07:02 am
بلوچستان میں پسماندگی کی اصل وجہ ، سرکاری محکموں میں 45ہزار گھوسٹ ملازمین کی موجودگی کا انکشاف

بلوچستان میں پسماندگی کی اصل وجہ ، سرکاری محکموں میں 45ہزار گھوسٹ ملازمین کی موجودگی کا انکشاف

07:02 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستا ن میں سرکاری محکموں میں گھوسٹ ملازمین کا کیس پرانا ہے مگر معلوم نہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو پاتی۔سابق چیف سیکرٹری کی رپورٹ پر دو سال تک کسی نے کان نہ دھرے، خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان، کمال تو یہ ہے کہ پنشنرز میں 20 سال کی عمر کے لڑکے بھی شامل ہیں۔
بلوچستان میں پسماندگی اور دیگر معاشی مسائل کی سب سے بڑی وجہ سرکاری محکموں میں گھوسٹ ملازمین کی بھرمار ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں بجٹ میں شامل غیر ترقیاتی فنڈز صرف اور صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنوں سمیت سرکاری مراعات پر خرچ کیا جاتا ہے۔سابق چیف سیکرٹری کی جانب سے گھوسٹ ملازمین کی تلاش کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ صوبے میں 45 ہزار گھوسٹ ملازمین ہیں، اس میں یہ بات حیران کن تھی کہ ان ملازمین میں افغان مہاجرین جبکہ پینشرز میں 20 سال کی عمر کے لڑکے بھی شامل ہیں۔رپورٹ 2016ءمیں نیب سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں کو بھجوائی گئی لیکن اس اہم معاملے پر کوئی توجہ نہ دی گئی۔ رپورٹ میں بوگس پیشنرز کی موجودگی کا بھی انکشاف کیا گیا۔ان خبروں کی بازگشت پر نیب کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مختلف سرکاری محکموں سے ریکارڈ طلب جبکہ نادرا سے بھی تصدیق کے لئے مدد مانگی گئی ہے۔محکمہ تعلیم نے نیب کی تحقیقات کے بعد 5 ہزار بے نام ملازمین کی تنخواہیں بھی روک دی ہیں اور اشتہارات کے ذریعے ان ملازمین کو محکمہ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ گھوسٹ ملازمین کے خلاف کارروائی کرکے قومی خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔اب موجودہ حکومت نے گھوسٹ ملازمین کا کیس کھول تو لیا ہے جس سے توقع ہے کہ گھوسٹ ملازمین کا مکمل خاتمہ کر کے حقداروں کو حق دے کر صوبہ بلوچستان کی حالت زار بھی بہتر کی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں