01:47 pm
سپریم کورٹ میں دلچسپ صورتحال،کورٹ روم میں ایسا شخص داخل ہوا

سپریم کورٹ میں دلچسپ صورتحال،کورٹ روم میں ایسا شخص داخل ہوا

01:47 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آج سپریم کورٹ کے ایک بنچ کے سامنے قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو اس وقت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ جب قتل کے ملزم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کا نام استغفر اللہ کہہ کر پُکارا گیا۔ جس پر عدالت میں سب کے ہونٹوں پر ہنسی بکھر گئی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں باجوڑمیں قتل کے ملزم کی ضمانت کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی جس کی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔عدالت کے فاضل جج کی جانب سے استغفر اللہ نامی وکیل سے سوال کیا گیا
کہ آپ کس کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے ہیں تو وکیل استغفر اللہ نے بتایا کہ وہ ملزم سلمان کی جانب سے پیش ہوئے ہیں جس کے خلاف قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔جس پرسُپریم کورٹ کے فاضل جج نے شگفتہ انداز میں کہا کہ آپ کا نام بہت اچھا ہے۔ میں اس لیے بھی آپ کا نام لے کر پُکارتا ہوں ہوں کیونکہ آپ کے نام استغفر اللہ سے ہمارے گناہ گناہ جھڑتے ہیں۔فاضل جج کے ان ریمارکس سے بھی عدالت میں موجود تمام حاضرین خوب لطف اندوز ہوئے۔ وکیل استغفر اللہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے عالم زیب کی جانب سے پیش ہوئے تھے۔ وکیل نے بتایا کہ اُن کے موٴکل کی قتل کے ایک مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے درخواست ضمانت خارج کر دی تھی تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے عالم زیب کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سُنایا تھا۔ تاہم مخالف فریق کی جانب سے ملزم کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔وکیل صفائی عدالت کو بتایا کہ کیس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا،ٹرائل کورٹ نے ضمانت کی درخواست خارج کی،ہائی کورٹ نے ملزم کو ضمانت پررہا کردیاتھا، سپریم کورٹ نے باجوڑمیں قتل کے ملزم کی ضمانت کیخلاف درخواست خارج کردی اورہائی کورٹ کا ضمانت کا فیصلہ برقراررکھا۔

تازہ ترین خبریں