04:17 pm
سابق چیف جسٹس کا ایک فیصلہ پاکستان کوآئی ایم ایف کی کُل امداد کے برابر جرمانہ کروایا گیا

سابق چیف جسٹس کا ایک فیصلہ پاکستان کوآئی ایم ایف کی کُل امداد کے برابر جرمانہ کروایا گیا

04:17 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی بینک کے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس نےفیصلہ سنا دیا، پاکستان کو ہرجانے کی 5.976 ارب ڈالر کی رقم چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کو ادا کرنا ہوگی، پاکستان عالمی بینک کے ٹربیونل کے ہرجانے کے فیصلے کو چیلنج کرے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کیس میں پاکستان پر ہرجانے کا معاملے میں عالمی بینک کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔
عالمی بینک کے ٹریبونل کا فیصلہ 700 صفحات پر مشتمل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ہرجانے کی رقم چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کو ادا کرنا ہوگی۔ پاکستان کو ریکوڈک ہرجانہ کیس میں چلی کی کمپنی کو5.976 ارب ڈالردینے ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان عالمی بینک کے ٹربیونل کے ہرجانے کے فیصلے کو چیلنج کرے گا۔ ذرائع وزارت قانون نے بتایا کہ اکیسڈ کا فیصلہ پاکستان کوموصول ہوگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واضح رہے ٹیتھیان کمپنی نے پاکستان سے 16ارب ڈالر ہرجانہ وصول کرنے کا دعو یٰ کیا تھا۔ پاکستان ہرجانے کی رقم 16 ارب سے کم کرا کر6 ارب ڈالرلانے میں کامیاب ہوگیا۔ سپریم کورٹ نے2011ء میں ٹیتھیان کمپنی کا لائسنس منسوخ کردیا تھا۔ ٹیتھیان کمپنی کو سونے، تانبے کے ذخائرکی تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل کا فیصلہ گزشتہ روز حکومت پاکستان کو بھجوایا گیا۔ عالمی بینک کے ٹریبونل کا فیصلہ 700 صفحات کے فیصلے میں پیرا گراف نمبر171میں ڈاکٹر ثمرمبارک کی گواہی کا حوالہ بھی ہے۔ ڈاکٹرثمرمبارک نے گواہی دی ریکوڈک سے اڑھائی ارب ڈالرسالانہ سونا برآمد ہوگا۔ ڈاکٹر ثمرمبارک مند نےگواہی دی ریکوڈک سےمجموعی طورپر131ارب ڈالر ملیں گے۔ڈاکٹرثمرمبارک مند ٹریبونل میں حکومت پاکستان کےماہرکےطورپرپیش ہوئے۔ ٹیتھیان کمپنی نےعدالتی فیصلے کے خلاف عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔واضح رہے کہ پاکستان کو عالمی ادارہ برائے سرمایہ کاری سیٹلمنٹ کی طرف سے ہونے والے 4.7 ارب ڈالرز جرمانے کے ذمہ دار سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری نکلے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے غلط فیصلوں نے پاکستانی معیشت کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ۔تفصیلات کے مطابق بارک اینڈ انٹوفاگاسٹا نے بلوچستا ن میں اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے کی گئی معاہدے کی خلاف ورزی پر عالمی ادارہ برائے سرمایہ کاری سیٹلمنٹ میں کیس دائر کردیا تھا ۔ یہ دونوں کمپنیاں اپنا کیس اس لیے عالمی ادارہ برائے سرمایہ کاری سیٹلمنٹ لے کر گئیں تھیں کیونکہ ان دونوں کپمنیوں کا دعویٰ تھا کہ حکومت پاکستان نے کیے گئے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔ اس معاملے کی سنگینی سے متعلق افتخار چوہدری کو کئی مرتبہ آگاہ کیا گیا لیکن انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی اور لاپرواہی کا ثبوت دیا.میڈیا ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کو 4 ارب ڈالرز جُرمانہ کیا گیا اور پاکستان نے اس جرمانے کے علاوہ مزید 70 کروڑ ڈالرز سود کی مد میں‌ ادا کرنے ہیں۔

تازہ ترین خبریں