03:36 pm
وزیراعظم عمران خان نےملاقات کےدوران ایسی پیشکش کردی کہ ٹرمپ بھی منہ تکتے رہ گئے

وزیراعظم عمران خان نےملاقات کےدوران ایسی پیشکش کردی کہ ٹرمپ بھی منہ تکتے رہ گئے

03:36 pm

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں، بھارت جوہری ہتھیار ترک کر دے تو پاکستان بھی ایٹمی ہتھیار ترک کردے گا. انہوں نے امریکی ٹی وی چینل سے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھے، امریکہ اور ایران کشیدگی سے پاکستان پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور خطے کا امن اور معیشت متاثر ہونے کا خطرہ ہے.انہوں نے کہا ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں
‘پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں، ایک ارب سے زائد آبادی والا یہ خطہ جنگوں سے پہلے ہی متاثر ہے. انہوں نے کہا کہ خطے میں مکمل امن اور خوشحالی چاہتے ہیں، ایٹمی ہتھیار کسی مسئلے کا حل نہیں‘عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے، امریکہ واحد ملک ہے جو پاکستان اور بھارت میں ثالثی کرا سکتا ہے.انہوں نے کہا کہ 72 سال سے حل طلب مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں، مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت مہذب ہمسائے کی طرح رہ سکتے ہیں‘عمران خان نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لیے ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں، بھارت جوہری ہتھیار ترک کر دے تو پاکستان بھی ترک کردے گا. انہوں نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج پیشہ ور اور ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے، پاکستان کا انتہائی جامع اور موثر جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم موجود ہے.ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ امریکا شکیل آفریدی کی بات کرتا ہے تو ہم عافیہ صدیقی کا مسئلہ بھی اٹھائیں گے، قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں امریکا سے بات ہو سکتی ہے‘خطے میں دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی رہے ہیں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں.وزیراعظم نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں، افغانستان کے امن اور استحکام میں پاکستان کو سب سے زیادہ دلچسپی ہے کیونکہ ہمسایہ ملک میں بدامنی سے براہ راست پاکستان پر اثرپڑتا ہے. انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 1500 کلو میٹر طویل سرحد ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے امن لانے کی کوششوں پر زور دیا.انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر پیش رفت ہوئی، طالبان کے ساتھ حالیہ امن مذاکرات اب تک کے کامیاب ترین مذاکرات رہے ہیں. عمران خان نے کہا کہ طالبان کو حکومت کا حصہ بن کر عوام کی نمائندگی ملنی چاہئے، افغان طالبان افغانستان کے باہر کارروائیاں نہیں کرتے‘وزیراعظم نے کہا کہ امریکا نے چار دہائیوں تک افغانستان میں جنگ لڑی، مگر افغانستان میں امن و استحکام قائم نہیں ہو سکا، گزشتہ 19 برس کے دوران امریکا نے افغانستان میں امن کے لیے کردار ادا کیا ہے مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں.ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ داعش پاکستان، امریکہ اور افغانستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے‘وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ صدر ٹرمپ صاف گو انسان لگے جو لفظوں کی ہیرا پھیری نہیں کرتے، میرا پورا وفد بھی میٹنگ سے بہت خوش ہے. انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کردار ادا کرنا چاہتے ہیں.دریں اثناءامریکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت پاکستان امریکی سرماریہ کاروں کو پاکستان میں ہرممکن تعاون فراہم کرے گی‘پاکستانی سفارت خانے میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق معاملات پر گفتگو ہوئی. وزیراعظم عمران خان نے بزنس ایگزیکٹو کے وفد کو نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کیا۔وزیراعظم نے کاروبار میں آسانی کے لیے حکومت کے حالیہ اقدامات سے بھی آگاہ کیا.وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ حکومت امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں ہرممکن تعاون فراہم کرے گی، جس پر وفد کی جانب سے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا گیا. پاکستانی سفارت خانے میں ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کو امریکی کمپنیوں کے سرمایہ کاری اور بزنس پلان سے بھی آگاہ کیا گیا.

تازہ ترین خبریں