04:01 pm
برطانوی اخبار نے عمران خان اور شہزاد اکبر کے کہنے پر جھوٹی خبر چھاپی

برطانوی اخبار نے عمران خان اور شہزاد اکبر کے کہنے پر جھوٹی خبر چھاپی

04:01 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے زلزلہ متاثرین کے فنڈز میں مبینہ چوری سے متعلق برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کی خبر پر اخبار، وزیراعظم عمران خان اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈیلی میل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے,
خود ساختہ اور گمراہ کن خبر عمران خان اور شہزاد اکبر کے ایما پر چھاپی گئی، ہم ان دونوں حضرات کی خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ ویسے، عمران خان صاحب آپ کو ابھی میری جانب سے کیے گئے 3 ہتک عزت کے دعوں کا جواب بھی دینا ہے! ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ بے بنیاد خبر سے ساکھ کونقصان پہنچایا گیا، پگڑیاں اچھالنے والوں کوقانون کے کٹہرے میں جواب دینا ہوگا۔جھوٹی خبر دینے پر برطانوی اخبارکے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح مریم اورنگزیب نے اخبار کی خبر میں ذکر کردہ 2005ء سے 2012ء کی مدت پراہم سوال اٹھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2005ء سے2007ء تک شہبازشریف ملک بدر تھے۔ اس دوران پرویزمشرف کی حکومت تھی۔ 2008ء میں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے، وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ایرا وفاق کے ماتحت تھا۔ زلزلہ کشمیراور کےپی میں آیا تو پیسے پنجاب میں شہبازشریف کیسے کھا رہا تھا؟ دوسری جانب برطانوی اخبار ڈیلی میل کے صحافی نے مسلم لیگ ن کی جانب سے خبر کی تردید کرنے پر اپنے ردعمل میں شہبازشریف سے متعلق میری خبرپرڈی ایف آئی ڈی کی تردید قابل ذکر نہیں۔ صحافی ڈیوڈ روز نے کہا کہ ڈی ایف آئی ڈی کی وضاحت کا حوالہ میں اپنی خبرمیں دے چکا ہوں۔یہ دعویٰ کیا گیا کہ میں نے اپنی خبر میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ میری خبرپڑھیں،اس میں سارے ثبوت بھی موجود ہیں۔ صحافی نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ میری جوتصویر دکھائی گئی وہ گزشتہ سال کی ہے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ برطانوی صحافی نے سسلین مافیا کے دعوؤں کومسترد کردیا۔ برطانوی صحافی بکاؤ مال نہیں جو ن لیگ کی جھوٹی خبروں کا دفاع کرے گا۔مریم اورنگزیب نے برطانوی اخبار کی خبر میں ذکر کردہ 2005 سے 2012 کی مدت پر اہم سوال اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ 2005 سے 2007 تک شہبازشریف ملک بدر تھے اور اس دوران پرویز مشرف کی حکومت تھی۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف دسمبر 2008 میں وزیراعلی پنجاب بنے اور اس وقت وفاق میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، زلزلہ کشمیر اور خیبرپختونخوا میں آیا تو پیسے پنجاب میں شہباز شریف نے کیسے کھائے۔مریم اورنگزیب نے برطانوی اخبار کی خبر کی تردید کرتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد اور پروپگینڈہ مہم قرار دیا۔

تازہ ترین خبریں