10:32 am
عمران خان کی حکومت نے مُردوں کو دفنانے پر بھی بھاری ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا

عمران خان کی حکومت نے مُردوں کو دفنانے پر بھی بھاری ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا

10:32 am

لاہور (امانیٹرنگ ڈیسک) عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بعد بھی حکومت کو کسی طور چین نہ آیا جس کے بعد اب قبروں پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے اپنے زیرِ انتظام آنے والے قبرستانوں میں ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز منظوری کے لیے لوکل گورنمنٹ کو بھجوا دی ہیں۔زیر غور تجاویز میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹیکس سے اکٹھی ہونے والی رقم کو قبرستانوں کی دیکھ بھال کے لیے خرچ کیا جائے گا۔ عام طور پر قبرستان میں جگہ کا کرایہ اور تدفین کے انتظامات ملا کر تقریبا 10 ہزار تک اخراجات آتے ہیں لیکن اب یہ ٹیکس بھی عوام کو دینا پڑے گا۔ اس حوالے سے باقاعدہ ایک مراسلہ بھجوایا گیا
جس کے تحت قبرستانوں پر ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ کمیٹی کی صدارت چئیرمین کریں گے جس میں باقاعدہ تدفین کے گھنٹے سمیت فاتحہ خوانی کرنے والوں کےلیے بھی وقت مقرر کیا جائے گا۔ اس مراسلے کے مطابق بچوں کی قبر پر ایک ہزار روپے اور بڑوں کی قبر پر 1500 روپے ٹیکس عائد ہوگا۔ جبکہ قبروں پر فاتحہ خوانی کرنے والے افراد صبح ساڑھے 8 بجے سے شام ساڑھے 5 بجے تک قبرستان آسکیں گے اور مقررہ وقت کے بعد قبرستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کمیٹی قبر کی گہرائی، لمبائی اور چوڑائی کا بھی تعین کرے گی۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے نیا قانون 2019ء بنا کر ہماری حیثیت ختم کر دی ہے اور قانون کے سیکشن 316، 17 اور 18 میں یہ واضح ہے کہ منتخب لوکل گورنمنٹ ہی کوئی نیا ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمشنر یہاں ایڈمنسٹیٹر ہیں، جن کے ماتحت کارپوریشن کے آفیسرز نے یہ مضحکہ خیز تجاویز بنائی ہیں جو کہ ہر لحاظ سے غیر مناسب ہیں۔ لاہور میں قائم تین بڑے قبرستان محکمہ اوقاف کے زیرِ انتظام ہیں جبکہ بقیہ تمام قبرستان مقامی افراد خود چلاتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں ''شہر خاموشاں'' کے نام سے ایک اتھارٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے لاہور میں دو بڑے قبرستان بنائے۔ یہ اتھارٹی جسد خاکی کو گھر سے قبر میں دفنانے تک کا کام بلا معاوضہ کرتی ہے۔ دوسری جانب ان تجاویز پر عالم دین مفتی نعیم نے اظہار افسوس کیا اور کہا کہ مُردوں پر ٹیکس لگانا بہت بڑا ظلم ہے ۔غریب یا لاوارث شخص جس کے لیے کفن دفن کے اخراجات پورے کرنا ممکن نہیں ہوتا اس کے لیے ان تجاویز کی منظوری کے بعد مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی جانب سے لوکل گورنمنٹ کو بھجوائی جانے والی ان تجاویز کی سختی سے مخالفت کی اور کہا کہ ایسی تجاویز کو ہرگز منظور نہیں کیا جانا چاہئیے۔

تازہ ترین خبریں