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا ہے ۔ملزمان پر سی این ایس اے 1997ء ،186, 189, 15, 17اور9سی کی دفعات لگائی گئی ہیں ۔اے این ایف حکام نے رات گئے ملزمان سے تفتیش مکمل کرتے ہوئے منگل کو عدالت پیش کیا جس پر انہیں 14روز کے لئے جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھجوا دیا گیا ۔اس ضمن میں ماہر قانون ایڈووکیٹ اشرف گجر سے آئینی رائے لی گئی تو انہوں نے کہاکہ اے این ایف حکام نے ملزمان کا ریمانڈ شاید اس لئے نہیں لیا کیونکہ مال مسروقہ وہ برآمد کرچکے تھے اگر منشیات کی برآمدگی مزید کرنا ہوتی تو وہ عدالت سے ریمانڈ کی درخواست کرتے ۔انہوں نے کہاکہ آئین و قانون کے مطابق 15کلو یا اس سے زائد کی برآمد ہونیوالی ہیروئن کی دور دور تک ضمانت کے اثرات نظر نہیں آرہے ہیں۔